ایک زبان میں یاتریوں پر حملے کی مذمت

سرینگر// مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ  اہلیان وادی کی یاتریوں پر حملے کی مذمت سے پورے دنیا کا کشمیر کی جامع ثقافت (کشمیریت) پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ جتندر سنگھ نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے اس حملے میں لشکر کا ہاتھ قرار دیا ہے تاہم تحقیقات جاری ہے۔ وزیر مملکت برائے امور داخلہہنس راج اہر کا کہنا تھا کہ سیکورٹی ایجنسیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مل بیٹھ کر دیکھیں کہ کہیں کوئی سیکورٹی خامی موجود تو نہیں ہے۔ڈاکٹرجتندرسنگھ اورمرکزی وزیرمملکت ہنس راج اہرنے ایس کے آئی سی سی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ یہ بات اطمینان بخش اورحوصلہ افزاء ہے کہ کشمیری سماج سے تعلق رکھنے والے ہرطبقے اورحلقے بشمول جنگجوگروپوں تک نے امرناتھ یاتریوں پرہوئے حملے اور7یاتریوں کی ہلاکت کے دلدوزواقعے کی مذمت کی ہے۔
ڈاکٹر جتندر سنگھ
 امرناتھ یاتریوںکے ہلاک ہونے کے بعد وادی کے ہنگامی دورے پر وزیر اعظم دفتر کے انچارج وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے جس طرح  یاتریوں کے ہلاکت خیز واقعے پر اپنی رائے کا اظہار کیا اس سے کشمیر کے کثیر الجہتی ثقافت پر اعتباریت بحال ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا’’  میں کشمیری عوام،سیول سوسائٹی حتیٰ کہ ریاستی عوام کی طرف سے گزشتہ25برسوں سے اپنائے گئے نظم و ضبط اور لچکدار رویہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں‘‘۔انہوں نے کہا کہ کچھ ایسے عناصر ہیںجو  ہمیشہ اس بات کے انتظار میں رہتے ہیں کہ مشکلات کے دوران وہ اپنے مفادات کی تکمیل کریں،تاہم سیول سوسائٹی نے ان فسادات کو ہمیشہ ختم کیا۔ جتندر سنگھ نے کہا’’ انہوں نے بھارت کے کشمیر پر ہرموقف کی تائید کی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح وادی کے عوام نے اس حملے کی مذمت کی،اس کیلئے وہ مبارکبادی کے مستحق ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا’’ لوگ نہ صرف اس واقعے پر مذمت کیلئے آگے آئے بلکہ یہ صاف کیا کہ اس طرح کے واقعات کیلئے کشمیر میں آئندہ کوئی بھی جگہ موجود نہیں ہے اور قصورواروں کو سزا دی جانی چاہیے۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ پہلے یہ شکایت کی جاتی تھی کہ کشمیر میں منتخب مذمت کی جاتی تھی،تاہم اس بار ’’دہشت پسندانہ حملے کی جس طرح لوگوں نے مذمت کی،اس سے کشمیر کے کثیر الجہتی ثقافت پر دنیا کا اعتماد بحال ہوا۔ بی جے پی کے سنیئر لیڈر نے کہا’’ تشدد کے کچھ عمل پر صدائے احتجاج کیا جاتا ہے اور کچھ پر معذوری سے مذمت کی جاتی ہے،اور یہ ایک سانحہ تھا جس نے اس کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ اس بار اس واقعے کی مذمت میں کوئی بھی عذر پیش نہیں کیا گیا،جبکہ لوگ اس بات کے متمنی بھی تھے کہ ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ متحدہ جہاد کونسل کی طرف سے اس کارروائی کی مذمت کو صحت مند قدم قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ اس حملے میں ایک اچھی چیز جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ کسی بھی شخص نے اس حملے کی مذمت کیلئے عذر پیش نہیں کیا۔ جتندر سنگھ نے کشمیری نوجوانوں کے جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہونے کے بارے میں بتایا کہ کشمیری سماج کو اس بارے میں رول ادا کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے ذمہ دار اشخاص ، مذہبی لیڈروں ، سماجی کارکنوں او ر والدین کو بچوں اور معصوم نوجوانوں کی کونسلنگ کرکے انہیں سنگبازی کرنے یا جنگجو بننے سے روکنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا  کہ اس واقعے پر کسی بھی حتمی نتیجہ پر پہنچنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ معاملہ سیکورٹی فورسز اور دفاعی ماہرین پر چھوڑ دینا چاہے ۔جتندر سنگھ نے کہا ’’ سیکورٹی ایجنسیوں کی تحقیقات کا انتظار کیا جانا چاہے،اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس میں پیش رفت ہو،جبکہ ہم جواب بھی تلاش کرینگے اور اس سے سیکھ بھی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یاترا کو سلامتی کے ساتھ اختتام پذیر کرنے کیلئے اعلیٰ طریقہ کار اور ضمنی اقدامات اٹھانے کا معاملہ بھی زیر غور ہے جس کے دوران انتباہی گجیٹوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس حملے کے پیچھے لشکر طیبہ ہے،تاہم تحقیقات چل رہی ہے۔انہوں نے ریاستی پولیس کی اس بارے میں سراہنا کی کہ انہوں نے صرف2گھنٹوںکے اندر ہی اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کی نشاندہی کی۔
 ہنس راج اہر
 وزیر مملکت برائے امور داخلہ ہنس راج اہر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ یاترا کیلئے خاطر خواہ سیکورٹی انتطامات کئے گئے تھے لیکن اس کے باوجود اگر ابھی بھی کوئی خامی یا کمزوری پائی جائیگی تو اس کو دور کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ یاتریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اب سیکورٹی فورسز کے دستے جموں سے پہلگام اور بالہ تل تک شبانہ گشت کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سر نو جائزہ لے کر ممکنہ طور موجود کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کریں ۔ وزیر مملکت  نے یاتریوں کی ہلاکت سے پیدا شدہ صورتحال کے دوران وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے رول کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یاتریوں کے ساتھ وقت گزارا اور رات بھر زخمی یاتریوں کی دیکھ بال کرتی رہیں ۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ جس انداز میں ریاستی وزیر اعلیٰ نے صورتحال کا مقابلہ کیا اور سوگواران کے ساتھ وقت گزارا ، وہ ایک اچھی علامت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک نے دیکھا کہ ایک وزیر اعلیٰ نے کیسے صورتحال کا سامنا کیا اور کیسے اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیں ۔ مرکزی وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ زخمی یاتریوں کو اپنی ریاستوں تک پہنچانے کیلئے وزیر اعظم نریندرمودی نے فوری سفری انتظامات کروائے جبکہ 2 زخمیوں کو صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں داخل کرایا گیا ، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے ۔ مرکزی وزیر مملکت نے یاتریوں پر ہوئے حملے کے بعد سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے مختلف سیکورٹی حکام کے ساتھ ہوئی میٹنگوں کے تناظر میں بتایا کہ اس دوران یہ فیصلہ لیا گیا کہ یاتریوں کی حفاظت کیلئے سیکورٹی دستے رات بھر ڈیوٹی انجام دیتے رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر جموں شاہراہ اور امرناتھ گھپا کی جانب جانے والی دیگر سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ اس بات کی سخت ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ کسی بھی غیر مستند گاڑی یا یاتری کو کسی بھی صورت میں سفر کی اجازت نہ دی جائے ۔