ایک دن کی تاخیر کے بعدعازمین کی واپسی کا سلسلہ شروع

سرینگر// سفر محمود پر روانہ ہونے والے حجاج کی واپسی کا سلسلہ جمعہ کو باضابطہ طور پر شروع ہوا۔پہلے دن 1204  عازمین پر مشتمل پہلا قافلہ وادی لوٹ آیا۔واضح رہے کہ امسال حج کی سعادت حاصل کرنے کے دوران ریاست کے 8عازمین فوت ہوئے ۔حجاج کا پہلا قافلہ اگرچہ جمعرات کو ہی وادی لوٹنے والا تھا، تاہم420عازمین کو لیکر آرہا پہلا طیارہ خراب روشنی کے باعث سرینگر کے شیخ العالم ؒ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نہیں اُتر سکا اور قریب25منٹ تک فضا میںپروازکرنے کے بعد طیارہ واپس دلی روانہ ہوا۔اس موقعے پرائر پورٹ پر موجود حجاج کے رشتہ دارمشتعل ہوئے اور انہوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے بھی کئے جس دوران حکومت کے خلاف اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے گئے ۔حجاج کی دوسری پرواز میں بھی420حجاج سوار تھے اور اسے دلی میں ہی روک دیا گیا۔تاہم جمعہ کی دوپہر تک ان حجاج کو تین پروازوں کے ذریعے سرینگر پہنچایا گیا۔اس دوران پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق 420حجاج کرام کی ایک اور پرواز جمعہ کی شام4بجے سرینگر کے ہوائی اڈے پر اتری جبکہ دوسری پروا ز کی آمد کے امکانات معدوم تھے۔ائر پورٹ پر ریاست کے وزیر مال عبدالرحمان ویری اور ڈویژنل کمشنرکشمیربصیر احمد خان کے علاوہ انتظامیہ ،پولیس اور ریاستی حج کمیٹی کے دیگر سینئر افسران نے حاجی صاحبان کو پھولوں کے گلدستے پیش کرکے ان کاوالہانہ استقبال کیا۔ امسال حج کا فریضہ انجام دینے کے دوران ریاست کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے8عازمین سعودی عرب میں ہی انتقال کرگئے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ان حجاج کے نام بشیر احمد شیخ ساکن مہاراجہ بازار سرینگر، عبدالرحمان لون ٹنگمرگ، بشیر احمد صوفی وترہیل بڈگام، غلام محمد بٹ بیروہ بڈگام، مسماۃ خاطی کھمبر حضرت بل سرینگر، عبدالسلام وانی اچھہ بل اننت ناگ، نذیر احمد چستی باغات کنی پورہ سرینگر، خورشیدہ بیگم گندوہ ڈوڈہ کے بطور معلوم ہوئے ہیں۔ان میں سے دو حجاج سڑک حادثوں کے دوران جاں بحق ہوئے جبکہ دیگر6کی قدرتی موت واقع ہوئی۔