ایک اور ماں کی پکار رنگ لائی

 سرینگر/بلال فرقانی/پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ماں کی پکار نے پھر سے رنگ لایا اور ایک نوجوان نے بندوق کا راستہ ترک کر کے گھر کی راہ لی ہے۔پولیس ذرائع سے معلوم ہواہے کہ گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوان کا تعلق جنوبی کشمیر سے ہے اور وہ ا پنے خاندان اور دوستوں کی دردمندانہ اپیل پرواپس اپنے گھر لوٹ آیا ہے تاہم پولیس نے گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوان کی مکمل شناخت ظاہر کرنے سے معذرت کردی  ہے۔پولیس ترجمان نے اس سلسلہ میں بتایا’’جنوبی کشمیر میں افراد خانہ اور دوستوں کی درمندانہ اپیل پر ایک اور نوجوان واپس گھر لوٹ آیا ہے،ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اسے ہرممکن تعاون کا یقین دلاتے ہیں‘‘۔ پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے سماجی رابطے کی وئب سائٹ ٹویٹرپر یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا’’ایک اور ماں کی پکار رنگ لائی‘‘۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہا’’عسکریت کا راستہ اختیار کرنے والے ایک نوجوان نے گھرواپسی اختیارکی،خدا اس کنبے کا بھلا کرے اور دوسروں کو بھی راستہ دکھائے‘‘۔ خانیار سرینگر سے تعلق رکھنے والے نوجوان فہد مشتاق وازہ کی بندوق ہاتھ میں لئے تصویر سوشل میڈیا پر عام ہونے کے بعد ایک روز بعد نوجوان کی ماں نے بیٹے کو گھر واپس لوٹ آنے کی اپیل کی۔فہد کی ماں میمونہ بیگم نے روتے بلکتے اپنے بیٹے کو گھر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔