ایک اور غیر مقدس اتحاد کے تشکیل کی تیاری

  سرینگر //کانگریس کے سینئر لیڈراور سابق ممبر پارلیمنٹ طارق حمید قرہ نے کہا کہ پی ڈی پی سے منحرف اراکین اوربی جے پی  کے درمیان ریاست میں ایک اور غیر مقدس اتحاد تشکیل پانے جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت سازی کے لیے ممبران اسمبلی کو بھاری رقومات کے عوض خریدنے کی مہم زوروں پر ہے اور ممکنہ طور پر امرناتھ یاترا کے مابعد ریاست میں حکومت تشکیل پاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی میں اندرونی انتشار سامنے آنے کے بعد یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے جو ممکنہ طور پر بی جے پی کو حمایت دے کر امر ناتھ یاترا کے بعد حکومت تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف عمل دکھائی دے رہے ہیں۔ طارق حمید قرہ نے بتایا کہ میں نے سال 2015اور حال ہی میں24جون 2018کو واضح کردیا  تھاکہ پی ڈی پی پتوں کی طرح بکھر جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی نے عوامی منڈیٹ کے ساتھ دھوکہ کرتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ غیرمقدس اتحاد کرتے ہوئے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار دی جس کے نتیجے میں آج پی ڈی پی تقسیم در تقسیم ہوکر رہ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ جس مقناطیس کی وجہ سے دونوں جماعتیں ابھی تک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی تھی وہ بھی اب ان موقعہ پرست سیاست دانوں کو ساتھ رکھ نہیں پایا۔ انہوں نے بتایا کہ شمال اور جنوب کے ملن کا راگ الاپنے والوں کو ابھی بہت کچھ سوالات اور کٹھن وقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ جنوب و شمال کا فلسفہ سامنے والوں کی یہ آخری بازی ثابت ہوگی۔طارق حمید قرہ نے کہا کہ میں نے گزشہ ماہ 24جون 2018کو ایک ٹویٹ کے دوران کہا تھا کہ مرحوم مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی کے سب سے زیادہ وفاداری کے گیت گانے والا شخص بی جے پی کے ساتھ ایک اور غیر مقدس اتحاد امر ناتھ یاترا کے بعد عمل میں لانے جارہا ہے اور وہ وفادار شخص یہ اتحاد بھاری رقم کی لالچ میں کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بند پروگرام کے تحت عمل میں لایا جارہا ہے اور اس مذموم عمل کے تحت ممبران اسمبلی علیحدہ میٹنگ منعقد کرکے پارٹی صدر اور قائد محبوبہ مفتی کو بے اختیار کردیں گی، اور ممکنہ طور پر محبوبہ مفتی کے قریبی ہی ان کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھائیں گے۔