ایڈوکیٹ میاں قیوم کی دلی طلبی

سرینگر//تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی طرف سے سرکردہ قانون داںایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کو نوٹس اجرا کرنے کے بعد جموں کشمیر بار ایسو سی ایشن نے چیف جسٹس آف انڈیا کے نام 9نکات پر مشتمل مکتوب روانہ کیا ہے،جس میں انہیں اس طرح دہلی طلب کرنے پر اعتراض کیاگیا ہے،جبکہ اس مکتوب کی نقل ریاستی وزیر اعلیٰ،نیشنل کانفرنس کے صدر،ریاستی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ سمیت دیگر ریاستوں کی بار ایسو سی ایشنوں کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھی ارسال کی گئی ہے۔ بار ایسو سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کو ایک کیس کے سلسلے میں این آئی ای کی طرف سے دہلی ہیڈکواٹر طلب کرنے کے بیچ وکلاء کی ہڑتال کے بعد بار ایسو سی ایشن نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس کو خط روانہ کیا ،جس میں بار ایسو سی ایشن کی طرف سے ہڑتال پر جانے کے وجوہات کی جانکاری دی گئی۔ مکتوب میں کہا گیا ہے’’ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کو ایک کیس میں بطور گواہ این آئی اے نے دہلی ہیڈ کوارٹر پر طلب کیا ہے،تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے بغیر بھی بہت کچھ ہے جو صاف نظر آرہا ہے‘‘۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ نوٹس160سی آر پی سی کے تحت اجرا کی گئی ہے،جس کی رو سے اگر گواہ15سال کی عمر سے کم یا65سال کی عمر سے زیادہ ہو تو اس سے اس کی رہائش گاہ پر بھی بیان قلمبند کیا جاسکتا ہے، اور بار ایسو سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم65سال سے زیادہ عمر کے ہیں اوراس رو سے وہ رعایت حاصل کرسکتے تھے،تاہم وہ اپنے8ساتھیوں سمیت رضا کارانہ طور پر این آئی اے کے پاس پیش ہوئے،کیونکہ ان کے پاس ایسا کچھ نہیں ہے،جس کو وہ چھپانا چاہتے ہیں۔ایسوسی ایشن نے مزیدکہاکہ این آئی اے کی جانب سے میاں قیوم کوسمن بھیجناہی غلط تھا،اسلئے اس معاملے کانوٹس لیاجاناچاہئے ۔9نکات پر مشتمل مکتوب میں ایسوسی ایشن نے مزیدکہاکہ ایڈوکیٹ میاں قیوم کشمیری عوام کی آوازرہے ہیں ،کیونکہ انہوں نے ہمیشہ کشمیرمسئلے سے متعلق حق گوئی سے کام لیا،ہلاکتوں ،گمشدگیوں اورحقوق انسانی پامالیوں کیخلاف آوازبلندکی ،اورمسئلہ کشمیرکے پُرامن سیاسی حل کیلئے بھی موصوف محوجدوجہدرہے ہیں ۔ایسوسی ایشن نے این آئی اے کی مہم کوہراسانی کاایک حربہ قراردیتے ہوئے اسبات پرتشویش کااظہارکیاہے کہ کشمیری مزاحمتی لیڈروں ،وکیلوں اورتاجروں وغیرہ کومیڈیاٹرائل کے ذریعے بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے ،اوراسی میڈیاٹرائل کی بنیادپراین آئی اے نے کشمیریوں کیخلاف اپنی مہم چھیڑرکھی ہے۔میاں قیوم کیخلاف عائدکردہ الزامات اورمیڈیاٹرائل کوگمراہ کن قراردیتے ہوئے بارنے سوال کیاہے کہ کیاسینئرترین وکیل کے پاس رہنے کیلئے مکان اوردیگرکچھ پراپرٹی نہیں ہوسکتی ہے۔اس دوران اس مکتوب کی کاپیاں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی،مرکزی وزیر قانون،ریاستی وزیر قانون، سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ،ریاستی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس،جسٹس راما لنگم سدھاکر،جسٹس محمد یعقوب میر،جسٹس علی محمد ماگرے،سپریم کورٹ  بار ایسو سی ایشن،ہائی کورٹ بار ایسو س ایشن گواہ،اندھرا پردیش،ارناچل پردیش،بہار،چھتیس گڑ،گجرات،آسام،ہماچل پردیش،جھارکھنڈ،کرناٹکا،مدھیہ پردیش،کیرالہ،کرناٹک،مہاراشترا،منی پور،میگالیہ،میزورم، پنجاب،ناگالینڈ ،اڈیسہ،راجھستان،سکم،،تامل ناڈو،تلنگانہ،تری پورہ،اتر پردیش،مغربی بنگال،نئی دہلی کے علاوہ ایمننسٹی انٹرنیشنل کے نام  ارسال کی گئی ہیں ۔ادھرجمعرات کی صبح وادی کی وکلاء برادری کی نمائندہ تنظیم کے ذمہ داروں کی ایک ہنگامی میٹنگ ہائی کورٹ احاطہ میں منعقدہوئی ۔میٹنگ میں بارایسوسی ایشن کے صدرایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کواین آئی اے کی جانب سے دلی طلب کرکے وہاں اُن سے طویل پوچھ تاچھ کامعاملہ زیرغورلایاگیا۔ایسوسی ایشن کے ذمہ داروں نے میٹنگ کے دوران اسبات پراطمینان کااظہارکیاکہ این آئی اے مہم کیخلاف ایسوسی ایشن کی کال پروادی کی وکلاء برادری نے اتحادواتفاق کاعملی مظاہرہ کیا۔انہوں نے مزیدکہاکہ این آئی اے کی مہم جوئی کیخلاف وادی بھرکے وکلاء 8ستمبرتک عدالتوں کے کام کاج کابائیکاٹ جاری رکھیں گے ۔ایسوسی ایشن نے وادی بھرکے وکلاء سے اپیل کی کہ وہ احتجاجی کام چھوڑہڑتال جمعہ کے روزبھی جاری رکھیں ۔