ایوان میں دھینگا مشتی،طعنہ زنی، تلخ کلامی اور ہنگامہ آرائی

سرینگر// اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے دونوں ایوانوں میں اشیاء اور خدمات ٹیکس معاملے پرحزب اختلاف اور حزب اقتدار اراکین کے درمیان دھینگا مشتی اور الزامات و جوابی الزامات کی پوچھاڑ کی گئی۔کئی بار دونوں ایوانوں کی کارروائی معطل بھی کرنا پڑی۔ ایوان میں انجینئر رشید کو مارشل اوٹ بھی کیا گیا جبکہ انتہائی شدت سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔اسمبلی کی کاروائی کے شروع ہونے کے ساتھ ہی نیشنل کانفرنس کے ممبران اسمبلی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ اپوزیشن ممبران نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے انہیں دہلی کے ’’دلال‘‘ قرار دیا جبکہ کہا کہ وہ ریاست میں اس قانون کا اطلاق نہیں ہونے دینگے۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی موجودگی میں شروع ہوئی ہنگامہ آرائی کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی معطل کی۔11بجکر48منٹ پر دوبارہ ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے بعدوزیرخزانہ ڈاکٹرحسیب درابونے جی ایس ٹی کے اطلاق سے متعلق مخلوط سرکارکی مرتب کردہ قراردادایوان میں پیش کی ۔
انجینئر،بیگ تـکرار
 ایوان اسمبلی اس وقت مچھلی بازار میں تبدیل ہوگیاجب انجینئر رشید اور پی ڈی پی ممبر اسمبلی جاوید بیگ کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی اور دونوں ایک دوسرے پر طعنہ زنی پر اتر آئے۔نیشنل کانفرنس کے محمد شفیع اوڑی،جی ایس ٹی قرار داد پر خطاب کر رہے تھے، جس کے دوران انہوں نے علامہ اقبال ؒ کا آدھا شعر پڑھا، ’’ نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے‘‘ ،جس پر انجینئر رشید نے ان سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر جرات ہے تو پورا شعر پڑھیں۔ جاوید بیگ نے انجینئر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی پوار کریں۔اس موقعہ پر انجینئر رشید نشست سے اٹھے اور شعر پورا کرتے ہوئے کہا’’ نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے ہندوستان والو۔تمہاری داستان تک نہ رہے گی داستانوں میں‘‘۔ انجینئر کے شعر پر بی جے پی برہم ہوئی جبکہ جاوید حسن بیگ نے انجینئر رشید سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر ہمارا بس چلے تو ہم تمہیں چوراہے پر پھانسی دیں گے ۔ اس دوران انجینئر رشید نے بھرے ایوان میں آپ قوم کے غدار ہو کے نعرے بلند کئے۔انجینئر رشید آگ بگولہ ہوئے اور’’جاوید بیگ کو غدار کہہ کر پکارا‘‘۔انہوں نے کہا کہ آپ کو کشمیر میں قبرستان بھی نصیب نہیں ہوگا۔بی جے پی ممبران نے انجینئر رشید سے کلمات واپس لیکر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جبکہ انجینئر بھی جاوید بیگ اور بی جے پی ارکان کے ساتھ لڑ پڑے۔ادھر نیشنل کانفرنس کے ممبران بھی انکے حمایت میں آئے جبکہ سابق سپیکر محمد اکبر لون نے بی جے پی ممبران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’’اگر ہمت ہے تو اس کو ہاتھ لگا کر دیکھو‘‘۔ محمد الطاف وانی،جی ایم سروڑی اور عثمان مجید بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور انجینئر رشید کی مدد میں آئے ۔ انجینئر رشید اور جاوید بیگ کے درمیان سخت تلخ کلامی کے بیچ اسپیکر کویندر گپتا نے مارشلوں کو ہدایت دی کہ انجینئر کو ایوان بدر کیا جائے ۔ ایوان سے نکالے جانے کے دوران ممبر اسمبلی لنگیٹ نے کہا کہ جموںوکشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے ، یہ کسی کا اٹوٹ انگ ، کسی کی شہ رگ نہیں ہے ۔
مارشل بے ہوش ہوا
 سپیکر اسمبلی کی طرف سے انجینئر رشید کو ایوان بدر کرنے کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مارشل متحرک ہوئے اور انجینئر رشید کی نشست پر پہنچے۔مارشلوں نے انجینئر رشید کو باہر نکالنے کی کوشش کی اور جونہی وہ گیٹ کے نزدیک پہنچے تو نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی عبدالمجید لارمی برق کی ماند چھلانگ لگاکر اپنی نشست سے وہاں پہنچے اور انجینئر کو مارشلوں سے چھڑانے کی کوشش کی۔اس موقعہ پر مارشلوں اور ممبران کے درمیان سخت ٹکرائو ہوا،تاہم انجینئر رشید کو مارشلوں سے چھڑا لیا۔ ہاتھا پائی میں ایک مارشل اچانک بے ہوش ہوا،جس کو بعد میں اپنے ساتھیوں نے بے ہوشی کی حالات میں ایوان سے باہر نکالا۔
میں آپ کو گھسیٹوں گا
ایوان میں جب دوبارہ کارروائی شروع ہوئی اور نیشنل کانفرنس کے دیوندر انا’’جی ایس ٹی‘قرار داد  پر تقریر کر رہے تھے،تو کھیل کود کے وزیر عمران انصاری کے ساتھ ان کی ان بن شروع ہوئی،جس میں اتنی شدت آئی کہ عمران انصاری نے دیوندر سنگھ رانا سے مخاطب ہوکر کہا’ میں آپ کو گھسیٹوں گا‘‘۔ عمران انصاری نے کھڑے ہوکر دویندر رانا پر ایوان میں جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو اپنی ذاتی فرموں اور کمپنیوں کی جی ایس ٹی کے تحت رجسٹریشن کرادی ہے اور آپ جی ایس ٹی کے تحت اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ دیوندر رانا نے عمران انصاری سے کہا کہ میں ٹیکسوں میں گھپلے میں ملوث نہیں رہا ہوں۔ دونوں کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا دور چلنے کے دوران عمران انصاری نے طیش میں آکر دویندر رانا سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں تمہارے تمام مشکوک کاروبار سے واقف ہوں۔ عمران انصاری نے دویندر رانا سے یہ بھی کہا کہ میرا بس چلے تو اسی ایوان میں تجھے گھسیٹ دوں ۔ 
اکبر لون نعیم اختر سے الجھ پڑے
 وزیر تعمیرات نعیم اختر اور سابق اسپیکر محمد اکبر لون بھی ایک دوسرے سے اس وقت  الجھ پڑے جب یوندر رانا تقریر کر رہے تھے۔ تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر نے کچھ کہا،جو پریس گیلری میں سنائی نہیں دیا۔اس موقعہ پر نیشنل کانفرنس کے محمد اکبر لون نے نعیم اخترسے کہا کہ اس ایوان میں آپ سے بد ترین شخص کوئی نہیں ہے ۔،اور ریاست کی تمام بربادی کے موجب بھی۔