ایوان صحافت کشمیر کی موجودہ انتظامیہ کا رول غیر اطمینان بخش | لابی ازم اور ذاتی پسند و ناپسند کا اکھاڑہ :انجمن اردو صحافت جموں وکشمیر

سرینگر//انجمن اردو صحافت جموں وکشمیر نے ایوان صحافت کشمیر کی موجودہ انتظامیہ کے کام کاج پر انتہائی غیر اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ایوان کی موجودہ انتظامیہ اپنی آئینی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آں ہوکر کلب کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی بجائے ایسی سرگرمیاں انجام دینے میں لگی ہوئی ہے ،جنہوں نے کلب کے پورے نظم و نسق کو ہی مشکوک بنادیا ہے۔ اخبارات کے نام جاری ایک بیان میں انجمن اردو صحافت جموں وکشمیرکے ترجمان نے انجمن کی ایگزیکٹیو کمیٹی میٹنگ میں ہوئی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قریب ڈیڑھ برس قبل جن افراد کو صحافیوں نے ووٹ دیکر اْن کی نمائندگی کیلئے بھیجا تھا،وہ اپنے منصبی فرائض کی انجام دہی میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اورپریس کلب عملی طور لابی ازم اور ذاتی پسند و ناپسند کا اکھاڑہ بن چکا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں سبھی ممبران نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ ایوان صحافت کشمیر کے ذمہ دارنہ صرف ناقابل رسائی بن چکے ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو کسی کے سامنے جوابدہ تصور نہیں کررہے ہیں۔میٹنگ میں کہاگیا کہ کلب عملی طور غیر فعال ہوچکا ہے اور جن آرزئوں اور تمنائوں کے ساتھ صحافتی برادری نے اس وقاری ادارہ کے الیکشن عمل میں حصہ لیاتھا،وہ فوت ہوتے نظر آرہے ہیں کیونکہ تاحال کلب کے ذمہ داران کی جانب سے صحافتی برادری کی بہبود اور اْن کے تحفظ کے ضمن میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایاگیا ہے۔میٹنگ میں ان اطلاعات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیاگیا کہ اس ڈیڑھ برس میں کلب انتظامیہ نے اب قریب2برسوں سے زیر التوا ء ممبرشپ فارموں کا نپٹارا نہیں کیا ہے اور 300کے قریب درخواستیں کلب عمارت کی کسی بند الماری میں دھول چاٹ رہی ہیں۔ممبران نے ان اطلاعات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ اگر چہ چند روز قبل ایک میٹنگ میں 30 سے زیادہ ایسی درخواستیں ممبر شپ کیلئے منظور کی گئی ہیں تاہم ایسی درخواستوں کے کوائف دستیاب نہیں رکھے گئے ہیں اور نہ ہی موجودہ انتظامیہ نے شفافیت کے اعلیٰ اقداراور آئین کی پاسداری کرتے ہوئے منظور شدہ ممبر شپ کی نئی فہرست کو ایک نوٹس کے ذریعے مشتہر کرنے کی زحمت گوارا کی۔ انجمن ذمہ داروں نے کہا کہ معاملات کو صیغہ راز رکھ کر پریس کلب کی موجودہ انتظامیہ تمام معاملات کو مشکوک بنا رہی ہے اور ایسا تاثر دیاجارہا ہے کہ وہ کلب کے مالک کل بن چکے ہیں اور کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں۔ ایگزیکٹیو میٹنگ میں ویلفیئر فنڈ کے استعمال سے متعلق معلومات دبانے پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاگیا کہ اگر موجودہ انتظامیہ کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے تو انہیں کلب کے ممبران کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنی چاہئے جو اْن کا آئینی حق بھی ہے۔ انجمن نے پریس کلب کنٹین بھی اشیائے خوردونوش کی نرخوں پر بھی تحفظات کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ کلب کنٹین کا مقصد صحافیوں کو رعایتی داموں پر معیاری اشیائے خورد ونوش دستیاب رکھنا تھا تاہم کلب کے موجودہ ریٹ بازاری نرخوں کے یا تو برابر ہیں یا اس سے کہیں زیادہ ہیں اور کلب کی انتظامیہ اس ضمن میں بھی ممبران کو جواب دینا نہیں چاہتی ہے۔میٹنگ میں پریس کلب کی موجودہ انتظامیہ سے کہاگیا کہ وہ اپنے کام کاج میں شفافیت لائے اور خود کو کوئی مافوق الفطرت قوت سمجھنے کی بجائے جوابدہی کیلئے اپنے آپ کو دستیاب رکھیں کیونکہ کلب کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں ہے۔انہوں نے اپنے تمام عامل صحافی ساتھیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ دھونس دبائو کی پالیسی سے خوف کھائے بغیر موجودہ ذمہ داروں کو کلب کے وسیع تر مفاد میں جوابدہ بنائیں تاکہ کلب کا نظم ونسق بحال ہوسکے اور اْس منزل کی جانب گامزن ہو،یا جاسکے جس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایوان صحافت کشمیر کا قیام عمل میں لایاگیا تھا۔