این سی نے اندھیرے کنویں میں پھینکا تو

  سرینگر//حریت (گ) نے پی ڈی پی نائب صدر کے اس بیان پر کہ ”حریت لیڈروں کو چاہیے کہ وہ بات چیت میں شرکت کرے اگر وہ کشمیریوں کا درد محسوس کرتے ہیں“ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو نہ سہی لیکن کشمیریوں کے لیے یہ ایک مضحکہ خیز اور حقائق سے کوسوں دور بات ہے۔ کچھ لوگ غلامی اور بھیک میں ملی کرسی کی بے انتہا خوشی میں اپنی آنکھوں کے سامنے شب وروز ہورہے ظلم وجبر اور قتل وغارت کو صرفِ نظر کرکے اپنے قاتل آقاو¿ں کو امن کے علمبردار جتاتے پھرتے رہتے ہیں۔ حریت نے کہا کہ جو لوگ کشمیریوں کو قتل عام کرنے میں غاصب اور ظالم کے معاون اور مددگار بنے ہیں، وہی لوگ بڑی بے شرمی سے مظلوم کو ہی اس کا ذمہ دار بنانے کی مذموم کوششوں میں مصروفِ عمل ہےں۔ حریت کانفرنس نے واضح کردیا کہ ہم نے کبھی بھی بات چیت سے انکار نہیں کیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ مسائل کا حل آخر کار بات چیت سے ہی نکالا جاسکتا ہے، لیکن ہم اس بات چیت میں کبھی شامل نہیں ہوں گے جو مسئلہ کشمیر کے اس کے تاریخی پسِ منظر کے حل کے برعکس ہو اور جس کا مقصد مسئلہ کشمیر حل کرنا نہ ہو، بلکہ اس کی ہئیت اور حیثیت کو تبدیل کرنا ہو۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ جموں کشمیر کے لوگوں نے 47ءسے لے کر آج تک عظیم اور بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں اور یہ بھارت کا فوجی قبضہ ہی ہے جس کے نتیجے میں ہماری تین نسلیں آج تک بھیٹ چڑھ گئی ہیں، یہ بھارت کا فوجی قبضہ ہی ہے جس نے ہماری ماو¿ں، بہنوں اور بیٹوں کی عزتوں کو پامال کردیا ہے، یہ بھارت کا فوجی قبضہ ہی ہے جس کے نتیجے میں یہاں کی جائیدادوں کو تباہ وبرباد کردیا گیا، یہ بھارت کا فوجی قبضہ ہی ہے جس نے مظلوم عوام کو دُکھ، درد اور کسک میں مبتلا کردیا ہے۔حریت کانفرنس نے ناگپور کے ان ملازموں کو مشورہ دیا کہ جب تک بھارت کو آپ جیسے ”غم خوار“ ملتے رہیں گے ہماری قوم پر مصیبتوں کے سائے ہمیشہ منڈلاتے رہیں گے۔ یہ آپ لوگوں کی ”کرم فرمائی“ ہے جس کی وجہ سے اب ہمارا وجود، شناخت، دین، کلچر اور سب کچھ مٹ رہا ہے۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت اپنے آپ کو کشمیریوں کی محسن جتلا کر اپنے گناہوں کی پردہ پوشی کررہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر نیشنل کانفرنس نے ہمیں اندھیرے کنویں میں دھکیل دیا ہے تو یہ اب پی ڈی پی ہی کی دَین ہے کہ وہ ہمیں اس کنویں میں زندہ دفن کرنا چاہتی ہے۔ حریت کانفرنس نے پی ڈی لیڈر کو 2008ءکی عوامی تحریک یاد دلاتے ہوئے حریت نے کہا کہ اُس وقت کانگریس کی حکومت کو امرناتھ زمین منتقلی کے خلاف عوامی لہر کے نتیجے میں ہوئی تین ہلاکتوں کو بنیاد بناکر آپ نے حمایت واپس لیکر اُن کی حکومت کو گرایا، لیکن آج آپ کے اپنے دورِ اقتدار 2016ءصرف پانچ ماہ جوالائی سے دسمبر تک 100سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، 390سے زیادہ بینائی سے محروم ہوئے، 17340سے زیادہ زخمی ہوئے، 11,700سے زیادہ گرفتار ہوئے، 79,500مکانوں کی توڑ پھوڑ ہوئی، شالی کے ذخائر کو آگ لگادی گئی، باغوں میں میوہ کو لوٹ کیا گیا یا برباد کردیا گیا، ہر گلی اور ہر نکڑ پر لوگ سراپا احتجاج ہیں، لیکن زعفرانی بیساکھیاں اس قدر مضبوط اور آہنی ہیں کہ آپ کے ”پائے اقتدار“ میں ذرا بھی جھول نہیں آیا۔ نام نہاد ”امن کے علمبردار“ خود کو زعفرانی رنگ میں محفوظ محسوس کررہے ہےں اور جو اپنے آپ کو اس رنگ سے دور رکھنا چاہتے ہیں اُن کے لیے زندگی عذاب بنادی جاتی ہے۔ حریت کانفرنس نے واضح کیا کہ ہم پچھلے 70سال سے بدترین جنگی ماحول میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہماری وادی کو ویسے بھی قتل گاہ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ہمیں مارا اور کاٹا جارہا ہے۔ اس غیر یقینی اور خوفذدہ ماحول میں ہر ایک کا دم گُھٹتا ہے نہ وہ مرسکتا ہے اور نہ ہی جی سکتا ہے۔ ایسا ماحول جنگ سے زیادہ تکلیف دہ اور پریشان کُن ہے اور یہ صرف اور صرف بھارتی آقاو¿ں کے غلاموں اور حواریوں کی وجہ سے ہورہا ہے ۔