این سی آر معاملہ: امت شاہ کے بیان پر راجیہ سبھا میں شور شرابہ

  نئی دہلی//آسام میں قومی شہری رجسٹر (این آر سی ) پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ کے بیان کو لے کر راجیہ سبھا میں زبردست شور شرابہ ہوا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔  چیئرمین ایم ونکیا نائڈو نے صبح میں ضروری دستاویزات ٹیبل پر رکھوانے کے بعد کہا کہ گزشتہ روز ایوان میں این آر سی پر بحث کے دوران کچھ ناخوشگوار واقعات ہوئے اور چیئر کے حقوق پر سوال اٹھائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی رکن یا کسی پارٹی کا نام نہیں لینا چاہتے لیکن یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایوان کی کارروائی چلانا اور اس کو ملتوی کرنا چیئرمین کا حق ہے ۔ اس دوران ایوان میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرنا نے سسٹم کا سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کل کی بحث میں ایک رکن نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے بعد تمام وزرائے اعظم کی توہین کی ہے اور انہیں 'بزدل 'بتایا ہے ۔ اس لئے اس رکن کو ایوان میں معافی مانگنی چاہئے ۔ اس پر نائڈو نے کہا کہ وہ ایوان کی کل کی کارروائی کو دیکھیں گے اور مناسب اقدامات کریں گے۔تاہم انھوں نے کہا کہ ایوان سے باہر کے واقعات کے لئے وہ ذمہ دار نہیں ہو سکتے ۔ چیئرمین کے بیان کے بعد بھی شرما نہیں بیٹھے اور مسلسل بولتے رہے۔کانگریس کے دوسرے رکن بھی ان کی حمایت میں کھڑے ہو کر شور شرابہ کرنے لگے ۔ اس دوران ترنمول کانگریس کے ڈیریک اوبرائن بھی بولنے کے لئے کھڑے ہو گئے . اس پر چیئرمین نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام لوگ ایک ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں. ایسے میں ایوان چلانا ممکن نہیں ہے .ایوان سب کے تعاون سے چل سکتا ہے . اگر رکن ایوان نہیں چلانا چاہتے تو وہ کارروائی ملتوی کر دیں گے ۔ نائڈو نے شرما کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکی دی تو وہ بیٹھ گئے ۔ اس کے بعد نائڈو نے کہا کہ کل این آرسي پر امت شاہ کا بیان مکمل نہیں ہو پایا تھا، پہلے وہ پورا ہوگا اور اس کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اس معاملے پر بیان دیں گے ۔ اس کے بعد انھوں نے شاہ کوبولنے کے لئے پکارا تو کانگریس اور ترنمول کانگریس کے رکن اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور زور زور سے بولنے لگے . ان کا کہنا تھا کہ انہیں سنگھ کے بیان کے بارے میں بتایا گیا تھا. اس میں مسٹر شاہ کا بیان شامل نہیں تھا۔ چیئرمین نے ارکان سے خاموش رہنے اور ایوان کی کارروائی چلنے دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایوان میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد سے بھی اراکین کو پرسکون رہنے کی درخواست کی۔ لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور انھوں نے کارروائی 12 بجے تک کیلئے ملتوی کر دی۔یواین آئی