این سی اور کانگریس ریاست کی خصوصی پوزیشن بیچ کھانے کے مرتکب

  سرینگر //قانون ساز کونسل کے ممبر فردوس ٹاک نے منگل کو حزب اختلاف نیشنل کانفرنس اور کانگریس پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں نے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن پر بات کرنے کا حق اصولی حق کھو دیا ہے ۔قانون ساز کونسل میں بحث کا اغاز کرتے ہوئے فردوس احمد ٹاک نے وزیر خزانہ حسیب درابوکی طرف سے پیش کئے گے اعدادشمار اور حقائق ایوان کے سامنے رکھے تھے، پر بحث کا اغاز کرتے ہوئے فردوس ٹاک نے کہا۔ سال 1952سے لیکر سال2014تک نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے مل کر ریاست کی خصوصی پوزیشن کو مٹا دیا ہے اور آج اُن کے لیڈران خود کو کشمیر کے ہمدرد جتاتے ہیں ۔انہوں نے کہا ” وزیر اعظم سے وزیر اعلیٰ ، صدر ریاست سے گورنر ،آر بی آئی اور سپریم کورٹ کے اختیارات کو جموں وکشمیر تک بڑھانے کا کام دونوں پارٹیوں نے ریاست کو بیچ کر اپنے لئے کرسیاں حاصل کی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سال 2014میں عمر عبداللہ سرکار نے جموں وکشمیر بنک کے اورڈرفٹ ارینجمنٹ کو بھارتی رزرو بنک کے حوالے کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس سے دھوکہ دہی اور طاقت کی ہوس ظاہر ہوتی ہے اور اسی لئے دونوں پارٹیوں نے کشمیر کی مخصوص پوزیشن کے بارے میں بات کرنے کا حق کھو دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں راتوں رات نافذ کیا گیا ۔ٹاڈا اور پوٹا قانون نیشنل کانفرنس کی حکومت نے بغیر کسی کو اعتماد میں لئے یہاں نافذ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں غلط فہمیاں اور غیر یقینیت پھیلی ہے جس کی زمہ دار ہم نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بھی ریاست کی کل کمائی 21ہزار کروڑ روپے ہے جبکہ ریاست کو 23ہزار کروڑ روپے ملازمین کی تنخواہ کےلئے دینے پڑتے ہیں اور اس سے ریاست کی مالی حالت کا پتہ چلتا ہے ۔فردوس ٹاک نے وزیر خزانہ کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں مالی بدحالی اور غیر یقینت ہمیں پچھلی سرکاروں سے ملی ہے اور تبدیلی کےلئے ہمیں پھر سے نئے سرے سے شروعات کرنی ہو گئی تاکہ ریاست خود کفیل بنے اور اس کی اقتصادیات مضبوط ہو ۔وزیر خزانہ کے بیان کے مطابق ریاستی حکومت کو 2ہزار سے 4ہزار کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہو گئی اور یہ آمدنی لوگوں پر بغیر کسی ٹیکس عائد کرنے سے ہو گئی ۔انہوں نے کہا کہ تمام ممبران کو سیاست سے بالا تر ہو کر اس معاملے میں ریاستی حکومت کی مدد کرنی چاہئے تاکہ ریاست میں نیا ٹیکس نظام نافذ ہو تاہم انہوں نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو بچانے کےلئے ممبران سے تجاویز بھی طلب کیں۔