این جی ڈی آر ایس پورٹل پر دستاویزات کے اِندراج سے متعلق پروگرام اختتام پذیر

جموں// کمشنر سیکرٹری ریونیو وِجے کمار بدھوری کی ہدایت پر اور رجسٹریشن عملے کے لئے صلاحیت کی ترقی کے پروگرام کے ایک حصے کے طورپر رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے گذشتہ پانچ دِنوں میں جموں اور سری نگر میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ یونٹ ( ایس ڈی یو )  این آئی سی پونے کے اِشتراک سے ایک وسیع تربیتی پروگرام کا اِنعقاد کیا۔اِنسپکٹر جنرل رجسٹریشن جے اینڈ کے ، ایڈیشنل اِنسپکٹر جنرل رجسٹریشن جموں / کشمیر ، سربراہان، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ یونٹ ( ایس ڈی یو) ،این آئی سی پونے ، سب رجسٹراروں ( ایس آر ایس) اور ان کے ڈیلنگ عملے نے زبردست شرکت کا مشاہدہ کرتے ہوئے تربیتی سیشن میں حصہ لیا۔کووِڈ۔19 وَبائی مرض کے بعد یہ پہلا فزیکل تربیتی سیشن تھا ۔تربیت خاص طور پر ان سب رجسٹراروں اور ان کے ڈیلنگ سٹاف کے لئے نئے اقدامات سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے ناگزیر ہو گئی تھی جنہیں ماضی قریب میں رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔ان سیشنوں کے دوران ایس ڈی یو پونے کے پیشہ ور اَفراد نے کامیاب اور بغیر پریشانی رجسٹریشن کے لئے رجسٹریشن کے عمل میں کسی بھی قسم کی خرابی کو مسترد کرنے کے لئے رجسٹریشن کے عمل میں پیروی کئے جانے والے اِقدامات کا بغور مظاہرہ کیا ۔ دِکھائے گئے اقدامات میں دستاویز کی اَپ لوڈنگ ، اِس کی ڈی پی آر ریزولوشن ، سائز اور فارمیٹ، کسی بھی چوری سے بچنے کے لئے ادائیگی کی تفصیلات کی اہم تصدیق ، متعلقہ فریقوں کی تصاویر یا فنگر پرنٹس لینا ،پری رجسٹریشن کا خلاصہ ، ایک فائل میں ڈیڈ دستاویز کو سکین کرنا یا اَپ لوڈ کرنا اور اس کے بعد میوٹیشن کے مقاصد کے لئے اسے ایل آر آئی ایس پورٹل پر جمع کرنااورحتمی دستاویز کی پرنٹنگ شامل ہیں۔ سب رجسٹراروں نے خاص طور پر اِی ۔ اسٹامپ کو لاک کرنے اور رجسٹریشن کے کسی بھی مرحلے میں پھنس جانے میں متعدد مسائل اُٹھائے جس کی وجہ کنکٹیویٹی میں رُکاوٹ ہے۔ اِن مسائل پر بات چیت کی گئی اور ایس آرز کو بغیر کسی رُکاوٹ کے دستاویز کے اِندراج کو مکمل کرنے کے لئے اِصلاحی اِقدامات تجویز کئے گئے۔دوران بات چیت ایس آر ز نے این جی ڈی آر ایس میں شامل کرنے کے لئے مختلف تجاویز پیش کیں تاکہ آن لائن دستاویز کے اِندراج کو مزید ترقی پسند اور شہری دوست بنایا جاسکے۔تجاویز میں رجسٹریشن فیس کے لئے آن لائن ادائیگی کے گیٹ وے سسٹم کا تعارف ، کنکٹیویٹی کے مسائل کی صورت میں اَپ لوڈ کرنے کے لئے کلائنٹ کی تصاویر کی آف لائن بچت ، ایل آر آئی ایس کے ساتھ ربط ، آدھار اور پی اے این سے پارٹیوں کی اِی ۔ کے وائی سی تصدیق ، خود کار ایس ایف تی کے لئے اِنکم ٹیکس پورٹل سے ربط اور دیگر مطلوبہ فائلنگزشامل ہیں۔ایس آرز نے ایس آر او لاگ اِن پر رجسٹرڈ دستاویزات کے لئے تلاش کی سہولیت کی بھی درخواست کی جو اَب ہر ایس آر کو فراہم کی گئی ہے۔ایس آرز نے یہ بھی مشورہ دیا کہ پوری دستاویز کو سکین کرنے اور اَپ لوڈ کرنے کی بجائے جو کہ بہت مشکل اور وقت طلب ہے، حتمی آرڈر کے ساتھ پوری دستاویز کو خودکار طور پر تیار کرنے کی سہولیت ہونی چاہیے جس پر ڈیجیٹل طور پر دستخط یا اِی ۔دستخط کئے جاسکتے ہیں۔ . اُنہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ فریقین کی اسناد کی تصدیق کے لئے این جی ڈی آر ایس میں فنگر پرنٹ سسٹم کو فعال کیا جائے، این جی ڈی آر ایس میں میکر اور چیکر کی سہولیت شروع کی جائے، دستاویز کی منظوری کو آخری مرحلے میں منتقل کیا جائے اور رجسٹریشن فیس کی ادائیگی آخری مرحلے پر، انکار کے حکم کی اطلاع این جی ڈی آر ایس پورٹل پر متعلقہ رجسٹرار کو خود بخود بھیجا جائے گا، فائل کا سائز30ایم بی تک بڑھایا جائے گا (سائن + سکین کے بعد) اَپ لوڈ کرنا۔ ایس آرز کو یقین دِلایا گیا کہ ان کی تمام تجاویز کا ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور ایس ڈی یو پونے کے ساتھ مشاورت کے ساتھ جائزہ لیا جائے گا۔ ایچ او ڈی، ایس ڈی یو، این آئی سی پونے اجے جوشی نے جموں و کشمیر میں این جی ڈی آر ایس کے کام پر اعتماد اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ڈی یو پونے اپنے مکمل آٹومیشن کے لئے رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔ اُنہوں نے رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے دو افسران کو تربیت دینے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ وہ جے کے  این جی ڈی آر ایس کی دیکھ دیکھ ، نفاذ اور پائیداری کے لئے ماسٹر ٹرینرزوںکے طور پر خدمات انجام دے سکیں۔ مختلف اقدامات کے نفاذ اور افسران کی دیکھ دیکھ کے لئے جن کی خدمات کو استعداد کار میں اضافے کے لئے  کسی بھی ایس آر کے تبادلے یا ترقی کی صورت میں یا ماتحت عملے میں شامل افراد میں خلا پیدا کئے بغیر دیگر افسران/ عملہ استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے جموں و کشمیر کے رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ کچھ انٹرفیس کے اشتراک کے بارے میں بھی بتایا تاکہ آئی جی آر کی سطح پر ایس آرز کے بنیادی رجسٹریشن سے متعلق مسائل کے ازالے کو ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے ستمبر 2020 ء میں جموں و کشمیر میں این جی ڈی آر ایس کے آغاز کے بعد سے ریکارڈ تعداد میں رجسٹریشن/ریونیو کی وصولی کے لئے ریونیو اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی تعریف کی۔آئی جی آرجموںوکشمیر نے کہاکہ کمشنرسیکرٹری محکمہ ریونیو کی شاندار اور مدبرانہ قیادت میں رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے اپنے کام کاج کو مستحکم کیا ہے، رجسٹریشن کوصد فیصدآن لائن کیا ہے اور جموں و کشمیر یوٹی میں ریونیو دینے والے اہم اداروں میں سے ایک کے طور پر اُبھرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بہت سے شہری دوست اقدامات پہلے ہی اُٹھائے جا چکے ہیں اور بہت سے کام جاری ہیں جس میں چیکر اینڈ میکر، ہوم وزٹ ماڈیول،پی اے این تصدیق، آدھار کی تصدیق،جی آر اے ایس وغیرہ کے علاوہ رجسٹریشن فیس کے لئے فوری ادائیگی گیٹ وے (آئی پی جی) شامل ہیں۔اُنہوں نے مطلع کیا کہ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی ایک ٹیم مئی 2022 ء کے پہلے ہفتے میں پونے مہاراشٹرا اور کرناٹک کا دورہ کر رہی ہے تاکہ رجسٹریشن کے عمل، طریقہ کار کا مطالعہ کیا جا سکے جنہیں جموں اور کشمیریوٹی میں نقل کیا جا سکتا ہے۔آئی جی آر جموںوکشمیر نے جے اینڈ کے این جی ڈی آر ایس کے لئے ایس ڈی یو پونے کے تعاون کی تعریف کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے تعاون کو بڑھایا جائے گا۔ اُنہوں نے ایس آرز کی محنت، صنعت اور بے لوث کاوشوں کو بھی سراہاجس کے نتیجے میں مالی برس2021-22ء میں رجسٹریشنوں کی ریکارڈ تعداد (84,140) اور ریونیو کلیکشن (499.11 کروڑروپے) ہوئی جو رجسٹریشنوں میں 37 فیصداور مالی برس 2020-21ء کے دوران محصولات کی وصولی میں 52 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتی ہے ۔ آئی جی آر نے ایس آرز اور ان کے معاون عملے پر زور دیا کہ وہ دستاویز کی رجسٹریشن کو مزید شہریوں کے لئے دوستانہ بنانے کی خاطر مشنری جوش کے ساتھ کام جاری رکھیں۔شرکاء نے ان تربیتی سیشنوں کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا جس نے انہیں دستاویزات کے اندراج کے مختلف پہلوؤں سے واقفیت اور مزید وضاحت حاصل کرنے میں بے حد مدد کی۔ ایس آرز نے درخواست کی کہ ایسے پروگرام مستقبل میں بھی وقفے وقفے سے جاری رکھے جائیں۔

 

کمشنر سیکرٹری دیہی ترقی محکمہ کا پہلے گوبردھن پلانٹ کا افتتاح

جموں//کمشنر سیکرٹری دیہی ترقی اور پنچایتی راج مندیپ کور نے جموں ضلع کے بلاک آر ایس پورہ کی گرام پنچائت گیگیان میں سوچھ بھارت مشن گرامین ( ایس بی ایم ۔ جی ) کے تحت تعمیر کردہ جموں و کشمیر کے پہلے فعال گوبردھن پلانٹ کا اِفتتاح کیا ۔ یہ پروجیکٹ فلوٹنگ ڈرم ماڈل پر مبنی ہے اور اس پر 15 لاکھ روپے کی لاگت آئی ہے جسے ایس بی ایم ۔ جی کے ذریعے 14 ویں مالی کمیشن کے ساتھ مل کر فنڈ کیا گیا ہے ۔ ایچ ڈی پی ای پائپس کے ذریعے تقریباً 20 گھرانے پلانٹ سے جُڑے ہوئے ہیں ۔ مستقبل قریب میں آنگن واڑی مراکز کے ساتھ ساتھ سکولوں کو بھی اس پروجیکٹ سے جوڑا جائے گا ۔ گوبردھن مویشیوں اور نامیاتی کچرے کے محفوظ انتظام سے متعلق جن اندولن کو  ایس بی ایم ( جی ) فیز II کے تحت قومی ترجیحی پروگرام کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔ اس کا مقصد گاؤں کو ان کے مویشیوں اور بائیو ڈیگریڈیبل کچرے کے موثر طریقے سے انتظام کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے ۔ یہ دیہاتوں کو اپنے فضلے کو دولت میں تبدیل کرنے ، ماحولیاتی صفائی کو بہتر بنانے اور بیماریوں کو روکنے میں بھی مدد کرتا ہے ۔ پلانٹ سے پیدا ہونے والی گیس کو یہ گھرانے کھانا پکانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اور تیار شدہ کھاد کو فائدہ اٹھانے والے کھیتوں میں استعمال کر سکتے ہیں ۔ بعد میں ڈائریکٹر رورل سینی ٹیشن جے اینڈ کے نے پلانٹ سے منسلک گیس کا چولہا روشن کیا اور اثاثہ سے مستفید ہونے والے مختلف گھرانوں کا دورہ کیا ۔