این ایچ ایم ملازمین کی مطالبات کے حق میں ہڑتال جاری

جموں //ملازمت کی باقاعدگی کے مطالبہ کولے کرمحکمہ صحت میں کام کررہے نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کی طرف سے جاری ریاست گیرہڑتال کے پندرہویں دن بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس دوران این ایچ ایم ملازمین نے پریس کلب جموںکے باہرمانگوں کے حق میں نعرے بلندکئے اورحکومت کوہدف تنقیدبنایا۔اس دوران این ایچ ایم ملازمین نے حکومت سے امتیازی سلوک کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مارچ 2017میں ان کی پندرہ روز ہڑتال کے بعد حکومت کی طرف سے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جسے دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرناتھی تاہم آج دو سال ہونے کوہیں مگر یہ رپورٹ پیش نہیں ہوسکی ۔ان کاکہناتھاکہ اس کمیٹی نے ان کے ساتھ انصاف کرنے کے بجائے تاخیری حربے اپنائے اور کوئی مثبت کام نہیں کیا ۔ این ایچ ایم ملازمین نے مزید بتایاکہ بیس دسمبر 2017سے پھر سے انہوں نے ریاست گیر ہڑتال شروع کی جو 22جنوری کو اس وقت کے وزیر صحت اور شعبہ صحت کے پرنسپل سیکریٹری کی اس یقین دہانی پر ختم کی گئی کہ ان کے مطالبات پورے کئے جائیں گے جبکہ وزیر صحت نے اسمبلی میں بھی یہی یقین دہانی دلائی جس کے بعد ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی مگر یہ کمیٹی بھی سونپے گئے کام کو انجام دینے میںناکام ثابت ہوئی ۔ احتجاجی ملازمین نے کہاکہ ان کی تنخواہوں میں بیس فیصد اضافہ کرنے ، خواتین ملازمین کو چھ ماہ کی میٹرنٹی چھٹی دینے ،اوڑیسہ کی طر ز پر ملازمین کو ایک ماہ کی تعطیل دینے جیسے مطالبات کو پورا کرنے کا یقین بھی دیاگیا مگر اس پر عمل درآمد کرنے کے بجائے بعد میں یہ معاملہ ’گروپ آف آفیسرزکمیٹی ‘کو سونپ دیاگیا جس سے اس سے کوئی غرض نہیںہونی چاہئے تھی ۔ ان کاکہناتھاکہ انہیںہر سطح پر حراساں ہوناپڑتاہے اور تنخواہیں بھی وقت پر نہیں دی جاتی ۔ انہوں نے کہاکہ ان کے مستقبل کومحفوظ بنایاجائے اورمستقل ملازمت کی ان کی دیرینہ مانگ پوری کی جائے ۔ان کا مزید کہناتھاکہ ایس ایس اے اساتذہ کی طرزپر ان کو بھی ساتویں تنخواہ کمیشن کا فائدہ دیاجائے اور دیگر جائز مطالبات بھی پورے کئے جائیں ۔ نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کی تنظیم کے صوبہ جموں کے صدر روہت سیٹھ نے کہاکہ حکومت نے انہیں یہ احتجاج کرنے کیلئے مجبور کیاہے اور وہ اپنے حقوق کی خاطریہ جدوجہد جاری رکھیںگے ۔ان کاکہناہے کہ انہیں طفل تسلیاں دی جاتی ہیں مگر حقیقی معنوں میں کوئی اقدام نہیں کیاجارہا۔