ایمرجنسی کووِڈ ریسپانس پیکیج

سرینگر//جموں کشمیر نے مسلسل تین مالیاتی برسوں میں، ہندوستان کی تمام ریاستوں اور مرکز ی زیر انتظام علاقوں کے برعکس مرکزی وزارت صحت سے ایمرجنسی کووِڈریسپانس پیکیج میں اپنے حصے سے 2 فیصد زیادہ رقم حاصل کی ہیں۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2019-20میں، سابق ریاست جموں و کشمیر کو کووِڈفنڈز کے تحت کل 26کروڑ69لاکھ روپے مرکزی معاونت والی اسکیم نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت موصول ہوئے ہیں۔یہ اعداد و شمار وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے این ایچ ایم مالیاتی شعبے کے سینٹر پبلک انفارمیشن افسراور سیکشن آفیسر برائے نیشنل ہیلتھ مشن ودیگ وانگ بے ہو ،نے حق اطلات کارکن و صحافی ایم ایم شجاع کی طرف سے دائر کی گئی حق اطلاعات کی درخواست کے جواب میں ظاہر کیے ہیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2020-21 کے ایمرجنسی کویڈرسپانس پیکیج  کے پہلے مرحلے میں، مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کو مجموعی طور پر 194کروڑ58لاکھ  روپے ملے ہیں جبکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کو مالی سال 2020-21میں کل 44کروڑ77لاکھ  روپے ملے ہیں۔ اسی طرح ایمرجنسی کویڈرسپانس پیکیج کے دوسرے مرحلے کے تحت مالی سال 2020-21 میں، جموں و کشمیر کو کل 128کروڑ82لاکھ  روپے ملے ہیں جبکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کو31کروڑ26لاکھ روپے ملے ہیں۔ حق اطلاعات کے تحت دائر عرضی کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ تینوں مالی برسوںمیں، کل 16ہزار617کروڑ4لاکھ  روپے ہندوستان بھر میں مختلف ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام خطوںمیں واگزار کیے گئے جن میں 350کروڈ9 لاکھ روپے جموں کشمیر کیلئے واگزار کیے گئے تھے۔سنیٹر پبلک انفارمیشن افسر نے کہا’’مالی سال 2019-20 کے لئے لداخ کو وزارت خزانہ کی ہدایت کے مطابق جموں کشمیرمیں شامل کیا گیا تھااور جموں کشمیر و لداخ کے درمیان کویڈ فنڈ کی تقسیم کا تناسب71:29تھا۔سی پی آئی او نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے لیے مالی سال 2019-20  میں رقومات کی واگزاری میںلداخ کی واگزاری بھی شامل ہے۔جواب کے مطابق’’مالی سال 2019-20 کے دوران نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت فنڈز کا اجرا ’این ایچ ایم‘کے تحت منظور شدہ مرکز،ریاستی فنڈنگ طریقہ کار کے مطابق ہے اور مالی سال2020-21 کے دوران پہلے مرحلے کے تحت فنڈز کا اجرا 100 فیصد مرکزی فنڈڈ ہے۔آر ٹی آئی کے جواب کے مطابق’’مالی سال 2021-22 کے دوران دوسرے مرحلے کے تحت فنڈز کا اجر’ا این ایچ ایم‘کے تحت منظور شدہ مرکز،ریاست فنڈنگ کے مطابق ہے اوریکم جنوری-2022 تک مرتب( اپ ڈیٹ) کیاگیا ہے۔