ایل ڈی گلی کے مقام پر پسی گرآئی | کوٹرنکہ خواص سڑک دوسرے روز بھی بند ،لوگ پریشان

محمد بشارت
کوٹرنکہ // ضلع راجوری کے سب ڈیژون کوٹرنکہ میں کوٹرنکہ سے خواص جانے والی سڑک پر گزشتہ روز بھاری بارش کے دوران چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے سڑک آمدو رفت کے لیے بند ہوچکی ہے۔حافظ جاوید نامی شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ موسم کے صاف ہوکر بھی سڑک سے پسی نہیں ہٹائی گئی۔ خواص سے کوٹرنکہ اور کوٹرنکہ سے خواص جانے والی گاڑیاں بیچ راستہ میں درماندہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تحصیل خواص کا زمینی رابطہ صدر مقام کوٹرنکہ سے کٹ کر رہ گیا ہے اور ابھی تک محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔محمد رزاق نامی شہری نے بتایا کہ کنجا کس کے مقام پر بھی محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے جو بجری ڈالی گئی ہے وہ بھی مسافر گاڑیوں کے لیے خطرہ کا باعث بنی ہے اور رات کے وقت سڑک پر سفر کرنا خطرہ سے خالی نہیں ہے۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری سے مطالبہ کیاکہ کوٹرنکہ سے خواص سڑک پر خصوصی نظر رکھی جائے کیونکہ ایک تحصیل کی آبادی اس سڑک کے ساتھ منسلک ہے ۔جونیئر انجینئرعرفان احمد چوہدری سے جب اس ضمن میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چٹانیں بڑی ہونے کی وجہ سے سڑک کی بحالی میں مشکلات آ رہی ہیں اور بریکر کے ذریعے چٹانوں کو توڑ کر سڑک کو جلد بحال کیا جائے گا ۔سڑک پر پڑی بجری کے حوالے سے جونیئر انجینئر ساحل مہاجن نے بتایا کہ کانجا کس کے مقام پر پل تعمیر کیا جا رہا تھا جو مکمل ہو چکا ہے اور سڑک پر پڑی بجری کو ہٹایا جائے گا۔اس دوران سب ڈویژن نوشہرہ میں 30 ٹرانسفارمر، آسمانی بجلی گرنے سے تباہ ہو گئے ہیں۔

مڈل پنچایت سنئی میں سڑک پر دو ماہ قبل تعمیر ہوا ڈنگا منہدم | 2 گاڑیوں کو بھاری نقصان،ناقص تعمیر کا الزام،ملبہ ہٹالیاگیا
بختیار کاظمی
سر‌نکوٹ// سب ضلع سرنکوٹ کے گاؤں سنئی کی مڈل پنچایت میں گزشتہ شب لگ بھگ دس بجے کے قریب پی ایم جی ایس وائی سڑک کے پہلے کلو میٹر میں ایک ڈنگا منہدم ہو گیا جسکے کے نتیجے میں ایک ٹریکٹر اور دوسری آلٹو کار کو بھاری نقصان پہنچا وہیں سڑک ڈنگے کےملبے سے لگ بھگ رات کے قریب دس بجے سے لے کر دن کے ایک بجے تک ٹریفک آمدورفت کے لیے بندرہی۔قابل ذکر ہے کہ اس ڈنگے کو تعمیر ہوئے ابھی دو ماہ ہی ہوئے تھے۔ مکینوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ڈنگے کو غیر معیاری طریقے سے تعمیر کیا گیا تھا جس کانتیجہ اب لوگوں کو بھگتنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ڈنگے کی تعمیر کے دوران کنکریٹ مسالے کی جگہ صرف دریائی بولڈراستعمال کئے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اگر مذکورہ ڈنگے کو ازسر نو تعمیر نہیں کیا جائے گا تو یقینی طور پر رہائشی مکان اور دوکانات کو بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔معاملے کی خبر جب محکمہ کو دی گئی تو محکمہ کے جے ای اور سابق سرپنچ و نایب سرپنچ موقع پر پہنچے اورملبے کی زد میں آئی گاڑیوں کو محکمہ کی موجودگی میں نکالا گیاجبکہ ڈنگے کو ازسر نو تعمیر کرنے کا یقین دلایاگیا۔ تاہم محکمہ کی جانب سے دن کےتین بجے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا اور نکاسی آب نظام کو بہتر بنانے کے لئے بھی مشینری لگادی گئی۔