ایف 16کے سلسلے میں امریکہ ثبوت جمع کررہا ہے :رپورٹس

نئی دہلی/واشنگٹن//امریکہ نے کہا ہے کہ وہ 27فروری کو ہندوستان کے خلاف حملے میں استعمال کئے گئے ‘ایف -16’ طیارے کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور وہ اس کے استعمال کے سلسلے میں پختہ ثبوت یکجا کررہا ہے ۔اس مسئلے پر دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ اور اسٹریٹجک تعلقات میں بحران اور گہراہوسکتا ہے ۔ امریکہ اس طیارے کے سلسلے میں سمجھوتے کی خلاف ورزی پر بے حد سنجیدہ ہے اور پاکستان ایف-16 کے مسئلے میں خود اپنے جال میں پھنستا جارہا ہے ۔وہ مسلسل اس بات سے انکارکررہاہے کہ اس نے ہندوستان کے خلاف اس طیارے کا استعمال کیا ہے ۔ مغربی ملکوں کی ایک اہم خبررساں ایجنسی نے پاکستان میں واقع امریکی سفارت خانے کے ترجمان کے حوالے سے یہ خبر دی ہے ۔ترجمان نے کہا،‘‘ہم دفاعی سودے کی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا ہے اور ہم پاکستان کے ذریعہ ہندوستان کے خلاف اس کے استعمال کے سلسلے میں پختہ ثبوت جمع کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا’’ہمیں اس کے استعمال کے بارے میں جورپورٹ ملی ہیں،ان سے ہم اچھی طرح واقف ہیں۔اس سلسلے میں ہم اور ثبوت جمع کررہے ہیں‘‘۔ دوسری جانب ،دہلی میں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ذرائع نے کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت نے اس طیارے کے استعمال کے سلسلے میں جو ثبوت پیش کئے ہیں اسی کے مطابق چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں۔اس مسئلے پر باریکی سے نظر رکھی جارہی ہے ۔ ایک اہم سرکاری ذرائع نے نام نہ بتانے کی شرط پرکہا’’پاکستان کی دہری چال واضح ہے ۔ایک طرف وہ اس بات سے انکار کررہا ہے کہ اس نے ایف-16طیارے سے ہندوستان پر حملہ کیا اور دوسری طرف وہ یہ بھی نہیں بتا رہا ہے کہ آخر اس نے کس طیارے سے حملہ کیا۔لگتا ہے کہ اس کی پریشانیوں کا دور شروع ہوگیا ہے‘‘ ۔پاکستان وزارت خارجہ نے 27فروری کو حملے کے بعد کہا تھا’’آج پاکستانی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کے اس پار حملے کئے ۔اس حملے کا واحد مقصد ہمیں اپنی دفاعی طاقت،قوت ارادی اور اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا تھا‘‘۔ ذرائع کے مطابق ہندوستانی فضائیہ نے 28فروری کو تباہ ہوئے ایف -16طیارے کے اہم باقیات ثبوت کے طورپر پیش کئے جس کے بعد پاکستان بے حد تناؤ میں آگیا۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر ونے سہستربدھے نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ 14فروری کو پلوامہ میں ہوئے خودکش دہشت گردانہ حملے کے بعد 26فروری کو پاکستان میں واقع جیش محمد کے دہشت گردانہ کیمپوں کے خلاف ہندوستان کی کارروائی کے بعد جس طرح سے مسئلے کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر رکھا ہے ،وہ قابل تعریف ہے ۔یہ ہندوستان کی بڑی جیت ہے ۔ ہندوستانی حکومت کو یہ معلوم ہے کہ پاکستان کو امریکہ سے ایف -16کی کئی کھیپ ملی ہیں،اس لئے اس کی نظر اس پر تھی کہ کہیں پڑوسی ملک نے اس طیارے کا استعمال کرکے قرار داد کی خلاف ورزی تو نہیں کی ہے ۔