ایس کے آئی سی سی میں ملک پرڈیوسرز کواپریٹو لمیٹڈ کی 15 ویں سالانہ جائیزہ میٹنگ رپورٹ جاری

سرینگر//پشو و بھیڑ پالن اور ماہی پروری کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے کل جموں کشمیر ملک پرڈیوسرز کواپریٹو لمٹیڈ ( جے کے ایم پی سی ایل ) کے عہدیداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیری فارمروں کو بازار کے نرخوں میں تبدیلیوں کے مدِ نظر انہیں باقاعدہ طریقے پر معاوضہ فراہم کریں ۔ جے کے ایم پی سی ایل کو اگلے تین برسوں میں ریاست میں دس فیصد دودھ کی پیداوار کا حصہ یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حصے کے بڑھنے سے جے کے ایم پی سی ایل ریاست میں پانچ لاکھ لیٹر دودھ کی پیداوار یقینی بنائے گی ۔ن باتوں کا اظہار پرنسپل سیکرٹری نے کل یہاں ایس کے آئی سی سی میں جے کے ایم پی سی ایل کی 15 ویں سالانہ جائیزہ میٹنگ رپورٹ کو جاری کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب پر چئیر مین جے کے ایم پی سی ایل اشوک کمار انگو رانا ، منیجنگ ڈائریکٹر امول آر ایس سوڈی ، رجسٹرار کواپریٹو سوسائیٹیز کشمیر ایم ایم رحمان غاثی اور ریاست بھر کے کسان موجود تھے ۔ ڈاکٹر سامون نے اس موقعہ پر جے کے ایم پی سی ایل  کے پاس اعلیٰ ٹیکنالوجی و آلات کی دستیابی کے باوجوداس سوسائیٹی کی ناقص کارکردگی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جے کے ایم پی سی ایل کو اپنا حصہ بڑھانا چاہئیے اور ریاست بھر میں 500 آؤٹ لیٹ قایم کرنے چاہئیں تا کہ جے کے ایم پی سی ایل کے تحت ایک لاکھ کسانوں کو لایا جا سکے ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ کوآپریٹولیمٹیڈنے کسانوں کو اچھی خاصی ’فارم گیٹ‘قیمتیں ادا کرنے کے باوجود 12لاکھ 14ہزار روپے کا منافع کمایا ہے۔انہوں نے کہا کہ جے کے ایم پی سی ایل کے منتخبہ بورڈ نے 3سالہ مدت کامیابی کے ساتھ مکمل کی اور چوتھی مدت کیلئے انتخابات بغیر کسی مشکل کے پچھلے سال مکمل کئے گئے۔انہوں نے کہاکہ2016-17میں جے کے ایم ٹی سی ایل نے’ جے اینڈ کے سٹیٹ رورل لولی ہوڈ مشن کے اشتراک سے ’اُمید‘پروجیکٹ شروع کیا ،جس میں وومن ڈائری کواپریٹیو سوسائٹیز کی خواتین سیلف ہیلپ گروپو ں کیلئے ایک پہل کی گئی ہے ،اس اقدام نے اسی سال سے نتائج دکھانا شروع کئے ہیں اور اس کی بدولت ہم نے ان علاقوں سے دودھ جمع کرنا شروع کیا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جے کے ایم پی سی ایل کسانوں کو 22 روپے سے 23 روپے ادا کرتی تھی جسے پشو پالن محکمے کی انتظامیہ کی مداخلت سے حال ہی میں 30 روپے سے 31 روپے تک بڑھایا گیا ۔ ڈاکٹر سامون نے کہا کہ محکمہ کی طرف سے حال ہی میں 400 ویٹر نری ڈاکٹروں کی تقرری کا مقصد لائیو سٹاک سیکٹر بالخصوص دودھ اور گوشت کی پیداوار کو بڑھاوا دینے کیلئے کیا گیاتھا ۔