ایس کے آئی سی سی میں سمینار: حقوق کی پاسداری کرنا سرکار کا عزم:ایڈوکیٹ حق خان

 سرینگر//شہری تحفظ کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے ریاستی سرکار نے کہا ہے کہ حکومت کا عزم ہے کہ کہ کسی بھی معصوم شہری کو کوئی بھی گزند نہ پہنچے۔قانون و انصاف کے وزیر ایڈوکیٹ عبدالحق خان نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ معیاری ضوابط طریقہ کار(ایس ائو پی) کی خلاف ورزی نہ ہو۔اس دورا ن بشری حقوق کے ریاستی کمیشن چیئرمین جسٹس(ر) بلال نازکی نے بشری حقوق کی پامالیوں کو روکنے کیلئے حکومت کو تعاون دینے کی تجویز دی،جبکہ ریاستی چیف سیکریٹری بی بی ویاس نے قانون کے ساتھ ساتھ انسانی رویہ اپنانے کا مشورہ دیا۔ بشری حقوق کے ریاستی کمیشن کی طرف سے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ سمینار کے دوران قانون و انصاف کے وزیر ایڈوکیٹ عبدالحق خان نے کہا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ہیلنگ ٹچ پالیسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس پالیسی کو متعارف کرنے میں اہم رول سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے ادا کیا۔وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی سرپرستی میں ہیلنگ ٹچ پالیسی کو آگے لے جانے میں تمام تر اقدامات کر رہی ہے ۔انہوںنے امید ظاہر کی کہ اس پالیسی کی بدولت ریاست میں ایک ساز گار ماحول پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ حق خان نے کہا کہ حکومت ایس ایچ آر سی کو مضبوط اور اس کو بااختیار بنانے کی وعدہ بند ہے تاکہ کمیشن آزادانہ طریقے پر کام کر سکے اور انسانی حقوق کی پاسداری اور لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکے۔انہوں نے کہا’’بشری حقوق کے ریاستی کمیشن پر اعتبار بڑھے گا،تو لوگ اس کے دروازے پر بھی دستک دینگے‘‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ کسی بھی شہری کو کوئی بھی گزند نہ پہنچے،جبکہ گزشتہ برس نامساعد حالات کے دوران وزیر اعلیٰ کی آنکھیں کئی بار نم ہوئیں۔ اس موقعہ پر بشری حقوق کے ریاستی کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر) بلال نازکی نے اداروں کو با اعتبار بنانے پر زور دیتے ہوئے افسران کو انسانی حقوق قوانین اور عملداری کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ بشری حقوق کے ریاستی کمیشن کو بغیر دانت والا ادارہ کہتے ہیں،تاہم میرا ماننا ہے’’جب بچہ پیدا ہوتا ہے،تو وہ بغیر دانت ہی ہوتا ہے،اور جو ںجو ںوہ پروان چڑتا ہے،اس کے دانت بھی آجاتے ہیں‘‘۔جسٹس(ر) بلال نازکی نے اس موقعہ پر اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ25فیصد انسانی حقوق کی پامالی پولیس یا فورسز کی طرف سے ہوتی ہیں،جبکہ باقی75فیصد پامالیاں سیول دفاتر اور انتظامیہ جن میں محکمہ صحت بھی شامل ہے،کی طرف سے ہوتی ہیں۔انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم میں کچھ عارضی ملازمین کو60سے100روپے ماہانہ فراہم کیا جاتا ہے،جو کہ سرا سرنا انصافی ہے۔انسانی حقوق کمیشن سربراہ نے اس بات کو واضح کیا کہ قوانین صرف ایکس گریشا ریلیف کیلئے ہوتا ہے،معاوضہ کیلئے نہیں۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کمیشن رپورٹ طلب کرتا ہے،تو اس میں کافی وقت لگ جاتا ہے،اور اندرونی خط و کتابت میں کافی وقت لگ جاتا ہے،حالانکہ صوبائی کمشنر یا پولیس سربراہ کے نام اس لئے نوٹس ارسال کی جاتی ہے،تاکہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔بلال نازکی نے کہا امسال کمیشن کو7ہزار929 درخواستیں موصول ہوئیں،جن میں6ہزار420کو نپٹایا گیا اور780سفارشات پیش کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اور بیروکریسی کھبی بھی ایک ہی طرف کھڑے نہیں رہ سکتے،تاہم کمیشن اور پولیس کے علاوہ انتظامیہ ایک ہی کنارے پر کھڑے رہ سکتے ہیں۔اس موقعہ پر ریاستی چیف سیکریٹری بی بی ویاس نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حقوق البشر کی پاسداری کیلئے قانون کے ساتھ ساتھ انسانی زاویہ سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف ایجنسیوں کو اکھٹا کر کے انسانی حقوق کے مسائل کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔ بی بی ویاس نے کہا کہ ہر ایک کو چاہے کہ کسی بھی شخص کے بشری حقوق پامالی نہ ہو۔اس موقعہ پرایس ایچ آر سی کے ممبران جنگ بہادر سنگھ جموال ، دلشادہ شاہین ،عبدالحمید ، سپیشل سیکرٹری لأ، ڈویژنل کمشنر کشمیر بصیر احمد خان آئی جی پی کشمیر ،منیر خان، ڈائریکٹرسکمز ، وائس چانسلر سینٹرل یونیورسٹی کشمیر موجود تھے۔