ایس ڈی آر ایف اسامیوں میں تخفیف کےخلاف نوجوان سراپا احتجاج

بھلیسہ// ایس ڈی آر ایف کے انٹرویو پاس کرنے والے نوجوانوں نے مشتہر کردہ600 پوسٹوں کو گھٹا کر صرف دس کرنے کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ا±ن کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈ لئے،بینر لہراتے اور نعرہ بازی کرتے ہوئے سب ضلع ہیڈکوارٹر گندو پہنچے اور وہاں زبردست احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔ اس موقع پر مظاہرین کی قیادت کرنے والے نصیر راتھر ،محمد تاثیر،امتیاز وانی اور ظہیر مغل نے کہا کہ 2012 میں ضلع ڈوڈہ کے لئے 600 پوسٹیں مشتہر کی گئی تھیں اور انہوں نے فارم بھرے تھے۔اس وقت حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ایک بٹالین کشمیر اور ایک جموں کے لئے بنائی جائے گی. چھ سال بعد 2018 میں فزیکل ٹیسٹ اور انٹرویو کروائے گئے۔ضلع ڈوڈہ کے 600 نوجوانوں نے گراو¿نڈ پاس کیا تھا مگر آج کہا جا رہا ہے کہ صرف دس پوسٹیں ہیں جس سے انہیں زبردست صدمہ ہوا ہے۔ سابقہ حکومت پر نوجوانوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں پی ڈی پی اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں پارٹیوں نے نوجوانوں کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنے دور میں بدعنوانی کو فروغ دیا اور نوجوانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا۔انہوں نے کہا کہ اس سے ضلع کے ا±ن تمام بے روزگار نوجوانوں کو ایک دھچکا لگا ہے اور ان میں سخت غصہ پایا جاتا ہے۔ وہ پہلے ہی بے روزگاری اور معاشی تنگی جیل رہے ہیں اور اب حکومت نے ان کے سپنوں کو توڑا ہے۔ا±نہوں نے گورنر انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں بھی نوجوان کو درپیش مسائل کے حل کرنے کی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جبکہ ریاست میں اس وقت بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان ذہنی دباو¿ کا شکار ہو چکے ہیں۔انہوں نے ریاستی گورنر سے اپیل کی ہے کہ اس معاملہ میں ذاتی مداخلت کر کے ا±نہیں انصاف دلوائیں اور متنبہ کیا کہ اگر انکے مطالبے کو پورا نہیں کیاگیا تو وہ احتجاج میں شدت لانے پر مجبور ہوں گے۔