ایس ایس اے اساتذہ

کسی بھی ملک اور ملت میں تعلیم کا مقام و مرتبہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ہوتا ہے کیونکہ تعلیم ہی ملک کی بہتر ترقی میں شاندار کردار ادا کرتی ہے۔جو قوم تعلیم پر ہر طرح کا سرمایہ خرچ کرتی ہے وہ پوری دنیا میں میں آگے ہونے کے ساتھ ساتھ سب پر غالب رہتی ہے۔ ہمارے پاس اس کی موجودہ دور کی کئی مثالیں ہیں۔بہتر تعلیمی نظام سے ہی بہترین شہری تیار ہوتے ہیں اور بہترین شہری ہی ملک و ملت کا نام روشن کرتے ہیں۔ بہر کیف ریاست میں تعلیم و تربیت کا اہم ترین ادارہ مدرسہ ہوتا ہے، یہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر اثر انداز ہونے والا بہت مؤثر عامل ہے۔ مدرسہ ایک منظم ادارہ ہوتا ہے جو باصلاحیت اساتذہ کی مدد سے ایک خاص نظم و تربیت کے ساتھ بچوں کو تعلیم دیتا ہے اور ان کی سیرت و شخصیت کو سنوارتا ہے۔ہر پیشے کی کامیابی کے لئے فرض شناسی ، ذمہ داری کا احساس ، دیانتداری اور محنت ضروری اوصاف ہیں لیکن معلم یا استاد  کا پیشہ دیگر پیشوں کے مقابلے میں زیادہ ہی شریفانہ اور قابل ِاحترام ہے۔ دنیا میں جتنے بھی ممالک ہیں ان میں استاد کا درجہ بہت بلند ہے کیونکہ استاد درحقیقت قوم کا معمار ہے ، آئندہ نسلوں کی سیرت سازی اسی کے ذمہ ہے۔ مستقبل کے شہریوں کا بننا بگڑنا بہت کچھ اسی کی کوششوں پر منحصر ہے، تعلیم و تربیت کی طرف سے لاپروائی اور غفلت نہ صرف افراد اور کنبوں بلکہ ملک و ملت سب کے حق میں انتہائی خطرناک اور مضر ثابت ہوتی ہے۔ 
 ریاست جموں و کشمیر کے نظامِ تعلیم کے بارے میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اربابِ اقتدار اور ارباب ِسیاست کی کوتاہ اندیشیوں اور غفلتوں سے ایسا نظام مسلط ہو گیا ہے جو اپنی بعض خرابیوں اور ناقص پالیسیوں کے باعث انتہائی قابل ِرحم حالت میں پڑاہے، اس میں اصلاح کی حد سے زیادہ ضرورت ہے ۔ تعلیم کو فروغ دینے کے لئے ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح سنہ 2001-2000ء میں سروہ شکھشا ابیان (SSA ) اسکیم ریاست جموں کشمیر میں بھی رائج ہوئی۔ اس اسکیم کے تحت سرکاری مدرسوں میں elementary سطح پر رہبر تعلیم اساتذہ (ReTs) کی تقرری عمل میں لائی گئی جو آج تک جاری و ساری ہے۔سروہ شکھشا ابیان کے ذریعے ملک بھر میں گھر گھر اور گاؤں گاؤں تعلیم کو عام کرنے اور کم سے کم چھ سال کی عمر کے ہر بچے کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں بہت حد تک کامیابی ہوئی اور 2011ء کی مردم شماری کے مطابق پورے ملک میں تعلیم کی مجموعی شرح %74.04 جو 2001ء میں % 64.83 تھی۔ اگرچہ ایس ایس اے اسکیم کے رائج ہونے کے باوجود مطلوبہ ہدف کی تکمیل نہ ہو سکی پھر بھی اس اسکیم کے ذریعے تعلیمی شرح میں مزید بہتری کی اُمیدیں برقرار ہیں۔ SSA کے ذریعے تعلیم کے فروغ دینے میں رہبر تعلیم اساتذہ کا بنیادی سطح پر اہم کردار رہا ہے، جو پہلے پانچ سالوں کی عارضی تقرری میں تب 1500 روپے اور اب 3000 روپے کے معمولی مشاہرے پر کام کرتے آئے ہیں اور مستقلی کے بعد جنرل لائین اساتذہ کے گریڈ میں کام کرہے ہیں، یہ رہبر تعلیم اساتذہ کم و بیش سماج کے ہر غریب بچے کو تعلیم کے نور سے روشن کرتے رہے ہیں۔
سروہ شکھشا ابیان (SSA) اسکیم کے تحت کام کر رہے اساتذہ اپنی اَنتھک محنت سےlevel   elementary  پر بچوں کی تعلیم و تربیت میں خون پسینہ ایک کررہے ہیں، وہ اپنی استعداد و صلاحیت کے مطابق اپنے فرائض کو بخوبی سمجھ سلیقے اور تندہی سے انجام دے رہے ہیں۔ وہ حقیقتاً اپنے اداروں کے بہی خواہ ہیں اور ان کی ساکھ کو قائم کرنے یا برقرار رکھنے کے لئے فرائض سے کچھ بڑھ کر کام کررہے ہیںلیکن نادر شاہی حکمرانوں کی طرح اربابِ اقتدار ان رہبر تعلیم اساتذہ کو بار بار ذہنی اُلجھنوں اور مخمصموں میں ڈالتی آرہی  ہیں۔ یہ SSA اساتذہ گذشتہ کئی ماہ کی واجب الادا تنخواہوں سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ان کی مالی و معاشی حالت کافی دِگر گوں ہے۔یہ انسانی حقوق کی پامالی کی زندہ مثال ہے کیونکہ گزشتہ تقریباً چار پانچ ماہ کی واجب الادا بقایا تنخواہ کی وقت پر واگزار نہ ہونے کی وجہ یہ ایس ایس اے اساتذہ ذہنی تناؤ اور پریشانیوں کے شکار ہورہے ہیں۔حالانکہ موجودہ وزیر تعلیم نے اپنی وزارت کا چارج لیتے ہی ایس ایس اے اساتذہ کے نمائندوں کو تین ماہ کے عرصے کے اندر اندر ان سے وابستہ تمام مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور ریاست کے وزیر خزانہ نے بھی اپنی بجٹ تقریر میں اِمسال اپریل 2017ء سے ایس ایس اے اساتذہ کی سیلری کو ریاستی بجٹ سے ہی واگزار کرنے کا اعلان کیا تھالیکن یہ سب بیانات ابھی تک سراب ہی ثابت ہوئے۔کب تک تنخواہوں سے محروم ایس ایس اے اساتذہ نانصافیاں برداشت کرتے رہیں گے ؟ کب تک قوم کے یہ معمار اپنے حق اور جائز مسائل کے حل کے لئے احتجاج کرتے رہیں گے؟ جس ریاست میں قوم کے معمار کی ایسی ابتر مالی حالت اربابِ اقتدار کی ناانصافی کی وجہ سے ہوگی، وہاں کسی بھی ترقی کی آس رکھنا بھونڈا مذاق ہی ثابت ہوگا۔گزشتہ لگ بھگ چار برسوں سے ایس ایس اے اسکیم کے تحت تعینات اساتدہ اور ماسٹرس ان کی تنخواہوں میں باقاعدگی لانے کے لئے حکومت وقت کے سامنے باربار اپنا احتجاج درج کرتے آئے ہیں لیکن تاحال حکومت وقت کی یقین دہانیاں اور اس ضمن میں اعلانات بے کار ہی ثابت ہوتے رہے، جس کی وجہ سے قوم کے یہ معمار زبردست مالی مشکلات سے پریشان ہوکر بددلی کے شکار ہورہے ہیں۔ حکومت وقت کی ایس ایس اے اساتذہ کے جائز مطالبات کے ساتھ بے رُخی کا مظاہرہ کرنا ان اساتذہ کو اپنے مدرسے تالا بند کرکے سڑکوں پر احتجاج کے لئے مجبور کرتے ہیں جس کی وجہ سے بارہا معصوم طلبہ کا کیرئر ہی متاثر ہوتا ہے۔ کیا محکمہ تعلیم کے ذمہ داران ایس ایس اے اساتذہ کی آہ و فغاں سے باخبر نہیں ہے ؟ اگر محکمہ تعلیم کے ذمہ داران اس اہم انسانی مسئلہ کو حل کرنے میں سنجیدہ ہوتے تو پھر اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ ہر نئے دن کے ساتھ حل ہونے کے بجائے مسئلہ ہی کیوں بنتا جارہا ہے؟ اگر قوم کا معمار اس طرح کی ذہنی الجھنوں کا شکار ہوتا رہا ، تو تعلیم و تربیت پر صرف ہو رہی قوت ، محنت اور وقت نفع بخش کس طرح ثابت ہو سکے گا؟ ظاہر ہے نظام تعلیم خصوصاً SSA اسکیم کے تحت کام کر رہے، اساتذہ کی تنخواہوں کے حوالے سے جب تک نہ ٹھوس اقدامات اور بنیادی تبدیلیاں نہ کی جائیں گی ، اس کے تحت پروان چڑھنے والی نسلوں سے بحیثیت مجموعی کسی ترقی کی توقع عبث ہے۔ اربابِ اقتدار اور وزارتِ تعلیم کے سربراہ کو چاہیے کہ اپنی تمام تر کوششوں اور فرض منصبی کی حق ادائیگی سے اس انسانی مسئلے کی طرف خصوصی توجہ دیں اور MHRD وزارت کے ساتھ مکمل تعاون کرکے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کریںتاکہ مستقبل میں SSA اسکیم کے تحت کام کررہے، اساتذہ کو مالی و معاشی دشواریوں سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ذمہ دار اگر صاحب ِصلاحیت ہوں اور کام کا پورا خاکہ ان کے سامنے ہو تو رفتہ رفتہ مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے اور نظام کو چلانے کے لیے ناگزیر شرائط کی تکمیل ہو سکتی ہے۔تعلیم و تربیت کے لئے سلیقہ بھی چاہیے اور غیر معمولی جدوجہد بھی ، اور جب ان میں کمی ہو تو اچھے نتیجے کی توقع کیونکر ہوسکتی ہے ؟ اس وقت SSA اسکیم کے تحت کام کررہے اساتذہ کی مالی حالت اربابِ اقتدار کی کوتاہ اندیشیوں اور غفلتوں کی وجہ سے بلا شبہ نہایت روح فرسا اور حوصلہ شکن ہیں ، اُن کے معاشی وسائل اگر چہ محدود و مفقود ہیں ، پھر بھی ان کے حوصلے انتہائی بلند ہیں اور اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت میں مدرّسہ اور معلم ، معاشرہ اور مملکت ہر ایک کا کچھ نہ کچھ اثر پڑتا ہے۔ مناسب اور معیاری تعلیم و تربیت کے لیے ان سب میں تعاون اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام ذمہ داران اصلاحِ حال کی طرف توجہ دیں اور انفرادی و اجتماعی حیثیت سے جو کچھ کر سکتے ہیں اس سے ہرگز دریغ نہ کریں اور اپنی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ بر آ ہو ہونے کی کوشش کریں۔سب کی اجتماعی کوششوں سے تعلیم و تربیت کے صحیح مقاصد کے حصول میں کامیابی ممکن ہی نہیں بلکہ یقینی ہے۔
رابطہ:بوٹینگو – زینہ گیر 
فون نمبر9797082756