ایرانی سیبوں کی غیر قانونی خرید و فروخت

سرینگر//ملک کی منڈیوں میں ایرانی سیبوں کی درآمدگی کی خبروں کے بعد جموں وکشمیر حکام نے مرکزی سرکار کو ایک خطہ لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان سیبوں کی غیر قانونی خریدو فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔ محکمہ باغبانی کے پرنسپل سکریٹر ی جموں وکشمیر نے  5جنوری کو مرکزی سرکار کو مکتوب روانہ کیا ہے، جس میں کہا گیاہے کہ بہت سارے تاجر ایران کے سیبوں کو غیر قانونی طور پر فروخت کر رہے ہیں لہٰذا اس پر مکمل طور پابندی عائد کی جائے ۔خطہ میں لکھا گیا ہے کہ مرکزی سرکار کو پابندی کا یہ فیصلہ جموں وکشمیر اور ہماچل پردیش کے سیبوں کو بچانے کیلئے لینا چاہئے ۔خطہ میں لکھا گیا ہے کہ ایسا ہونے سے سیب کی گھریلو صنعت متاثر ہو سکتی ہے ۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال سیب کی پیداوار میں 25فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔معلوم رہے کہ این سی ممبر پارلیمنٹ حسنین مسعودی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جموں و کشمیر اور ہماچل میں سیبوں کی کاشت کی وجہ سے ہندوستان دنیا میں سیبوں کی پیداوار میں بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے اور ایسے میں ایران سے سیبوں کی درآمد سمجھ سے بالاتر ہے۔محکمہ کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2020.21کے دوران 11لاکھ میٹر ٹن سیب کو بیرون منڈیوں میں بھیجا گیاتھا اور رواں سال ابھی تک بیرون منڈیوں میں 16لاکھ میٹر ٹن بھیجا جا چکا ہے۔تقریباً 1لاکھ میٹرک ٹن  لوگوں کے گھروں میں موجود ہے اور 2لاکھ میٹرک ٹن کولڈ سٹورج میں ہے، نیز1لاکھ میٹرک ٹن کے قریب میوہ جموں اور کشمیر کی مارکیٹوں میں فروخت ہو رہا ہے۔اس سال ابھی تک کل ملا کر 21لاکھ میٹرک ٹن سیب کی پیداوار ریکارڈ کی جاچکی ہے۔محکمہ نے مکمل تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال سیب سے بھرے 1لاکھ 22ہزار 869ٹرک بیرون منڈیوں تک پہنچے جبکہ پچھلے سال 83ہزار283 ٹرک بیرون منڈیوں میں پہنچے تھے۔محکمہ باغبانی کے ڈائریکٹر جنرل اعجاز احمد بٹ نے  ایرانی سیبوں کی مارکیٹ میں موجودگی اور در آمدگی سے متعلق کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر حکام نے مرکزی سرکار کو خطہ لکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ لینے کا حق مرکز کو ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں رواں سال سیب کی پیدوار میں پچھلے سال کے مقابلے میں لگ بھگ 20سے25فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیداوار کو مزید بڑھاوا دینے کی خاطر بہت سی سکیموں پر کام شروع کیا گیا ہے، دوائیوں کی جانچ کیلئے بارہمولہ اور کولگام میں 2لیبارٹروں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کولڈ سٹوریج کی وسعت کو 2لاکھ میٹرک ٹن تک بڑھائی گئی ہے۔