ایجی ٹیشن 2008کے دوران زخمی نوجوان کے حق میں معاوضہ

 سرینگر//بشری حقوق کے ریاستی کمیشن نے سرکار کو ہدایت دی کہ2008میں گولیوں سے زخمی ہوکر ایک ٹانگ سے محروم نوجوان کو3لاکھ روپے کا معاوضہ فرہم کیا جائے،جبکہ2ماہ کے اندر تعمیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔کمیشن نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ2011میں مبینہ طور پر دوران حراست قتل کیں گئے سوپورکے نوجوان جنید کھورو کیس سے متعلق سابق بلاک میڈیکل آفسر سوپور عبدالرشید وانی اگر آئندہ شنوائی کے دوران پیش نہیں ہواے تو انکی غیر موجودگی میں کیس کا فیصلہ لیا جائے گا۔جسٹس بلال نازکی نے ایک اساتذہ جوڑے کو شادی کے دن ہی اسکول سے بے دخل کرنے کی خبر کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ناظم تعلیمات کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں جسٹس(ر) بلال نازکی نے2008میں سرینگر کے اچھن سعد پورہ عیدگاہ کے زخمی ہوئے نوجوان کے کیس کی شنوائی کی،محمد جاوید پٹھان ولد غلام محمد ساکن اچھن کے ٹانگ میں2008کے دوران گولی لگی تھی،جس کے بعد اسکی دائیں ٹانگ کو جسم سے علیحدہ کیا گیا۔جسٹس(ر) بلال نازکی نے کیس کی سماعت کے دوران کہا” یہ مشکل ہے کہ وہ عام زندگی گزار سکیں“۔مذکورہ نوجوان نے کمیشن میں عرضی پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر سرکاری رضاکار تنظیم کے پاس موجود مصنوعی ٹانگ اس کیلئے ٹھیک نہیں،اور انہیں دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ مصنعوی ٹانگ بازار سے خریدیں،جبکہ اس کی قیمت2لاکھ50ہزار سے زائد ہے اور اس کی عمر بھی صرف8سال ہے۔مذکورہ نوجوان کی صورتحال کو دیکھ کر انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کے چیئرمین جسٹس(ر) بلال نازکی نے حکومت کو ہدایت دی ” وہ مذکورہ نوجوان کو3لاکھ روپے کا معاوضہ،اور ہر8برس کے بعد مصنوعی ٹناگ خریدنے کیلئے اس کے اخراجات فرہم کریں“۔یہ حکم نامہ کمشنر سیکریٹری دخلہ کو روانہ کیا گیا،جبکہ ان سے2ماہ کے اندر کاروائی روبہ عمل میں لانے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس دوران جسٹس(ر) بلال نازکی نے اخبارات میں چھپی اس خبر کا از خود نوٹس لیا کہ ایک اساتذہ جوڑے کو عین شادی کے دن ہی نجی اسکول کی نوکری سے فارغ کیا گیا۔جسٹس(ر) بلال نازکی نے اس سلسلے میںپرنسپل مسلم ایجوکیشنل انسٹی چیوٹ پانپور اور ڈائریکٹر ایجوکیشن کو3دنوںکے اندر اس سلسلے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کمیشن کے سامنے از خود حاضر رہنے کا حکم نامہ جاری کیا۔اس دوران جمعہ کو کمیشن نے پولیس کو سابق بلاک میڈیکل افسر سوپور عبدالرشید وانی سے متعلق وضاحتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔17اگست2017کو انسانی حقوق کے مقامی کمیشن نے پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ عبدالرشید وانی کو ضمانتی وارنٹ کے تحت کمیشن کے سامنے پیش کریں،تاہم پولیس نے تاہنوز نہ انہیں پیش کیا،اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی رپورٹ پیش کی۔کمیشن نے کہا”اگر عبدالرشید وانی آئندہ تاریخ سماعت پر کمیشن میں حاضر نہیں ہوئے،تو اس کیس کا فیصلہ انکی غیر حاضری میں لیا جایے گا۔ جنید احمد کھورو کے اہل خانہ نے پولیس پر انہیں29جون2011میں ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا ہے،تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ جنید ایک جنگجو تھا،اور جب وہ محاصرے کے دوران پھنس گیا،تو اس نے از خود اپنا کام تمام کیا۔بشری حقوق کے ریاستی کمیشن کی تحقیقاتی ونگ کے مطابق جنید عسکریت پسند نہیں تھا،اور انہیں قتل کیا گیا۔اس رپورٹ کی بنیاد پر بعد کرائم برانچ سے الگ تحقیقات کی سفارش کی گئی۔رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایس ایچ آر سی نے ڈاکٹر فدا حسین،جس نے جنید کی نعش کی جانچ کی تھی کو طلب کیا گیا۔مذکورہ ڈاکٹر نے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کو بتایا کہ انہیں پولیس افسران اور بلاک میڈیکل افسر عبدالرشید وانی نے دباﺅ ڈالا کہ سپیشل آپریشن گروپ کے کیمپ پر نعش کا معائنہ کریں،جو کہ اسپتال کے متصل ہیں،اور وہ ”آٹو سپی“ لینے میں ناکام رہا۔