ایجنڈا آف الائنس ایک مذاق

 سرینگر//نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ عبدالرحیم راتھر نے ڈارون نوگام چرار شریف میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اس وقت مالی اعتبار سے زوال پذیری کی شکار ہے، آمدن اور معاشی سدھار کے حکومتی دعوے گمراہ کن اور جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ سنگین حقیقت یہ ہے کہ سرکاری مالیات خصوصاً واجبات کی ادائیگی میں تاخیر دم توڑتی معیشت کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت واجبات اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ ان کا براہ راست اثر آئندہ مالی سال پر پڑنا طے ہے۔ ریاستی اسمبلی اور عوام کو اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ حکومت کے پاس 2018-19مالی سال کیلئے 95ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کیلئے دستیاب ہونگے ۔ اگر ایسا ہے تو حکومت کو مالی سال کے پہلے ہی ماہ میں فنڈس کی قلت کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ صاف ظاہر ہورہاہے کہ لوگوں کو گمراہ کیاگیا ہے۔ ریاست میں جی ایس ٹی کے اطلاق پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ماہرین کے مشوروں کے باوجود پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لایا۔انہوں نے کہاکہ اس قانون کے اطلاق سے تجارتی اور کاروباری نظام کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی برابر متاثرہونا پڑا۔ لاپرواہی اور جلد بازی میں اس ٹیکس نظام کو اپنانے سے آج ریاست اقتصادی خودمختاری سے محروم ہے۔عبدالرحیم راتھر نے کہاکہ غیر یقینیت اور بے چینی نے وادی کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ 90ء کی طرز پر کریک ڈائون ، جسے اب CASOکا نام دیا گیا ہے، روز کا معمول بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست کی وزیر اعلیٰ خود ہی کہتی ہیں کہ ’گولی کے بدلے گولیاں‘ کا اصول اپنایا گیا ہے ، تو عام لوگوں کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ راتھر کے مطابق بے بس وزیر اعلیٰ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’ملک نے ہمیں تن تنہا چھوڑ دیا ہے‘ پھر بھی بھاجپا کیساتھ اتحاد برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی خود ہی کرسی کیساتھ اپنی بے پناہ محبت کی کہانی بیان کررہی ہیں۔ راتھر نے کہا کہ گذشتہ روز مرکزوزیر مملکت برائے امور داخلہ نے راجیہ سبھا میں اس بات کا انکشاف کیا کہ جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت شروع کرنے کی کوئی تجویز مرکز کو نہیں ملی ہے۔ مرکزی وزیر کا بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب پی ڈی پی وزیر اعلیٰ سمیت قلم دوات جماعت کے دیگر لیڈران بات چیت اور مذاکرات کے دم بھر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایجنڈا آف الائنس ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے اور پی ڈی پی والے ایجنڈا آف الائنس کی بار بار باتیں کرکے اپنا مسخرہ بنا رہے ہیں۔ اس موقعے پر ضلع صدر بڈگام عبدالاحد ڈار ، ضلع سکریٹری غلام احمد نسیم اور دیگر عہدیداران بھی موجو دتھے۔