اگلی حکومت نیشنل کانفرنس کی ہو گی

جموں //نیشنل کانفرنس صدر و ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاہے کہ ریاست میں آئندہ حکومت نیشنل کانفرنس بنائے گی ۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی ریاست سے دفعہ 370اوردفعہ 35اے کو ختم نہیں کرسکتے ۔ لوک سبھا کی سرینگر نشست سے انتخابات جیتنے کے بعد پہلی مرتبہ جموں پہنچے ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے بات کرتے ہوئے کہا’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ وزیر اعظم نریندر مودی لوک سبھا انتخابات جیتنے کے بعد کتنے طاقتور بن گئے ہیں اور وہ ریاست سے دفعہ 370 اور دفعہ 35اے کو ختم نہیں کرسکتے ‘‘۔ کانگریس کی شکست پر انہوں نے کہا’’ہار اور جیت زندگی کا حصہ ہے ، راہل گاندھی پانچ سال کے بعد واپسی کرے گا اور میں نہیں سمجھتا کہ امیٹھی کے لوگ انہیں بھول جائیں گے ‘‘۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں اگلی حکومت نیشنل کانفرنس تشکیل دے گی ۔ان کاکہناتھا’’ہم ریاست میں نئی حکومت تشکیل دینے کیلئے پُر امید ہیں ‘‘۔ڈاکٹر فاروق کاکہناتھا’’لوگوں نے ہمیں تین پارلیمانی نشستیں دی ہیں اور ہمارے اوپر بھروسہ ظاہر کیاہے ، نیشنل کانفرنس ان کے بھروسہ کو برقرار رکھے گی اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑارہے گی ‘‘۔اس سوال پر کہ بی جے پی ریاست میں آئندہ حکومت بنانے کا دعویٰ کررہی ہے ،فاروق عبداللہ نے کہاکہ یہ فیصلہ بی جے پی کو نہیں بلکہ جموں ،کشمیر اور لداخ کے عوام کوکرناہے اور وہی اپنا نیا وزیر اعلیٰ چنیں گے ۔بھاجپا کے ساتھ اتحاد پر انہوں نے کہا’’نہیں ، آپ نیشنل کانفرنس کو اپنے بل پر حکومت بناتے دیکھناچاہتے ہیں، ہم ریاست میں اپنی حکومت تشکیل دیں گے ‘‘۔ہندوپاک تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب پر نیشنل کانفرنس سربراہ نے کہا’’مودی کو اپنے آپ کو تبدیل کرناہوگا،اگر مودی ملک کو بچاناچاہتے ہیں تو آپ کو اپنے پڑوسی کے ساتھ ہاتھ ملاناہوگا،ہم دونوں (ہندوپاک)ایک ہی کشتی پہ سوار ہیں ،ان (پاکستان )کی اپنی حالت بہت خراب ہے،ہم ہر وقت ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں نہیں تان سکتے‘‘۔فاروق عبداللہ نے کہاکہ سڑکوں، پانی اور بجلی کی حالت خراب ہے اور ایسا ہی حال ہندوستان میں بھی ہے ،ہمیں ملک کو ترقی یافتہ بنانے کا سوچناہوگا۔ان کاکہناتھا’’ایک دشمن کے ہوتے ہوئے کوئی بھی ترقی نہیں کرسکتا،انہیں(مرکز )کو پاکستان کے ساتھ ایک حل تلاشنا ہوگا‘‘۔قبل ازیں فاروق عبداللہ نے پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ان کی اولین ترجیح فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کو بہر صورت قائم رکھنااور جموں، کشمیر اور لداخ خطوں کو علاقائی خود مختاری دیناہے تاکہ ہر ایک خطہ بغیر امتیازی سلوک کے الزامات کے ترقی کرسکے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے خصوصی تشخص کاتحفظ بھی نیشنل کانفرنس کی اولین ترجیح ہے ۔انہوں نے کہاکہ ان کی جماعت کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی کیلئے کام کرے گی ۔