اگست میں مہنگائی7 فیصد تک پہنچ گئی

نئی دہلی//یو این آئی//ریٹیل پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی افراط زر اگست 2022 میں بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گیا جس کی وجہ سے اناج، پھل، سبزیاں اور مشروبات اور خدمات کے افراط زر میں ہوا ہے ۔ ایک ماہ قبل، خوردہ افراط زر جولائی میں 6.71 فیصد اور اگست 2021 میں 5.30 فیصد تھی۔خوردہ افراط زر مسلسل آٹھ ماہ تک ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے مقرر کردہ 2-6 فیصد افراط زر کے ہدف سے اوپر رہا ہے اور ماہرین اقتصادیات کو توقع ہے کہ سنٹرل بینک افراط زر پر قابو پانے کے لیے آنے والے وقت میں پالیسی سود کی شرح میں مزید اضافہ کرے گا۔

 

پیر کو قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کی طرف سے جاری کردہ افراط زر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اگست 2022 میں عام قیمت کا صارف قیمت انڈیکس جولائی 2022 کے مقابلے میں 173.4 پوائنٹس سے بڑھ کر 174.3 پوائنٹس ہو گیا، جو افراط زر کے اشاریہ میں ماہانہ بنیاد پر 0.52 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے ۔این ایس او کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں سال بہ سال کی بنیاد پر اناج اور اس کی مصنوعات کی قیمتیں 9.57 فیصد زیادہ تھیں۔ گوشت اور مچھلی کی قیمتوں میں 0.98 فیصد اضافہ ہوا جب کہ انڈوں کی قیمت میں سال بہ سال 4.57 فیصد کمی ہوئی۔ اسی مہینے میں دودھ اور دودھ کی مصنوعات کی عمومی قیمتوں کی سطح 6.39 فیصد رہی، جب کہ سبزیاں 13.23 فیصد، پھل 7.39فیصد اور خوردنی تیل اور چکنائی کی قیمتوں میں 4.62فیصد اضافہ ہوا۔