اگر یاسین ملک کو کچھ ہوگیا تو حکومت ذمہ دار ہوگی

سرینگر//لبریشن فرنٹ کے نظر بند چیئرمین محمد یاسین ملک کی صحت کے بارے میں’’انتہائی فکر مندی‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے انکے اہل خانہ نے کہا  ہے کہ ملک کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ دہلی کے تہاڑ جیل میں نظر بند محمد یاسین ملک کے اہل خانہ نے ملک کی ناساز صحت اور دوران قید علالت پر سخت خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’ انہیں(ملک) کو کیوں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے؟ہم انکی سلامتی سے متعلق  فکر مند ہیں،وہ جیل میں زیادہ وقت تک زندہ نہیں رہ سکتے‘‘۔25اپریل کو دلی کے تہاڑ جیل میں ملک سے ملاقات کرنے کے بعد جمعہ کوسرینگر کے مائسمہ علاقے میں محمد یاسین ملک کی والدہ اور ہمشیرہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں سے انکی صحت اور سلامتی کیلئے دعائیں کرنے کی اپیل کی۔محمد یاسین ملک کو24مئی تک جوڈیشل ریمانڈ پر دیا گیا ہے۔ملاقات کے حوالے سے جانکاری فراہم کرتے ہوئے انہوںنے بتایا کہ جب وہ تہاڑجیل پہنچے تو انہیں بتایا گیا ملک اس وقت یہاں نہیں ہیں بلکہ انہیں کسی اسپتال میں میڈیکل چیک اپ کے لئے لیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے جب انہوں نے اسپتال کے پتہ کا  استفسار کیا تاکہ رشتہ دا ر اسپتال میں انہیں مل سکیں، تاہم انہیں معلومات فراہم نہیں کی گئیں،صرف یہ بتایا گیا’’ ملک ایک فوجی اسپتال میں ہیں جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے‘‘ ۔ ملک کی ہمشیرہ نے بتایا جب جیل حکام کی نوٹس میں یہ بات لائی گئی کہ گزشتہ 2ماہ سے اہل خانہ نے ملاقات نہیں کی ہے تو جیل حکام نے اسی روز شام کو آنے کی ہدایت دی۔ان کا کہنا تھا کہ شام کے وقت جب وہ دوبارہ جیل پہنچے تو محمد یاسین ملک کو اسپتال سے واپس لایا جا رہا تھا ۔ پانچ پنجروں کے پیچھے انہیں ملک سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ملک کی ہمشیرہ نے بتایا’’جیل حکام نے مطلع کیا کہ محمد یاسین ملک  اسپتال میں تھے جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیںکچھ بیماروں نے  گھیر لیا ہے۔ان کا کہنا تھا ’’ ملک کو جیل کی ایک تنگ کوٹھری میں تنہا رکھا گیا ہے جہاں وہ تمام سہولیات سے محروم ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے چند کتابیں طلب کی تھیں،تاہم جیل حکام نے اس کی اجازت نہیں دی۔ ملک کی ہمشیرہ نے بتایا کہ اہل خانہ ملک کی رہائی کی نہیں بلکہ جیل میں انہیں معقول طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔