’’اکیسویں صدی میں اردو ادب‘‘

اس کا جواب محمد ارشد نے یوں دیا ہے کہ اس سے پہلے بھی منظوم خودنوشت لکھنے کا رواج ملتا ہے۔دوسری باب اردو میں مشاہیر کے خطوط سے خودنوشت مرتب کرنے کا رواج بہت پہلے سے چلا آرہا ہے اور اسی رواج کے تحت غالب،اقبال،رشید احمد صدیقی کے خطوط سے خودنوشتیں ترتیب دی گئی ہے۔محمد ارشد نے’’اکیسویں صدی میں اردو سفرنامہ کی روایت‘‘کے نام سی بھی مضمون لکھا ہے۔
اس میں اردو میں سفرنامے کی روایت اوراہم سفرناموں کا ذکر کیا ہے۔اردو میں سب سے زیادہ سفرنامے مستنصر حسین تاڑ نے ۳۸ سفر نامے لکھے ہیں۔اس مضمون میں سفرناموں اور حج ناموں دونوں کا ذکر ملتا ہے اور ریاست کے چند سفرناموں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔زاہد ظفر نے’’اکیسویں صدی میں اردو انشائیہ‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھا ہے۔انہوں نے اس صدی کے چند اہم انشائیہ نگاروں اور ان کے مجموعوں کا ذکر کیا ہے۔جن میں’’پروفیسر خورشید جہاں،خالد محمود،بختیار احمد،سید مشہود جمال،عابدمعز اورزاہد علی خان ‘‘خصوصی طور پر شامل ہیں۔اگرچہ ان منتخب انشائیہ نگاروں کے فکر وفن اور موضوعات پر روشنی ڈالی ہے لیکن جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے سب سے اہم انشائیہ نگار پروفیسر محمد زماں آزردہ کا ذکر نہیں کیاہے۔جن کے ایک درجن کے قریب مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔زاہد ظفر کشمیر کے ایک ہونہار ریسرچ اسکالر ہیں اور منصور احمد منصور،گلزار احمد وانی،طالب کاشمیری جیسے صاحب کتاب انشائیہ نگاروں کو چھوڑنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اکیسویں صدی کے سب سے معتبر ومعروف انشائیہ نگار محمد زماں آزردہ کا نام نہ لینا مصنف کی ادبی گستاخی یا ذاتی تعصب قرار دیا جاسکتا ہے۔میری ذاتی رائے ہے کہ آزردہ صاحب ان منتخب انشائیہ نگاروں سے کئی سو فٹ اونچائی پر پرواز کررہے اور اس صدی کے سب سے بڑے انشائیہ نگار بھی ہیں۔اس باب کا آخری مضمون اعجاز احمد لون کا ’’اکیسویں صدی میں اردو خاکہ کی روایت‘‘ ہے۔یہ ایک طویل،مدلل اور معلوماتی مضمون ہے۔ اس میں اس صدی کے ۲۱ خاکہ نگاروں کے خاکوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔مصنف نے خاکہ نگار کا نام،مجموعہ خاکہ، اس میں شامل خاکوں کے نام اور کسی ایک اہم خاکہ کا اقتباس قارئین کے سامنے رکھا ہے۔یوں ان منتخب خاکہ نگاروں کی جملہ خوبیاں منظر عام پر آتی ہے لیکن دو خامیاں ضرور کھٹکتی ہے ۔خاکہ نگاری پر مضمون لکھتے وقت دیگر تصانیف کا ذکر کرنا ضروری نہیں ہے اور دوم کیا جموں وکشمیر میں کوئی بھی خاکہ نگاری کا شوق نہیں رکھتا ہے۔
زیر مطالعہ کتاب کا چوتھا باب تحقیق وتنقید کے عنوان سے ہے اور اس میں صرف دو مضامین شامل ہیں۔ڈاکٹر مجاہد الاسلام نے’’اردو تنقید:اکیسویں صدی میں‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر مضمون لکھا ہے۔حالانکہ ابتدا میں غیر ضرور بحث کے تحت چار صفحات تنقید کیا ہے؟ میں صرف کیے ہیں اور پچھلے سو سال یہ بحث سن رہے ہیں۔بہرحال اس مضمون میں اکیسویں صدی کے اہم ناقدین جمیل جالبی،وزیر آغا،شمیم حنفی،شمس الرحمٰن فاروقی،شارب ردولوی،گوپی چند نارنگ،ابوالکلام قاسمی،کرامت علی کرامت،عتیق اللہ جیسے اہم ناقدین کا ذکر کیا ہے۔اگرچہ ان کی تصانیف اور نظریات کا ذکر کیا ہے لیکن پروفیسر حامدی کاشمیری جیسے نظرساز ناقد کا ذکر نہ کرکے مصنف نے اپنی لاعلمی کا مظاہرہ کیا ہے۔حقیقت نگاری،غیرجانبداری اوروسیع مطالعہ اسی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کم ازکم کسی میدان کے دس اہم نام دیانتداری سے لیے جائیں اور حامدی صاحب اکیسویں صدی کے دس بہترین ناقدین میں شامل ہوتے ہیں۔مرتب اور صاحب مضمون دونوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ اس باب میں تنقید کے حوالے سے صرف ایک مضمون ہے، تو ایک مفصل ومدلل مضمون شامل کرنا چاہیے تھا،جو اطمینان بخش ہوتا۔اس با ب کا دوسرا مضمون ابراہیم افسر کا’’اکیسویں صدی میں اردو تحقیق‘‘ کے عنوان سے ہے۔جو تمام مضامین کے مقابلے میں گہرے مطالعہ اور محنت کا ثمر نظر آتا ہے۔اس میں مختلف اداروں جیسے شبلی اکیڈیمی،انجمن ترقی ہند،غالب انسٹی ٹیوٹ،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان وغیرہ کی تحقیقی خدمات، مختلف یونیورسٹیوں کی تحقیقی خدمات،مختلف محقیقین کی تحقیقی وتنقیدی خدمات اور مختلف علاقوں مثلاً علی گڑھ،تامل ناڑو،اعظم گڑھ، مظفرگڑھ، کیرالا، میرٹھ، بہار،اودھ، برہان پور، ہریانہ، بھوپال، راجستھان وغیرہ کی تحقیقی خدمات اور مختلف محقیقین واداروں کی اقبال شناسی،میر شناسی،غالب شناسی،انیس شناسی،سرسید شناسی،شبلی شناسی وغیرہ پر روشنی ڈالی ہے۔افسر صاحب نے مضمون تو بہت عمدہ لکھا ہے لیکن ہندوستان کے قدیم ادب نوازوں کی روش اپناتے ہوئے جموں وکشمیر کے محقیقین بلکہ من جملہ پورے علاقے کو ہی نظر انداز کیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے ان کی نظر جموں سے آگے نہیں پڑی ہے ۔کیونکہ محمد یوسف ٹینگ،غلام نبی خیال،محی الدین زور،جوہر قدوسی،نذیراحمد ملک،شفق سوپوری،الطاف انجم وغیرہ کو چھوڑ کرکسی ریسرچ اسکالر کا ذکر بطور محقق وناقد کرنا کون سی دیانت ہے۔ دبستان کشمیر سے تعصب ہی کہا جاسکتا ہے کہ ادنا سے رسائل کے خصوصی شماروں کا ذکر کیا ہے لیکن کلچر ل اکادمی کے ماہنامہ شیرازہ کے خصوصی شماروں کا ذکر نہیں کیا ہے ۔حالانکہ ہندوستان کے تمام رسائل میں سب سے زیادہ خصوصی شمارے شیرازہ کے ہی نکلے ہیں۔اشاریہ سازی میں عبداللہ خاور جیسے پیدائشی اشاریہ ساز کو بھی نظر انداز کیا ہے اور اقبال شناسوں کے ذکر میں نہ اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یونیورسٹی کا ذکر کرنا ضروری سمجھا ہے اور نہ اس ادارے سے وابستہ اور دیگر اقبال شناسوں جیسے بشیر احمد نحوی، مشتاق احمد گنائی،غلام نبی خیال وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔بہرحال ہر لحاظ سے مضمون کی تعریف تو کی جاسکتی ہے لیکن کشمیر اور کشمیر کے اردو داں حضرات سے چشم پوشی نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہے۔زیر نظر کتاب کے آخری باب صحافت میں محمد یوسف شاشیؔ کا مضمون’’اکیسویں صدی میں اردو صحافت‘‘ شامل ہے۔مصنف نے بڑی محنت سے ہندوستان کی تمام ریاستوں اور پاکستان سے شائع ہونے والے رسائل وجرائد کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔صحافت کی تعریف کے ساتھ اس صدی میں صحافت کے تقاضوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ایک جگہ لکھا ہے:
’’اکیسویں صدی میں اخبارات اور رسائل کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا،سوشل میڈیا جیسے نئے تیز رفتار اور بے کاغذ وقلم ذرائع کو زبردست وسعت،پھیلائو،اور اثر ورسوخ حاصل ہوا ہے جس نے ماس میڈیا کی دنیا کی شکل ہی بدل دی ہے‘‘۔(ص:۲۴۸)
مجموعی طور پر مرتب اور تمام مضمون نگار مبارک بادی کے مستحق ہیں۔ریسرچ اسکالرہوں یا کالج کے طلبہ ہر کسی کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ اس صدی کے ادب سے روشناس ہونے کا موقع ملے۔اگرچہ مضمون نگاروں میں متعدد کا تعلق جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں سے ہے لیکن ان سے ادبی لحاظ سے ایک شکایت یا گلہ ضرور رہے گا کہ انہوں نے اپنے مضامین میں علاقائی ادب کا خاطر وخواہ حق ادا نہیں کیاہے۔ایسا تحقیق کے اصولوں میں لکھا گیا ہے اور پروفیسر گیان چند جین نے وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ایک ادیب کا فرض زبان وادب کی ترقی وترویج کے ساتھ اپنے علاقائی ادب کی پذیرائی کرنا بھی ہوتا ہے۔جموں وکشمیر کے ادیبوں کو ہمیشہ ہی دور کے ڈھول سہانے نظر آئے ہیں اور اپنے شباب کے دور میں ہمارے بزرگ ادبا وشعراء نے بھی اپنوں کو خاطر میں نہیں لایا تھا اورکچھ لوگ اسی کے بدلہ لیتے ہوئے ان کو بھی عصرحاضر کے ادب سے نکال باہر کرتے ہیں ۔لیکن اس رسم کو ختم کرنا ضروری ہے کیونکہ اگر اپنوں اور اپنے علاقے کو نظر انداز کرنے کا یہ رواج جاری رہا، تو ہندوپاک کا ادب مستقبل میں ابراہیم افسر جیسے مضمون کی شکل میں ملے گا اور بین الاقوامی سمیناروں اور کانفرنسوں میں کسی بھی ریاستی ادیب یا شاعر کا نام نہیں لیا جائے گا۔(ختم شُد)
پلوامہ کشمیر۔7006108572