’اکیسویں صدی میں اردو ادب‘

سرینگر// شیخ العالم ایجوکیشنل اینڈویلفیئر سوسائٹی جموں وکشمیر کے زیر اہتمام یک روزہ قومی سیمینارربعنوان ’’اکیسویں صدی میں اردو ادب‘‘ ہوٹل شہنشاہ پیلس ،ڈل گیٹ سرینگر میں منعقد کیا گیا۔ سیمینار میں ریاست وبیرون ریاست کی قدر آور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ پہلے سیشن کے ایوان صدارت میں شامل صدور حضرات وحشی سعید ، مشتاق عالم قادری ، ڈاکٹر الطاف انجم، بشیر چراغ اورستیش ومل تھے۔ سیشن میں ڈاکٹر یوسف رامپوری، ڈاکٹر فیض قاضی آبادی، ڈاکٹر محمد یاسین گنائی،سالک جمیل براڑ،سید آفتاب،سمیرابانو،پاکیزہ،اسماء بدر،شافعہ بانو نے مقالہ جات پڑھے۔سیشن کے اختتام پر دو کتابوں کی رسم رونمائی عمل میں لائی گئی۔جس میں ڈاکٹر ریاض توحیدی کی کتاب’’معاصر اردو افسانہ:تفہیم و تجزیہ‘‘اور سمیہ بشیر کی کتاب’’ذوقی کی ادبی کائنات‘‘قابل ذکر ہیں۔اس کے بعد اعزازیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں وحشی سعید،فاروق مضطر،ڈاکٹر رفیق مسعودی،ڈاکٹر مشتاق عالم قادری اور بشیر چراغ کو اعزاز سے نوازا گیا۔ دوسرے سیشن کے ایوان صدارت میں خالد حسین،ڈاکٹر رشید عزیز،ڈاکٹر نسیم اختر اور ڈاکٹر سجاد احمد وانی شامل رہے ۔ ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری،سلمان عبدالصمد،محمد مقبول فیروزی،توصیف احمد ڈار،مشتاق احمد گنائی،محمد یونس ڈار،رافعہ ولی اور محمد لطیف نے مقالات پڑھے ۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے استاذڈاکٹر نسیم اختر نے مقالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے اسکالروں کووادی سے باہرنکلنا چاہئے اورآس پڑوس یعنی ملکی و بین الاقوامی کے اردو ادب پر بھی گفتگو کرنی چاہیے۔سیمینارمیں جن معتبر ادیبوں اورقلم کاروں نے شرکت کی ان میں نور شاہ،ڈاکٹر شفق سوپوری،عرفان ترابی،مشتاق مہدی،ڈاکٹر نذیر مشتاق،ڈاکٹر اشرف آثاری،شہزادہ بسمل،شہباز ہاکباری،ڈاکٹرنیلوفر ناز نحوری،مشتاق احمد تانترے،ناظم نذیر،ڈاکٹر منظور احمد،فراجہ یوسف،ڈاکٹر ریاض توحیدی،طارق شبنم،پرویز مانوس،فاروق شاہین،منظور احمد کماروغیرہ قابل ذکر ہیں۔