اپوزیشن اراکین کی مخالفت، طلاق ثلاثہ غیر قانونی قرار، لوک سبھا میں بل منظور

 نئی دہلی// حکومت نے شادی شدہ خواتین کے حقوق کی حفاظت کیلئے تین طلاق کا بل اراکین کی مخالفت کے درمیان لوک سبھا میںاکثریت  سے منظور کرایا۔بل پر اراکین نے بحث کی جس کے بعد زبانی ووٹ سے مسودہ قانون کو منظوری دی گئی۔ اس سے قبل وزیر قانون روی شنکر پرساد نے مسلم خواتین (شادی کے حقوق تحفظ) بل 2017 ایوان میں پیش کرتے ہوئے اسے تاریخی موقع قرار دیا اور کہا کہ یہ بل آئین کے جذبات کے مطابق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تین طلاق کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم کے باوجود مسلم خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کے پیش نظر ایوان کا خاموش رہنا صحیح نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس میں شادی شدہ خواتین کے حقوق کی حفاظت اور تین طلاق پر پابندی عائد کرنے کا التزام ہے۔ یہ بل ان خواتین کو بااختیار بنائے گا اور ان کے بنیادی حقوق کی قانونی طور پر حفاظت کی جاسکے گی ۔ تاہم بیجو جنتا دال، اے آئی اے ڈی ایم کے ، راشٹریہ جنتا دل، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور مسلم لیگ نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ مسلم نمائندوں نے اس کے التزامات کے بارے میں بات نہیں کی گئی۔ کانگریس اور بائیں بازو نے بل پیش کرتے وقت بولنے کا موقع نہ دئے جانے کی مخالفت کی۔ اسپیکر نے کہا کہ انہیں ضابطے کے تحت نوٹس نہیں ملا ہے لہٰذا بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ اس کی مخالفت میں بائیں بازو کی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا۔کانگریس نے کہا کہ وہ خواتین کے حقوق کی حمایت کرتی ہے لیکن مسدوہ قانون میں ایک شق پر اسے تحفظات ہیں جس کی ترمیم کی جانی چاہیے۔ بل کی مخالفت کرتے ہوئے ، بیجو جنتاد ل کے بھرت ہری مہتاب نے کہا کہ اس میں بہت سی غلطیاں ہیں، لہذا اس پر دوبارہ غور کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض صورتوں میں گھریلو اختلافات بھی ہوسکتے ہیں اور اندرونی اختلافات بھی ممکن ہے ، لہذا سب کو جرم قرار نہیں دیا جاسکتا ۔بل میں طلاق کو قابل جرم مانا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون مسلم خواتین کے حق میں نہیں ہے اور اس کے پاس ہونے کے زیادہ معاملے سامنے آئیں گے ۔ این ڈی اے کے جے پرکاشن نارائن یادو نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاق کے بل کے التزامات درست نہیں ہیں۔ بل کے مسودے کی تیاری کرتے وقت مسلم نمائندوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی گئی ہے ۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے اے این جھا نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کے اصل جذبے کے خلاف ہے ۔ آئین کی اصل روح کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ حکومت کو اس بل پر دوبارہ غور کرنا چاہئے ۔ اے آئی ایم آئی ایم کے اسد الدین اویسی نے اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس میں جو التزامات رکھے گئے ہیں وہ بنیادی حقوق پر حملہ ہے ۔ یہ بل گھریلو تشدد کے شق کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بل کو مضبوط نہیں بنایا گیا ہے اور اس میں کئے جانے والے التزامات پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے ۔ آئی یو ایم ایل کے ای ٹی بشیر نے بل کو سیاست زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں جو شق ہیں ان میں خواتین کے حقوق اور ان کی حفاظت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرٹیکل 25 کے مطابق نہیں ہے اور خواتین کو تحفظ اور اور حقوق کی حفاظت کرنے والا نہیں ہے ۔بحث مکمل ہونے کے بعد اسپیکر نے بل پر زبانی ووٹنگ کی جس کے بعد مسدوہ قانون کو منظور کیا گیا۔اب بل کو راجیہ سبھا میں پیش کیا جائیگا جہاں حکومت کو کانگریس سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا ہوگا۔