’اپنی پارٹی‘ نے کشمیر دشمنوں کے خاکوں میں رنگ بھرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی: نیشنل کانفرنس

سرینگر//بھاجپا کی اپنی جماعت کے صدر الطاف بخاری کی طرف سے سپریم کورٹ میں دفعہ370کی بحالی نہ ہونے کی صورت میں خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے جدوجہد کرنے کے تازہ بیان کو مضحکہ خیز اور لغو بیانی قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ موصوف جموں و کشمیر کے پہلے ایسے باشندے ہیں جنہوں نے خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے بعد دفعہ370اور 35A کو قصۂ پارینہ قرار دیا تھا ۔نیشنل کانفرنس ترجمان عمران نبی ڈار نے الطاف بخاری کے حالیہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ موصوف نے نئی دلی اور ناگپور والوں کو خوش کرنے کیلئے کشمیر دشمن عناصر کے خاکوں میں رنگ بھرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا لیکن ڈی ڈی سی الیکشن میں زر کثیر خرچ کرنے کے باوجود بھی منہ کی کھانے کے بعد موصوف کو خصوصی پوزیشن اور لوگوں کے احساسات اور جذبات یاد آگئے۔ این سی ترجمان نے کہا کہ الطاف بخاری جموں وکشمیر کے پہلے ایسے سیاست دان تھے جو 5اگست کے فیصلوں کے بعد ناگپور اور نئی دلی والوں کے دروازے کھٹکھٹانے لگے اور اقتدار کی ہوس میں 5اگست 2019کے فیصلوں کو جواز بخشنے کی بہت کوشش کی لیکن عوام نے ان کی لن ترانیوں کو یکسر مسترد کردیا اور ڈی ڈی سی انتخابات میں انہیںباہر کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ 8جنوری 2020کو ایک بیان میں الطاف بخاری نے کہا تھا، ’’وقت آگیا ہے کہ ہم دفعہ370اور 35A کو پیچھے چھوڑ کر آگے چلیں ‘‘ اور آج موصوف دفعہ370کی بحالی کیلئے جدوجہد کی باتیں کررہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس ترجمان نے کہا کہ الطاف بخاری جمہوری حقوق نہ ملنے کیخلاف ڈی ڈی سی ممبران کے استعفے کے اعلانات کررہے ہیں لیکن موصوف شائد یہ بھول گئے ہیں کہ ڈی ڈی سی انتخابات میں محض12نشستیں جیتنے کے بعد انہوں نے ممبران کی خرید و فروخت کرکے جمہوریت کی بیخ کنی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ نیشنل کانفرنس ترجمان نے کہا کہ الطاف بخاری کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے لیکن اُن کی پارٹی کی چال، ڈھال اور بولی خود اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اپنی پارٹی بھاجپا کی بی ٹیم ہے۔