اپنا جی ایس ٹی تیار کیا جائے

سرینگر// ریاست میں اشیاء اور سہولیات ٹیکس کے اطلاق کو جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو زخ پہنچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے دکانداروں اور تاجروں کی انجمن کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچرس نے17جون کو کشمیر اور خطہ چناب میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ٹریڈرس چیئر مین محمد یاسین خان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ’’ ایک منصوبہ بند طریقے سے جموں کشمیر کو یک ٹیکس نظام سے جوڑا جارہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس نظام کی وہ مخالفت کرینگے۔  خان نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے ،تاہم ریاست کی مالی خود مختاری کو کسی بھی صورت میں آنچ نہیں آنے دینگے۔ خان نے الگ ’’جی ایس ٹی‘‘ کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کا آئین منفرد اور علیحدہ ہے،اور ہم اپنا ’’جی ایس ٹی ‘‘تیار کرسکتے ہیں،جس کی وجہ سے ریاست کی ’’خصوصی اور متنازعہ حیثیت‘‘ کو بھی تحفظ فراہم ہوگا۔ محمد یاسین خان نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام ضلع صدور کے ساتھ مشاورت کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ تاجر برداری اپنا احتجاج درج کرنے کیلئے17جون کو کپوارہ سے کشتواڑ تک ہڑتال کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’کے ٹی ایم ایف‘‘ کی مرکزی لیڈرشپ اس روز صبح ہی لالچوک میں احتجاجی دھرنا بھی دے گی جبکہ دیگر تمام اضلاع میں بھی تاجر دھرنے پر بیٹھیں گے۔محمد یاسین خان نے بتایا کہ ریاستی وزیر خزانہ نے ما قبل بجٹ میٹنگ کے دوران تاجروں سے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ اس مرکزی قانون کو جموں کشمیر میں لاگو نہیں کیا جائے گا،تاہم دیگر وعدوں کی طرح ہی محبوبہ مفتی کی سربراہی والی حکومت نے اس وعدے کا بھی ایفاء نہیں کیا۔انہوں نے تاجروں کے علاوہ عام لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو سر سری نہ لیں،بلکہ حکومت کے ہر اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کریں،جس سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو زخ پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہے ۔ محمد یاسین خان نے ریاستی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ آگ سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں جبکہ اس کے ہاتھ جل جائیں گے۔انہوں نے کہا’’اگر سرکار نے جلد بازی،یا جبراً  اس قانون کو لاگو کرنے کی کوشش کیا،تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے‘‘۔این سی کے تحفظات کے بارے میں خان نے کہا کہ ہمارا کسی بھی سیاسی جماعت کیسا تھ کو ئی لینا  دینا نہیں بلکہ نیشنل کانفرنس نے بھی ماضی میں ریاستی عوام کو مارنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑ دی۔  انہوں نے کہا کہ فی الوقت بھی کشمیری تاجر دوہرا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔