اپریل کے مہینے میں 14 تصادم آرائیوں کے دوران 23 جنگجو اور 2 اہلکار از جان

نیوز ڈیسک
سری نگر// جموں وکشمیر میں اپریل کے مہینے میں سیکورٹی فورسز اور جنگجووں کے مابین 14تصادم آرائیاں ہوئیں جس دوران 23 ملی ٹینٹ مارے گئے جبکہ فرائض کی انجام دہی کے دوران دو اہلکار بھی از جان ہوئے ہیں۔

اعدادو شمار کے مطابق رواں سال کے دوران ابتک 64 جنگجو مارے گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 64 جنگجووں میں سے 47 مقامی اور 17غیر ملکی تھی ۔

ان کے مطابق مارے گئے جنگجووں میں 39 لشکر طیبہ سے وابستہ تھے، 17جیش ، 6 حزب المجاہدین اور 2 البدر سے تعلق رکھتے تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق یکم اپریل کو ترکہ وانگام شوپیاں میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں لشکر جنگجو منیب احمد شیخ ولد شاہ محمد ساکن ٹاک محلہ شوپیاں مارا گیا۔

دو اپریل کو آری گام ترال میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ انکاونٹر میں لشکر طیبہ کے دو جنگجو عمر نبی تیلی عرف طلحہ ولد غلام نبی ساکن لدو کھریو اور شفاعت مظفر صوفی عرف ماویا ولد مظفر احمد ساکن بٹہ گنڈ ترال مارے گئے۔

اعداد وشمار کے مطابق 7 اپریل کو ہاری پورہ شوپیاں میں ایک مختصر تصادم میں کے دوران جنگجو راہ فرار اختیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔

نو اپریل کو سر ہامہ اننت ناگ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں لشکر کمانڈر نثار احمد ڈار عرف مصیب ولد غلام حسن ڈار ساکن ریڈونی بالا مارا گیا۔

نو اپریل کو چیک صمد کولگام میں سیکورٹی فورسز اور جنگجووں کے مابین گولیوں کا تبادلہ ہوا جس دوران جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

دس اپریل کے دن بشمبر نگر ڈلگیٹ میں دو غیر ملکی جنگجووں کو پولیس نے مار گرانے کا دعویٰ کیا ۔

اعداد وشمارمیں مزید بتایا گیا کہ 13اپریل کو کھور بٹہ پورہ کولگام میں سیکورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران جیش سے وابستہ دو جنگجو مارے گئے جن میں پاکستانی کمانڈ جمیل پاشا بھی شامل تھا ۔ اس تصادم میں اور ایک جنگجو سمیر احمد صوفی ولد فاروق احمد صوفی ساکن امشی پورہ شوپیاں بھی از جان ہوا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 14اپریل کو سیکورٹی فورسز نے بادی گام شوپیاں کا محاصرہ کیا اور فورسز اہلکار تلاشی کارروائی میں مصروف تھے کہ اسی اثنا میں وہاں پر جنگجووں اور فورسز کے مابین تصادم چھڑ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس تصادم آرائی کے دوران چار جنگجو مارے گئے جن کی بعد میں شناخت شوکین احمد ٹھوکر ولد محمد عبدا للہ ٹھوکر ، فاروق احمد بٹ ولد عبدالسلام بٹ ساکنان سوگن شوپیاں اور عاقب احمد ٹھوکر ولد فاروق احمد ٹھوکر ، وسیم احمد ٹھوکر ولد عبدالغنی ٹھوکر ساکنان ہف کھوری شوپیاں مارے گئے۔

اُن کے مطابق 16اپریل کو وتہ نار کوکر ناگ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران ملی ٹینٹوں نے فائرنگ کی جس وجہ سے ایک فوجی اہلکار نشان سنگھ از جان ہوا۔ تصادم کے دوران ملی ٹینٹ فورسز کو چکمہ دے کر فرا رہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ 22اپریل کے روز سنجواجموں میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں دو غیر ملکی جنگجو مارے گئے جبکہ ملی ٹینٹوں کی ابتدائی فائرنگ میں ایک سی آئی ایس ایف آفیسر بھی ہلاک ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ 22 اپریل کے روز بارہ مولہ کے مالوا علاقے میں 40 گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ میں لشکر طیبہ کا اعلیٰ کمانڈر یوسف کانترو اپنے دو ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

اپریل 23 کو مرہامہ کولگام میں جیش سے وابستہ دو غیر ملکی جنگجو سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں از جان ہوئے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 24 اپریل کو پاہو پلوامہ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں لشکر طیبہ کے تین جنگجو ہلاک ہوئے جن کی بعد میں شناخت عارف احمد ہزار عرف ریہان ، ابوحزیفہ عرف حقانی ساکن پاکستان اور نتیش وانی عرف حیدر ساکن خانیار سری نگر مارے گئے۔

اپریل 28ک و متری گام پلوامہ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں البدر سے وابستہ دو جنگجو مارے گئے جن کی بعد میں شناخت اعجاز حافظ ساکن ڈلی پورہ اور شاہد ایوب ساکن مرن کے بطور ہوئی ہے۔

دریں اثنا رواں سال کے دوران ابتک جموں وکشمیر میں 39 انکاونٹر ہوئے ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق ضلع میں پلوامہ میں رواں سال کے دوران ابتک نو تصادم آرائیاں ہوئیں، شوپیاں میں آٹھ، سری نگر میں سات، کولگام میں چھ ، بڈگام اور اننت ناگ میں دو ، کپواڑہ میں بھی دو ، بارہ مولہ گاندربل اور جموں میں بالتریب ایک ایک تصادم ہوا۔