اٹانومی والے لوگوں کو مزید فریب نہ دیں

 سرینگر//جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ مین سٹریم جماعتوں کی جانب سے اٹا نومی کا شور شرابا کیا جارہا ہے حالانکہ اٹانومی کشمیریوں کےلئے کوئی خوش خبری نہیں ہے کیوں کہ1947 میں جب بھارتی فوج لائی گئی تو اسی اٹانومی کے تحت اُن کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھایا گیا اور اندرونی طور پر انہیں کئی اہم شعبوں بشمول عدلیہ میں اٹانومی دی گئی لیکن اُس اٹانومی کا کیا حشر ہوا وہ سب پر عیاں ہے۔ ” جس کی لاٹھی اُس کی بھینس“ والا قانون عملایا گیا اور اٹانومی کا نام تک یہ لوگ بھول گئے۔ اقتدار کھوتے ہی ان لوگوں کے حواس اُڑ گئے اور اسی بدحواسی میں رائے شماری کانعرہ کھڑا کیا گیا۔ یہاں کے عوام نے اس نعرے پر لبیک کہتے ہوئے ان کا بھر پور ساتھ دیا لیکن جب اُن کو اس طریقے سے اقتدار ملتا نظر نہ آیا تو اُنہوں نے اس نعرے کو طلاق مغلظہ دے کر‘اقتدار کے پُرفریب نام پر میونسپلٹی اختیارات پر ہی قناعت کی اور رائے شماری جیسے مو¿قف سے ہی نہیں بلکہ اندرونی خودمختاری کو بھی ہمیشہ کے لئے تج دیا اور اُن کے کرم فرماﺅں نے اُن پر جتنا ہی حقیر کرم فرمانا منظور کیا اُس کو نعمت عظمیٰ سمجھ کر قبول کرلیا۔اب جموںوکشمیر کے پاس اُتنے اختیارات بھی نہیں ہیں جتنے بھارت کی مفلوک الحال ریاستوں کو حاصل ہیں۔ مالی اور اقتصادی طور پر جموںوکشمیر کو بہار، مدھیہ پردیش جیسی پسماندہ ریاستوں سے بھی بدتر بناکر رکھ دیا گیاہے البتہ یہاں کے نام نہاد اقتدار پر براجمان لوگوں کی ذاتی تجوریاں بھر کر اُن کے منہ بندکرائے گئے اور ان کرم فرماﺅں نے اپنی مرضی کے جو بھی قوانین یا ضابطے یہاں لاگو کرنے چاہیں‘ آنکھیں بند کرواکے انہی مفاد پرست سیاست دانوں کے ذریعے نافذ کروائے۔ اب کشمیریوں کو ان کرم فرماﺅں نے ایسی غلامی میں جکڑ دیا ہے کہ یہاں کی عدلیہ بھی اپنے احکامات نافذ کرانے کی پوزیشن میں نہیں ہے، دوسرے سرکاری شعبوں اور اداروں کی بات ہی نہیں ہے ۔ جماعت اسلامی لوگوں کو ان موقعہ پرست سیاست دانوں کے مکر و فریب سے خبردار کرتی ہے کیوں مزید دھوکے کھانا اب اس قوم کی دینی شناخت تک کو ختم کرانے کے مترادف ہوگا۔