آہ۔۔۔۔۔انجینئر فدا حسین جُو

۔16؍ جون 2017 کومجھے ایک دوست کی جانب سے نہایت ہی پراگندہ لہجے میں انجینئر فدا حسین جْو  کے انتقال پُر ملال کے بارے میں خبرملی۔ اس سے قبل کسی نے یہ خبر واٹس اپ پر نشر کر دی تھی کہ فدا حسین اب اس دنیا میں نہ رہے۔ جب اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ تنظیم المکاتب کے سابق نامی گرامی رکن اور ایجوکیشنل ٹرسٹ کشمیر کے نائب صدر چل بسے ہیں تو پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ نہ جانے کیوں فدا حسین جو کے ساتھ مرحوم لکھ کر مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں اپنے ہی مرقد کا کتبہ لکھ رہا ہوں۔ مرحوم کے ساتھ میرے بہت زیادہ گہرے اور قریبی تعلقات نہیں تھے بلکہ ایک دو بار چند منٹ طویل ہی رو برو ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔یہ امر لازمی نہیں ہے کہ جس کسی شخصیت سے آپ متاثر ہوںاس کے  ساتھ ہمیشہ چپکے رہیںاور ہر شادی و غمی میں اس کا دست ِشفقت آپ کے شانے پر رہے۔ البتہ کسی کا بظاہر معمولی سا احسان بھی اگر آپ کی زندگی کو صحیح سمت دے تو زندگی بھر اپنے اس محسن کا تذکرہ کرتے رہیے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب راقم الحروف نے چند ایک مقامی اخبارات اور رسائل میں مضامین اور کالم لکھنے کی شروعات کی تھی۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی کام کے آغاز میں ہر شخص ایک غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہوتا ہے، سو میں بھی تذبذب میں تھا۔ شوقِ تحریر نے میرے ہاتھ میں قلم تو تھما دیا لیکن ساتھ ہی ساتھ ذہن میں میرے ذوق شوق کی کشتی کو بار باریہ سوچ نااُمیدی کے بھنور میں دھکیل رہی تھی کہ کیا میٹرک پاس اور ناتجربہ کار نو جوان اس وادی میں قدم رکھنے کا متحمل ہو پائے گا کہ جہاں بڑے بڑے کہنہ مشق اور عالم و فاضل افراد کے قدم بھی ڈگمگائیں۔ میرے اندر عجیب قسم کی یاس و اُمید آپس میں گتھم گتھا تھے اور قریب تھا کہ ناامیدی اُمید پر غلبہ حاصل کر لیتی کہ اچانک ایک فون کال نے میرے عزم و ارادے کو نئی جلا بخشی اور مجھے حکیم الامت کا یہ حیات بخش پیغام سنا دیا     ؎
نہ ہو نومید نومیدی زوالِ علم و عرفان ہے 
امید مردِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
 فون کرنے والے اجنبی نے جب کہا میرا نام فدا حسین جْو ہے، پیشہ سے انجینیر ہوں ، مطالعہ کا کافی شوق رکھتا ہوں ، چند ایک دینی اور فلاحی تنظیموں میں بحیثیت ادنیٰ کارکن حقیر سی خدمت انجام دے رہا ہوں‘‘۔حسنِ اتفاق دیکھئے نہ صرف وہ میرے ہم نام نکلے اُن کے والد بزرگوار بھی میرے والد مرحوم کے ہم نام تھے۔ ان دنوں میں فدا حسین بالہامی کے بجائے فدا حسین جُوکے نام سے لکھتا تھااور مرحوم انجینیر فدا حسین جُو کے احباب میرے ہلکے پھلکے مضامین کو مرحوم کی قلمی کاوشیں سمجھ کر ان کی پذیرائی کیاکرتے تھے۔اس لئے انہوں نے مجھ سے کہا ’’کام تو آپ کر رہے ہیں اور پذیرائی میری ہو رہی ہے۔‘‘بہرحال یہ تو ظاہری مشابہت ہوئی لیکن جب انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تو میں نے اپنے آپ کو ان کا ہم خیال پایا۔ ایسا لگا جیسا کوئی میرے ما فی الضمیر کو پڑھ کر میرے سامنے ہی پیش کر رہاہے ،ا ن کے ایک ایک لفظ پردل گواہی دے رہا تھا  ع  میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔
فون پر پہلی باراپنا تعارف دینے کے بعدانہوں نے میرے کسی مضمون کے متعلق ان کی تفصیلی گفتگو سے مجھے یہ محسوس ہوا جیسے میں کسی انجینئر سے نہیں بلکہ ایک نہایت ہی سلجھے ہوئے ادیب اور منجھے ہوئے قلم کار سے بات کر رہا ہوں۔میں جو قلم کی وادی ٔ خار زار سے راہ فرار اختیار کرنے کی سوچ رہا تھا،دیوانہ وار اس میں آگے قدم بڑھاتا گیاکیونکہ انہوں نہ صرف ہر وقت میرا حوصلہ بڑھایا بلکہ اپنی مفید آرا ء سے بھی وقتاً فوقتاً نوازتے رہے۔ مرحوم کی عام اور سیدھی سادھی حیاتِ مستعار دو خاص پہلوؤں کی حامل رہی جن کا مختصر سا تذکرہ یہاں بے محل نہ ہوگا۔ مرحوم فدا حسین جُوسرینگر کے ایک گنجان آباد علاقہ لال بازار میں پیدا ہوئے۔انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نہایت ہی دیانت داری کے ساتھ مختلف محکموں میں نا قابل فراموش خدمات انجام دیں۔ مہندسی کے متعلق عمومی طور پر یہ تاثر ہمارے معاشرے میں پایا جاتا ہے کہ انجینئیر نگ کا شعبہ دولت کمانے کا ایک اچھا ذریعہ ہے لیکن مرحوم نے اس شعبے کو کبھی بھی حصولِ زر کا ذریعہ نہ مانا اور نہ جانا۔ پوری ایمانداری کے ساتھ اپنی سروس انجام دی اور چند سال پہلے ایکزیکیٹو انجینئر کے عہدے سے وظیفہ یاب ہوئے۔ انہوں نے فرض شناس افسرہونے کے ناطے ہی  اپنے فرائض ِمنصبی نہ نبھائے بلکہ اپنی سماجی ،دینی، علمی اور ذاتی زندگی کے فرائض کی انجام دہی میں بھی کوئی پہلوتہی نہ کی۔ مرحوم نے اوائل ِ زندگی سے ہی جہاں اپنی ڈیوٹی میں کسی طرح کی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے ،وہاں اپنی دینی،معاشرتی ، اجتماعی اور عائلی زندگی کے فرائض بحسن خوبی نبھانے کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔ تحریک تنظیم المکاتب کشمیر ، ادارۂ نشر علوم اہل بیتؑ اور ایجوکیشنل ٹرسٹ کشمیر میں ان کی خدمات اور فعالیت آب ِزر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ مرحوم نے اپنی زندگی میں بہت ساری مشکلات کا بہادرانہ سامنا کیااور ہر چلینج کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کیا۔اگر چہ زندگی کے آخری ایام میں مصائب نے مرحوم کو چہار جانب گھیر لیا لیکن کبھی آہ تک نہ کی۔ چند سال قبل ان کے جوان سال داماد فوت ہو گئے ، گزشتہ سال مرحوم کی ایک صاحبزادی اور ان کا واحد بیٹا بھی یکے بعد دیگرے جواں مرگ ہو گئے مگر گھر کا گھر خالی ہونے کے باوجود بھی وہ زندگی سے بد دل ہوئے اور نہ مقدر سے شکوہ سنج بلکہ اعصاب شکن حالات میں بھی حسب ِمعمول ہر سطح پر اپنی زندگی کو رواں دواں رکھا،وہی خندہ روئی ، اوروں کے تئیں وہی درد و سوز، اپنے فرائض سے وہی لگن اور علمی امور میں وہی ذوق و شوق ان کا اوڑھنا بچھونا بنارہا جو ان کی طبیعت کا خاصا تھا۔المختصرمرحوم فدا حسین جُووہ خدا دوست شخصیت تھے جو محرومی اور تلخ کامی کے باوجود حقوق اللہ اورحقوق العباد کی انجام دہی میں جانفشانی ، ثابت قدمی اور اخلاص مندی سے ڈٹے رہے اور اللہ کے بلاوے پر اپنی جان جان آفرین کے حوالے کردی۔ ع 
 حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا 
فون نمبر 9596465551