آکسفورڈ یونیورسٹی کا تیار کردہ ٹیکہ ، کووِڈ- 19سے بچائو کی اُمید

لندن//آکسفورڈیونیورسٹی کے محققوں نے کووِڈ- 19سے بچائو کیلئے ایک ٹیکہ تیار کیا ہے اور اس کے تجربات انسانوں پر کئے گئے ہیں۔اس بات کااظہار ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں کیا گیا ہے ۔برطانیہ کے رضاکاروں کے ایک گروپ  جنہیں یہ ٹیکہ لگایا گیاتھا،کے خون کے نمونوں کی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ اس سے جسم میں اینٹی باڈیزاور’’کلرٹی سیلز‘‘(Killer T cells)پیدا ہونے میں مددملی ہے۔لندن کے ’’ڈیلی ٹیلی گراف‘‘ اخبار نے اس کی اطلاع اس تجربے سے جڑے ایک سینئرذرائع کے حوالے سے دی ۔ یہ انکشاف امیدافزا ہے کیوں کہ تحقیق سے پتہ چلاہے کہ اینٹی باڈیزمہینوں میں ختم ہوتی ہیں،جبکہ ٹی سیلزسالہال سال خون میں گردش کر سکتی ہیں.۔ تاہم ذرائع نے متنبہ کیا کہ اگرچہ اس کے نتائج کافی امیدافزاء ہیں ،تاہم ابھی یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ اکسفورڈ کا ٹیکہ اس مہلک مرض سے طویل مدت تک مدافعت فراہم کرے گا۔ذرائع نے کہا ،’’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم جانتے ہیں کہ ٹیکہ دونوں بنیادوں،ٹی سیلز کے پیدا ہونے اوراینٹی باڈیز ردعمل کااحاطہ کرتا ہے ،اور یہ ان دونوں کااشتراک ہے جولوگوں کوممکنہ طور محفوظ رکھ سکتا ہے۔اب تک یہ ایک اچھااوراہم لمحہ ہے ،لیکن ابھی ہمیں اور دور تک جانا ہے‘‘۔ٹیم سے نزدیک اوراورذارئع نے اینٹی باڈیزاورٹی سیلزکی موجودگی کوکووِڈ- 19سے دوگناتحفظ قرار دیا۔’دی لینسٹ‘نامی طبی جریدے نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ وہ ابتدائی مراحل کے انسانوں پر کئے گئے آزمائشی اعدوشمار کو پیر سے شائع کرے گا۔ڈیوڈ کارپینٹرجو برک شائر ایتھکس کمیٹی کے چیئرمین ہیں،نے کہا کہ ٹیکہ تیار کرنے والی ٹیم  مکمل طورصحیح راستے پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں حتمی تاریخ کوئی نہیں بتاسکتا۔۔۔غلطی بھی ہوسکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک بڑی دواساز کمپنی کے ساتھ کام کرتے ہوئے یہ ٹیکہ ستمبر تک دنیا بھر میں دستیاب ہوسکتا ہے اوراس ہدف پر کام ہورہا ہے ۔ٹیکہ کی تیاری یونیورسٹی کے جینرانسٹی چیوٹ کررہا ہے اور اس میں برطانوی حکومت اور ایسٹرازینیکاکاتعاون شامل ہے ۔دواسازکمپنی نے کہا کہ آزمائشوں کاپہلا مرحلہ گزشتہ ماہ ختم ہوااورتیسرامرحلہ جس میں ہزاروں لوگوں کو یہ ٹیکہ دیاجائے گا،شروع ہوا ہے ،تاکہ اس کے تحفظ اوراثرات کی جانچ کی جاسکے۔