آپریشن جاری،270گرفتار، غلام نبی سمجھی،مولانا مشتاق ویری ، نائب امیر جماعت اوردیگر کئی حراست میں لئے گئے

سرینگر// انتظامیہ کی طرف سے جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر مزاحمتی کارکنوں اور اب جمعیت اہلحدیث کیخلاف بھی گرفتاریوں کا آپریشن شروع کردیا ہے۔پیپلز لیگ کے نائب چیئرمین محمد یاسین عطائی،تحریک حریت کے امتیاز حیدر،اور مسلم لیگ کے بشیر احمد بڈگامی بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ابتک 270افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب پولیس نے شمال جنوب میں ایک ساتھ جماعت اسلامی کے لیڈران اور کارکنوں کیخلاف گرفتاریوں کا آپریشن کرتے ہوئے امیر جماعت، ڈاکٹر حمید فیاض، ایڈوکیٹ زاہد کے علاوہ سبھی اضلاع کے امیر ضلع، قیم جماعت اسلامی، سابق قیم ،اور دیگر لیڈران کو حراست میں لیا۔ان گرفتاریوں سے متعلق پولیس کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ادھرسنیچر اور اتوار کی درمیانی رات پولیس نے حریت(گ) کے سنیئر لیڈر غلام نبی سمجھی ،جمعیت اہلحدیث نائب صدر مولانا مشتاق ویری، دفاع جمعیت سربراہ محمد مقبول آکھرنی اور درجنوں دیگر افراد کی گرفتاری عمل میں لائی۔غلام نبی سمجھی کو انکی بجبہاڑہ رہائش گاہ  سے گرفتار کیا گیا۔پیپلز لیگ کے نائب چیئرمین محمد یاسین عطائی،تحریک حریت کے امتیاز حیدر،اور مسلم لیگ کے بشیر احمد بڈگامی کے علاوہ محمد یوسف، لبریشن فرنٹ کے مولوی ربانی،فیاض احمد اور مشتاق احمد کو بھی گرفتار کیا گیا۔اننت ناگ میں دوران شب جماعت اسلامی کے مزید8افراد کو حراست میں لیا گیا۔ شوپیاں میں سنیچر اور اتوار کی شب جماعت اسلامی سے وابستہ5افراد سمیت15 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ کولگام میں دوران شب جماعت اسلامی سے وابستہ محمد مقبول ڈار اور محمد جمال لون کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ادھر ترال کے ڈادہ سرہ علاقے سے پیپلز لیگ کے رکن نثار احمد راتھر کے بھائی بشیر احمد راتھر،جبکہ اننت ناگ میں جمعیت اہلحدیث سے وابستہ شیراز احمد کے علاوہ رفیق احمد ساکن بجبہاڑہ کو بھی حراست میں لیا گیا۔بارہمولہ میںصدر مجلس اوقاف اسلامی نذیر احمد خان کو گرفتار کیا گیا۔لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک، فرنٹ کے گلزار احمد پہلوان اور بشیر احمد بویا  کی گرفتاری پہلے ہی عمل میں لائی گئی ہے۔
 

انتقام گیری:جماعت

سرینگر//جماعت اسلامی، تحریک حریت، لبریشن فرنٹ، جمعیت اہل حدیث اور دیگرآزادی پسند سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے لیڈران و کارکنان کی گرفتاریاں قابل مزمت ہیں۔جماعت اسلامی نے مزید کہا ہے کہ نائب امیر جماعت احمد اللہ پرے مکی، امیر ضلع سرینگر بشیر احمد لون، امیر تحصیل ویلگام نصیر احمد فلاحی،عالم دین پیر نور الدین، جمعیت اہل حدیث کے مولانا مشتاق احمد ویری، مولانامحمد مقبول آکھرنی سمیت درجنوں ارکان جماعت کو گزشتہ شب سے اپنے آبائی علاقوں سے گرفتار کرلیاگیا۔ جنوبی کشمیر کے شوپیان علاقے میں پولیس نے ضلعی دفتر پر چھاپہ ڈالتے ہوئے یہاں موجود عملے سے پوچھ تاچھ کرنے کے علاوہ ارکان کی تفصیلات سے متعلق کاغذات طلب کئے۔ ادھر امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عبدالحمید فیاض کو اتوار کے روز تحصیلدار بڈگام کے سامنے پیش کیا گیا جہاں انہیںجوڈیشل ریمانڈ پر2مارچ تک سنٹرل جیل سرینگر منتقل کیا گیا۔پولیس نے شوپیان اور اسلام آباد اضلاع میں کئی ارکان جماعت کو گھروں میں نہ پاکر اُن کے فرزندان کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں بند کردیا ہے۔جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے خلاف حکومتی کریک ڈائون سراسر غیر جمہوری ہے اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت اپنے آقائوں کی خوش نودی حاصل کرنے کی خاطر انتقام گیرانہ رویے پر اُتر آئی ہے۔ ایک طرف وادی میں مزید فورسز کمپنیاں طلب کی جارہی ہے اور راتوں رات شہر سرینگر کی سڑکوں پر فورسز کے سیلاب کو تعینات کردیا جاتا ہے۔ دفعہ 35Aکی شنوائی کے موقعے پر وادی کشمیر میں چپے چپے پر فورسز تعینات کی جاتی ہے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جس سے یہ اندیشہ تقویت پارہا ہے کہ حکومت جماعت اسلامی کے تئیں انتہائی بداندیش معلوم ہورہی ہے۔  
 

جنگی ماحول بنانے کی کوشش :گیلانی

سرینگر// حریت(گ) چیئر مین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ پوری کشمیری قوم کو اعصاب شکن اضطراب میں مبتلا کرکے جنگی ماحول بنانا بھارت کے حربے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پلوامہ واقعہ کو اپنے اقتدار کے لیے سیڑھی کے طور پر استعمال کرنے کا ایک منظم اور مربوط پلان تیار کیا ہوا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ وہ ایسے ہی کسی واقع کی تلاش میں تھے اور جونہی ایسا ہوا تو لاشوں پر سوگ منانے کے بجائے حکمرانوں نے اپنے آپ کو مسیحا کے طور پر پیش کرکے عوام سے انہیں اور زیادہ مضبوطی سے اعتماد دینے کی ڈرامائی اپیل کی۔گیلانی نے آزادی پسند قیادت اور خاص کر جماعت اسلامی کے اکابرین کو پابند سلاسل کرنے کے حربوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم گزشتہ 7دہائیوں سے اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ بھارت نے آہنی ہتھکنڈوں سے اس تحریک کو دبانے کی ہرممکن کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں اور تباہی وبربادی کے مناظر ہر چار سو نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا آزادی پسند تنظیموں اور اُن کے افراد کے لیے قیدوبند کی صعوبتیں کوئی نئی بات نہیں ہے اور ہم لوگ ایسی آزمائش کے مراحل سے کئی بار گزرچکے ہیں ۔گیلانی نے کہا کہ پوری قوم ایک غیر یقینیت اور تذبذب کے دور سے گزررہی ہے۔ اس مصیبت کی گھڑی میں ہمیں آپسی خیر سگالی اور باہمی اخوت اور ہمدردی کے جذبے سے سرشار ہوکر ان کٹھن حالات کا بہادری، صبر واستقامت سے مقابلہ کرنا ہوگا۔