آپرویشن’’ رد الفساد‘‘

  حال ہی میں پاکستان کے تین صوبوں میں ہلاکت خیز بم دھماکوں کے بعد دہشت پسندوں کے خلاف فوج نے ’’ردالفساد‘‘ سے موسوم اپنی کارروائی بڑے پیمانے پر شروع کر رکھی ہے۔ ضرب ِ حق کے بعد یہ اپنی نوعیت کا دوسرا آپرویشن ہے جس کا مقصد دہشت گردانہ فساد کا عسکری توڑ ہے۔ پا کستانی قوم چاہتی ہے کہ ان کے خلاف دہشت گرد گروپ جو قتل وگارت کا باز ار گرم کئے ہوئے ہیں ،اس سے انہیں چھٹکارا ملے اور آرامو سکون سے جی سکیں۔ زیر بحث کارروائی کے خلاف خیبر پختوں خواہ اسمبلی نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر ایک قرارداد منظور کی جس میں ملک میں شروع تلاشی آوپریشن کی مذمت کی گئی۔قراراداد سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک بھر بالخصوص پنجاب میں ’’ردالفساد‘‘ آوپریشن کا نشانہ پختون قوم ہے یا اس کا ہدف افغان ہیںیا کسی ایک خاص قوم کو برے سلوک کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ کے پی کے اسمبلی نے پنجاب، سندھ، ’’آزاد کشمیر‘‘ اور ملک کے دیگر علاقوں میں پختونوں کی گرفتاریوں کی بھی مذمت کی ہے اور یہ تاثر دیا ہے کہ پختونوں کے خلاف ٹارگٹڈ آوپریشن کیا جا رہا ہے جسے فوری طور پر بند کیا جائے۔ یہ بھی تاثر دیا جا رہا ہے کہ ملک میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی میں افغانوں اور قبائلی علاقوں کے شر پسند عناصر ملوث ہیں۔ پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت پر سر عام ناکامی  کی الزامات لگا رہی ہیں۔ عوام یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ پارٹیاں کن وجوہات سے یہ سب الزامات فوجی آپرویشن عائد کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا سراج الحق نے لاہور میں جرگہ بلانے کا بھی اعلان کر دیا ہے جس کی وہ تیاریوں میں مصروف ہیں۔
پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور دیگر پارٹیوں کو مسلم لیگ ن سے سیاسی اختلافات ہیں۔ تا ہم یہ کوئی نہیں بتا سکتا ہے کہ کوئی پارٹی کسی نسل، فرقے یا لسانی بنیادوں پر ملک میں نفرت اور تعصب کو ہوا دینے کا باعث بنے گی۔ اگر ایسا ہو رہا ہے تو یہ بلا شبہ ملک دشمنی ہو گی۔ ملک کے عوام چاہے وہ کسی بھی فرقے ، زبان اور علاقے سے تعلق رکھتے ہوں ، سب محب وطن ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف یک زبان ہیں۔ پختون قوم بھی دل و جان سے محب وطن ہے۔ اس قوم نے پاکستان میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ا فوس کہ اسی قوم کا بھی اس لئے سب سے زیادہ استحصال کیا گیا کیوں کہ یہ پاکستان اور اسلام پسندی میں بھی سب سے آگے ہے۔ بایں ہمہ یہ الزام شاید درست نہیںہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف شروع کسی آوپریشن کا نشانہ کوپختون ہی بنائے جارہے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس کا نشانہ صرف دہشت گردی ہی ہے چاہے اس کے ملوثین کسی بھی ذات برادری خطے صوبے سے تعلق رکھتے ہوں۔ سوال یہ ہے کہ ملک میں یہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کس نے شروع کی؟ اس کا ماسٹر مائینڈ کون ہے؟ یہ کیسے ختم ہو سکتی؟ یہ سب کام اس کی وجوہات کو ختم کئے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا ہے مگر ایسا بھی صحیح نہیں ہو سکتا کہ کوئی گروہ اپنے مفاد میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنائے۔ ریاست کے اندر ریاست تشکیل دینے کی کسی بھی فرد یا گروہ یا طبقہ ٔخیال کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کوئی کتنا بھی اہم  ہونہ قانون سے بالاتر ہے نہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے سکتا۔ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکوہ ہے کہ وہ شر پسندوں کو گرفتار کرتے ہیں اور عدالتیں انہیں رہا کر دیتی ہیں، تو پھر بھی ان تحفظات کی وجہ سے کوئی بھی فرد بشر یا ریاستی ادارہ قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا ہے۔ انصاف کی بے لاگ فراہمی اور سزا صرف عدالتوں کا کام ہے۔ سول عدالتوں پر اعتماد کا نہ ہونا بھی ملکی قوانین پر عدم اعتماد کا اظہار ہو گا۔اسی وجہ سے فوجی عدالتوں کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ اصل خرابی کو دور یا اس میں ترامیم کے بغیر ہی یا اس کی موجودگی میں ہی نئے قوانین کی ضرورت کے پیش نظر اس میں سقم محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر مفصل روشنی دالنے کی ضرورت ہے۔ 
یہ ایک چشم کشا المیہ ہے کہ ایک صوبے کی اسمبلی کو ملک میں منافرت یا تعصب کو اجاگر کرنے کے لئے بروئے کار لایا گیا ہے۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ پنجاب اور وفاق مسلم لیگ ن کے پاس ہے۔ سیاسی اختلاف کو اداروں کے اختلاف میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ملک میں کسی بھی جگہ آوپریشن میں پختون نشانہ بن رہے ہیں یا ان کو ہی امتیاز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو بلا شبہ وہ سب قابل گرفت اور لائق مواخذہ امر ہے مگر بلاکسی ٹھوس ثبوت وشواہد کے ایسی افواہیں پھیلانایا سازشیں رچانا  دہشت گردی کی طرح قوم بیزاری اور ملک دشمنی قرار پائے گی۔ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو براہ راست نشانہ بنانے کے مترادف ہے بلکہ ان کے کام میں رخنہ اندازی کر نے کے برابر ہے۔ یا رہے کہ پنجاب کی پولیس یا دیگر فورسز کسی ایک پارٹی یا منصب دارکے وفادار نہیں بلکہ و ہ مملکت خدادادا کے محافظ اور عام انسان کے مددگار ہیں ، ملک کا ہی اثاثہ ہیں۔ اسی طرح سندھ اور کے پی کے کا معاملہ ہے۔ اگر پنجاب کے قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلم لیگ ن، سندھ پی پی پی اور کے پی کے کو پی ٹی آئی کی ملکیت سمجھ لیا جائے تو یہ ملک دشمنی ہو گی اورا س ے بھانت بھا نت کی بولیوں کو فروغ ملے گا۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ قانون نا فذ کرنے والے ادارے ملکی عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ یا مراعات پا لیتے ہیں۔ و ہ کسی ایک پارٹی کے ذاتی غلام نہیں ہوسکتے۔ اگر یہ ایک بدیہی حقیت ہے تو و ہ کیونکر کسی ایک پارٹی یا حکومت کی ہدایت پر ملک کے کسی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھ سکتے ہیں؟ بہر کیف اگر ایسا کسی اہل کار یا افسر کے بارے میں حقائق ودلائل کی بنیاد پر ثابت ہو تو اس کی نوکری کو ہی خطرہ نہیں بلکہ اس کو قانون کی رُوسے اپنے کئے کی کڑی سزا مل سکتی ہے۔ بالفاظ دیگر اپنے فرائض سے غفلت کے نتیجے میں وہ نہ صرف نوکری سے برطرف ہوسکتا ہے بلکہ قرار واقعی سزا کا حق ادر بھی ٹھہر سکتا ہے۔ قانون اور انصاف کی پاسدار ریاستوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ قانون سے کوئی بالا تر نہیں ہو سکتا ، چاہے وہ کوئی جنرل یا آئی جی ہو یا کوئی نائب قاصد یا خاکروب ہو۔ 
وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون نے اس بارے میں وضاحت کی ہے۔ اگر الزامات ہیں تو ٹھوس شواہد بھی ہوں گے ورنہ ملک میں تعصب اور نفرت کو ہوا دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ پاک فوج کو بھی سامنے آنا پڑا ہے۔ وہ بھی اس غلط تاثر کو ایک گہری سازش سے تعبیر کرتی ہے۔ اگر صوبائی تعصب اور لسانی نفرتوں کو ہوا دینے سے کسی کی سیاست چمک سکتی ہے تو یہ بھی المیہ ہو گا۔ سرچ آپریش کے طریقہ کار کو صاف و شفاف ہو نا چاہیے تا کہ کوئی بے گناہ اس کی لپیٹ میں نہ آسکے یا کسی کو نفرت پھیلانے کا موقع نہ مل سکے۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو اتو بھی قانون نافز کرنے والے ادارے ہی نہیں بلکہ موھودہ حکومت بھی اس کے نرغے میں آئی گی۔ ملک کا شہری جہاں چاہے جا سکتا ہے۔ تعلیم ، کاروبار یا ملازمت کے لئے وہ اپنی من پسند جگہ کا انتخاب کرنے میں آزاد ہے۔ کوئی اس میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ پنجاب یا سندھ، بلوچستان یا کے پی کے پر حق اس ملک کے ہر ایک شہری کا ہے۔ افسوس ہے ملکی سا  لمیت اور یک جہتی کو فروغ دینے کے بجائے سیاست چمکانے کے لئے لسانی یا صوبائی تعصب اور نفرتوں کو بڑھاوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا اس ملک کے عوام اتنے معصوم اور شعور سے عاری ہیں کہ وہ سازشیوں کے بہکاوے میں آجائیں؟آوپریش ’’ردالفساد‘‘ کا مقصد صرف دہشت گردی کو سختی سے کچلنا یا رد کرنا یا اسے جڑسے اُکھاڑ پھینکنا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ دیہات ہی نہیں بلکہ شہروں میں لوگوں کی ذاتی دشمنیاں اور رقابتیں ہوتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی دشمنیاں کرسکتے ہیں ۔ ذاتی دشمنی یا عداوت یا سیاسی مخالفت کی بنیاد پر دفاع ِ قوم کے کسی آوپریشن کا رُخ موڑنے کی کسی کو اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ البتہ اگر کسی سے اس دوران دیدہ ودانستہ زیادتی ہو رہی ہے تو اس کا فوری ازالہ بھی ہونا چاہیے تا کہ کسی کو ریاستی ایکشن پلان پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔
ؕ