آو چلیں گاوں کی اور کا تیسرا مرحلہ | گول میں پنچایتی نمائندگان پہلے دومراحل سے بدظن

گول//پورے جموںو کشمیر میں ’’بیک ٹو ولیج‘‘کا آغا ہونے کے ساتھ ہی اس کے بائیکاٹ کی مہم بھی شروع ہوگئی ۔گول میں بھی اس پروگرام کا آج سے آغاز ہورہاہے تاہم اس سے قبل بانہال اور کئی دوسرے علاقوں میں پنچایتی نمائندگان نے ’’بیک ٹو ولیج‘‘ پروگرام سے کنارہ کشی کی ۔گول میں اگر چہ پنچایتی نمائندگان نے اس پروگرام سے کنارہ کشی نہیں کی تاہم بیشترپنچایتی نمائندگان حکومت سے خفا ہیں ۔ ضلع رام بن کے گول کے بلاک گول ، بلاک گنڈی داڑم اور بلاک سنگلدان میں اکثر پنچایتی نمائندگان نے بیک ٹو ولیج پروگرام کو ایک فضول مشق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام پر خرچنے والا پیسہ بھی فضول خرچی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی پروگرام سے زمینی سطح پر کام نہیں بنے گا ، غریب عوام کا فائدہ نہیں پہنچے گا تو وہ پروگرام کرنا فضول ہی ہے اور اس میں شمولیت بھی فضو ل ہے تاہم وہ اس پروگرام میں شرکت کریں گے یا نہیں ،اس پر ہر ایک سوچ رہاہے۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتی ہوئی بلاک چیئر پرسن بلاک گول شکیلہ بیگم نے اس پروگرام کو ایک فضول مشق قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے اور دوسرے مرحلے میں جو بڑے بڑے دعوے کئے تھے ہم سے وعدے کئے تھے لیکن کوئی وعدہ وفا نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ پہلا اور دوسرا مرحلہ صفررہا اور اب تیسرا مرحلہ ہونے جا رہا ہے، دیکھتے ہیں اس میں کیا کریں گے ۔ تا ہم انہوںنے پروگرام سے بائیکاٹ کرنے سے چپ سادھ لی۔ وہیں بلاک چیئر مین گنڈی داڑم جاوید اقبال منہاس نے اسے کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری چار پنچایتوں میں دس دس لاکھ روپے آئے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ بہت اچھا پروگرام ہے اورلوگوں کو فائدہ مل رہا ہے ۔گول پنچایت کے سرپنچ گلزار احمد تراگوال نے اس پروگرام کو کسی حد تک کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر چہ پہلے دو مرحلوں میں جو وعدے کئے تھے وہ تمام پورے نہیں ہوئے تا ہم ان کی پنچایت میں تین لاکھ روپے آئے جو انہوں نے بجلی کی بہتری کے لئے خرچ کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں کچھ نہیں آیا ۔ وہیں پرتمولہ پنچایت کے سرپنچ مشتاق احمد نے اسے لوگوں کے ساتھ دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گول بلاک میں نو پنچایتیں ہیں ان میں صرف دو پنچایتوں میں تھوڑی بہت رقم آئی ہے باقی سات پنچایتوں میں پہلے دو مرحلوں میں جو کام لکھائے گئے تھے اس میں ایک بھی نہیں ہوا ۔ انہوں نے اسے ناکام قرار دیا۔وہیں پنچایت گول بی کے سرپنچ روشن دین لوہار اور عبدالطیف ملک نائب سرپنچ نے اس پروگرام کو فضول مشق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دھوکہ ہے اور کچھ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دو مرحلوں میں جو وعدے کئے تھے بڑے بڑے کام لکھائے تھے لیکن ایک بھی پورا نہیں ہوا اور آج تیسرا مرحلہ ہونے جا رہا ہے اس سے کیا فائدہ ہو گا ۔ بلاک گنڈی داڑم کے بھیمداسہ پنچایت کے سرپنچ نے بھی اسے فضول مشق قرار دیاہے اور کہا کہ ہمارے پاس کچھ نہیں آیا اور جو کام پہلے دو مرحلوں میں لکھوائے تھے ایک بھی نہیں ہوا ،ابھی تک وہ کام ہونا چاہئے تھا اس کے بعد یہ تیسرا مرحلہ شروع ہونا چاہئے تا کہ ہم بھی لوگوں کے سامنے جواب دینے کے قابل ہوتے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا گیا کہ 14FCکے تحت سپورٹس کٹس کے لئے آپ کے اکائونٹ میں جمع کیاگیاہے لیکن ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی اوربنک پر جا کے ہی معلوم ہو گا ۔بلاک سنگلدان کے پنچایت فمروٹ کے سرپنچ محمد امین بٹ نے سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک طرف سے وقت کا زیاں ہے وہیں عوام کے ساتھ دھوکہ بھی کیا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ پہلے اور دوسرے مرحلے میں لوگوں کے ساتھ جو وقت کئے تھے وہ ایک بھی پور انہیں ہوا جس کے چلتے پنچایتی نمائندگان کے ساتھ ساتھ عوام بھی انتظامیہ اور سرکار سے ناراض ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کے سامنے بلی کا بکرا بناکے رکھا ہے اور ہم لوگوں کے سامنے بدنام ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلاک سنگلدان میں اپنے دورے کے دوران ڈی سی رام بن نے یقین دہانی کرائی تھی کہ تیسرے مرحلے میں دس دس لاکھ روپے فی پنچایت کو ملے گا اس اُمید کے ساتھ ہم کل اس تیسرے مرحلے میں شمولیت کر رہے ہیں تا کہ کچھ نہ کچھ فائدہ حاصل ہوگا اور اگر پھر بھی ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا پھر آئندہ لائحہ عمل طے ہو کے اگلا قدم اٹھایا جائے گا ۔ گول پنچایت جمن کے واڑ ممبر مسیع الدین نائیک نے کہاکہ سرکارلالی پاپ دے رہے ہی ہے ،ہمارے سرپنچ اور پنچ لوگ اس لالی پاپ کولے رہے ہیں ،کچھ خود غرض لوگ ملے ہوئے ہیں جن کو ذاتی فائدہ ہو رہا ہے اور وہ انتظامیہ سے ملے ہیں ، حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوئے ہیں چاہے وہ سیاسی ہوں یا اقتصادی ۔ انہوں نے کہا کہ تمام پنچایتی نمائندوں کو اس پروگرام سے بائیکاٹ کرنا چاہئے کیونکہ آج تیسرا مرحلہ ہو رہا ہے ،پہلے دو مرحلے میں کیا ہواجو اب تیسرا ہونے جا رہا ہے ۔ یاد رہے سنگلدان میں حال ہی میں محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے عوامی مہم کے موقعہ پر بلاک کے تمام سرپنچوں نے اس پروگرام کا مکمل بائیکاٹ کیا تھا جس کے چلتے انتظامیہ میں کافی ناراضگی پیدا ہوا او ر دوسرے ہی روز ضلع ترقیاتی کمشنر خود منانے کے لئے سنگلدان آئے اور تمام سرپنچوں کے ساتھ میٹنگ کی ۔گول کے عام لوگوں کی اکثریت بھی اس پروگرام سے خفا ہے اور ان کاکہناہے کہ پہلے دو مراحل سے کچھ نہیں بدلا اور اب اس تیسرے مرحلے سے بھی کچھ نہیںہوناہے۔
 
 

کچھ عناصر پنچایتی راج نظام کو ناکام بنانے کے در پے | بانہال میں بائیکاٹ کرنیوالے سرپنچوں کا الزام 

 

محمد تسکین  

بانہال // ضلع رام بن میں بیک ٹو ولیج کا تیسرامرحلہ اتوار کو اپنے اختتام کو پہنچا جبکہ بلاک بانہال میں کئی سرپنچوں نے اس مہم کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ بائیکاٹ کرنے والے سرپنچوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرکاری مشینری اور انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود بلاک بانہال میں بیک ٹو ولیج 3 مشق مکمل طور سے ناکام ثابت ہوئی اور سرکار کے مبینہ جھوٹے وعدوں کی وجہ سے لوگوں نے اس پروگرام سے کنارہ کشی اختیار کی ۔ بائیکاٹ کرنے والے سرپنچوں نے کہا کہ بانہال میں بیک ٹو ولیج پروگرام کی ناکامی سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ کھوکھلے وعدوں کے سوا زمینی سطح پر جس تعمیر  وترقی کی باتیں کی جارہی ہیں وہ سب غلط اور بے بنیاد ہے اور لوگ اس مہم سے نالاں ہیں۔ انہوں نے کہا  انہیں یقین محکم ہے کہ سرپنچوں کی طرف سے عوامی مفادات کے خاطر کئے گئے بائیکاٹ کا اثر بگڑے نظام کو ٹھیک کرنے میں سنگ میل کی حیثیت کے طور ثابت ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متعلقہ ایجنسیوں اور محکموں نے جس طرح سے سپورٹس کٹس کی غیر قانونی خریداری کی ہے اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جانی چاہئے تاکہ اس میں مالی بے ضابطگیوں کا پتہ لگایا جا سکے۔ بانہال بلاک سے تعلق رکھنے والے سرپنچ عبدالجبارحجام گنڈ ٹھٹھاڑ، سرپنچ تانترے پورہ ڈولیگام عبدالمجید کھانڈے، سرپنچ شبیر احمد نائیک تکیہ ٹھٹھاڑ، مشکوراحمد خان پنچایت ناگام اور قیصر حمید شیخ سرپنچ درشی پورہ چریل نے کشمیر عظمیٰ کو بھیجے گئے تحریری بیان میں کہا کہ بانہال بلاک میں بیک ٹو ولیج 3 صرف اور صرف آنگن واڑی، ہیلتھ ورکروں، سرکاری ملازمین کی شرکت تک ہی محدود رہا اور سرکاری جھوٹے وعدوں کی وجہ سے اس پروگرام میں عوامی شرکت مایوس کن اور نہ کے برابر تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرپنچوں کو تعمیر وترقی کے کام انجام دینے سے سے روکنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں اور کئی کواٹروں کی طرف سے رکاوٹیں پیدا کرکے پنچایتی راج کو زک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسی وجہ سے پچھلے دو سال سے کئے گئے تعمیراتی کاموں کی بقایا رقم ابھی تک محکمہ دیہی ترقی وپنچایتی راج نے لوگوں کو واگذار ہی نہیں کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غریب اور مستحق افراد کیلئے پرائم منسٹر آواس یوجنا کے تحت مستحق افراد کے مجوزہ مکانوں کی ٹیگنگ کی گئی ہے اور دو سال پہلے آن لائین کرنے کے باوجود بھی ایک بھی مستحق شخص کو مکان نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں جن میں محکمہ مال، محکمہ ایگریکلچر، دیہی ترقی، محکمہ صحت، محکمہ آبپاشی اور محکمہ صحت شامل ہیں، میں عام غریبوں کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور ان ہی وجوہات کی وجہ سے لوگوں اور ان کے نمائندہ سرپنچوں نے بیک ٹو ولیج تھری سے مکمل طور سے بائیکاٹ کیا اور یہ پروگرام ناکام پروگرام ثابت ہوچکا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پنچایتی اداروں اور لوگوں سے بیک ٹو ولیج کے پچھلے پروگراموں میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے اقدامات اٹھائیں تاکہ عوام کا پنچایتی راج اور پنچایتی نمائندوں پر اعتماد بنا رہے۔