آورہ ترہگام کپوارہ میں لاپتہ 8سالہ کمسن کالرزہ خیز قتل

آورہ (کپوارہ )//شمالی ضلع کپوارہ کے آوورہ ترہگام علاقہ میں تین ہفتہ قبل لاپتہ 8سالہ کمسن کوقتل کر کے اسکی لاش جنگل میں دفنادی گئی۔پولیس نے اس بیہمانہ واقعہ میں ملوث ہمسایہ خاتون اور اسکے بیٹے کو گرفتار کر کے لاش بر آمد کرلی۔ 15فروری کو خان محلہ آ ورہ سے تعلق رکھنے والا 8سالہ طالب حسین ولد منظور احمد خان، اپنے گھر سے بازار کی طرف جاتے ہوئے لاپتہ ہوگیا۔شام تک جب وہ واپس نہیں آیا تو لواحقین نے پولیس چوکی آورہ میں اس کی گمشدگی کے حوالہ سے رپورٹ درج کرلی۔پولیس نے کمسن طالب کی تلاش کیلئے علاقہ بھر کے آبائی ذخائر، چشموں، ندی نالوں اور نزدیکی جنگلات کو چھان مارا لیکن کہیں کوئی اتہ پتہ نہیں مل سکا ۔بچے کے بارے معلومات فراہم کرنے کیلئے 7لاکھ روپیہ کا انعام بھی رکھا گیا لیکن اس کے باجود بھی لاپتہ طالب کا کوئی بھی سراغ نہیں مل پایا۔ تاہم پولیس کی جانب سے تفتیش جاری رہی اور اس حوالہ سے علاقہ کے متعدد افراد سے پوچھ تاچھ کی گئی ۔پولیس نے کمسن طالب کے ہمسائیگی میں 19سالہ عامر امین خان ولد محمد امین خان کو بھی پوچھ تاچھ کیلئے اٹھایاجس کے دوران عامر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسی نے طالب کو اغوا کرنے کے بعد قتل کیا اور اس جرم میں ان کی والدہ شہنازہ اختربھی شامل ہے۔ تفتیش کے دوران عامر نے پولیس کے سامنے اس جگہ کی نشاندہی بھی کی جہا ں طالب کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش چھپائی گئی تھی ۔ایس ایس پی کپوارہ یوگل منہاس نے اس لرزہ خیز قتل کے حوالہ سے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ طالب کے لاپتہ ہونے کے بعد پولیس نے ان کی تلاش کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے، یہا ں تک کہ سونگھنے والے کتو ں کو بھی لایا گیا۔انہو ں نے کہا کہ دوران تفتیش پولیس نے طالب کے ہمسایہ عامر خان کو گرفتار کیا جس کے دوران انہو ں نے پولیس کے سامنے اپنا گناہ قبول کر لیا اور پولیس سے کہا کہ وہ اپنی والدہ شہنازہ کے بہکاوے میں آگیا اور یہ جرم انجام دیا ۔ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ عامر کی ہی نشاندہی پر منگل کو پولیس نے آورہ کے نزدیکی جنگل گجر پتی میں لاپتہ طالب کی لاش ایک کھڈ سے برآمد کی جس کے بعد لاش کاپوسٹ مارٹم کیا گیا ۔ ابتدائی طور اس کے جسم پر زخم پائے گئے لیکن پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ کے بعد ہی پتہ چل جائے گا کہ طالب کو کیسے قتل کیا گیا ۔ایس یس پی کا مزید کہنا ہے کہ عامر نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ جس روز طالب کو اغوا کیا گیا، اسی روز اس کا قتل بھی ہوا ۔ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ تفتیش کا ابتدائی مرحلہ جاری ہے اور اگر اور بھی کوئی اس قتل میں ملو ث پایا جائے گا تو اس کو بھی قانو ن کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔انہو ں نے کہا کہ تفتیش کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ عامر مہلوک طالب کا ہمسایہ ہے اور دونو ں خاندانو ں کے درمیان کئی سال سے ذاتی دشمنی بھی چل رہی ہے جس کی وجہ سے کمسن طالب کا قتل ہوا ۔ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ پولیس نے اقدام قتل کا کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے ۔اس دوران جب طالب کی لاش اس کے آ بائی گائو ں پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا اور ہر طرف صف ماتم بچھ گئی ۔بعد میں طالب کو سینکڑوں لوگو ں کی موجود گی میں پر نم آنکھو ں سے سپرد خاک کیا گیا جبکہ لوگو ں نے پولیسک ے حق میں نعرہ بازی کی ۔