آنگن واڑی ورکر وہیلپرمشاہرے میں قلیل اضافے سے ناخوش

جموں//محکمہ سماجی بہبودکے آئی سی ڈی ایس پروجیکٹ کے تحت تعینات آنگن واڑی ورکر وںاورہیلپروں نے مشاہرے میں کیے گئے قلیل اضافے کوناقابل قبول قراردیتے ہوئے گذشتہ روز ایک بارپھر اپنے مطالبات کولے کراحتجاجی مظاہرہ۔اس دوران سراپااحتجاج آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں نے سابق گورنرکی جانب سے ورکروں کے حق میں محض پانچ سوروپے کے اضافے کوبھدامذاق قراردیتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکارکردیاہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک ہمارے مشاہرے میں مناسب اضافہ نہیں کیاجائے گاتب تک احتجاج جاری رہے گا۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روزآنگن واڑی ورکرز اینڈہیلپرس یونین جموں کے پرچم تلے سمن سوری کی قیادت میں پریس کلب کے باہراحتجاجی دھرنادیا۔اس دوران یہ ورکر اپنے مطالبات جن میں آنگن واڑی ورکروں کی ماہانہ اجرت میں اضافہ اورواجب الادامشاہروں کی ادائیگی سرفہرست ہیں کی حمایت اورریاستی حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہی تھیں۔اس دوران میڈیاسے بات کرتے ہوئے سمن سوری نے کہاکہ ہم اپنے مطالبات کولے کرلگ بھگ گذشتہ سودنوںسے احتجاجی ریلیاں اوردھرنے دے رہی ہیں لیکن اس کے باوجودسرکارہماری مانگوں پرکوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم مطالبات پورے ہونے تک جدوجہدکریں گے۔انہوں نے کہاکہ اب پی ڈی پی۔بی جے پی حکومت گرچکی ہے اورگورنرراج نافذ ہوگیاہے اس لیے ہم ریاستی گورنرستیہ پال ملک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی جائزاوردیرینہ مانگوں کوپوراکرنے کی منظوری دیں ۔انہوں نے کہاکہ اگرحکومت نے ہماری مانگیں پوری نہ کیں توہم اپنے احتجاج میں شدت لانے کیلئے مجبورہوجائیں گے ۔سمن سوری نے مزیدکہاکہ آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کوبالترتیب 3600اور1800روپے ماہانہ معمولی سا مشاہرہ دیاجاتاہے لیکن دہلی ودیگرریاستوں میں آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی تنخواہ بالترتیب 10ہزاراور6ہزارروپے ماہانہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ جوکام یہاں پرآنگن واڑی ورکرس کرتی ہیں ،وہی کام دہلی ودیگرریاستوں کی ورکرس بھی کرتی ہیں توپھرتنخواہ میں تفاوت اورناانصافی کیوں ؟۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے خواتین کوبااختیاربنانے کے دعوے بے بنیادہیں۔انہوں نے کہاکہ سابق گورنرنے ہمیں مایوسی کے سواکچھ نہیں دیا لیکن نئے ریاستی گورنرسے امیدکرتی ہیں کہوہ ہمارے جذبات کی قدرکرتے ہوئے ہماری مانگوں کوپوراکرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہماری ہڑتال کی وجہ سے گذشتہ پچھلے تین مہینوں سے پوری ریاست کے آنگن واڑی مراکزبندہیں۔آنگن واڑی ورکروہیلپر احتجاجی مظاہرے کے دوران مشاہرے میں اضافہ اورواجب الادا مشاہروں کی ادائیگی کے علاوہ سینارٹی فہرستیں جاری کرنے ، پنشن سکیم لاگوکرنے اورریٹائرمنٹ کے وقت آنگن ورکروں اورہیلپروں کے حق میں بالترتیب دولاکھ اورایک لاکھ گریجویٹی منظورکرنے کی مانگیں کررہی تھیں۔قابل ذکرہے کہ ریاست جموں وکشمیرمیں لگ بھگ 28ہزارآنگن واڑی ورکراورہیلپرس کام کررہی ہیں۔