آنگن واڑی ورکروں وہیلپروں کاڈویژنل کمشنردفترکے باہرمظاہرہ

 جموں //صوبہ جموں کے آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں نے جموں وکشمیر نیشنل ٹریڈ یونین فرنٹ کے پرچم تلے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کیا۔اس موقعہ پرٹریڈیونین لیڈر غفورڈارنے کہا کہ ہمسایہ ریاستوں ہریانہ ، پنجاب اور دہلی میں آنگن واڑی ورکروں کو ماہانہ دس ہزار روپے مشاہرہ کے طور پر ملتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سرکار متعدد فلاحی سکیموں کو عملی جامہ پہنانے کے ان کی خدمات مختلف پروجیکٹوں اور محکموں میں حاصل کرتی ہے لیکن ان کی اجرتوں میں اضافہ نہیں کیا جارہاہے جو کہ ان کے ساتھ سرا سر ناانصافی ہے جسے جلد از جلد دور کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت پر ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے ڈار نے کہاکہ پڑوسی ریاستوں پنجاب، ہریانہ اور دہلی وغیرہ میں آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کو بالترتیب 10ہزار اور 6ہزا رروپے ماہوار دئیے جا رہے ہیں لیکن جموں کشمیر میں ان کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سرکار آنگن واڑی کارکنان کا استعمال درجن بھر محکمہ جات میں مختلف نوعیت کی ڈیوٹی کے لئے کرتی ہے لیکن جب انہیں مشاہرہ دینے کی بات آتی ہے تو ان کے ساتھ امتیاز کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دس برس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کہیں کی کہیں پہنچ چکی ہیں لیکن ان کے مشاہراہ میں اضافہ نہیں کیا جا رہا ہے جس کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جموں و کشمیر نیشنل ٹریڈ یونین فرنٹ کے ریاستی صدر غفورڈارنے اس موقعہ پر اپنی تقریر میں ریاستی سرکاراور آئی سی ڈی ایس کے اعلیٰ حکام کی ورکرز دشمن پالیسیوں کی مذمت کی اور ان کی جائز مانگوں کو بغیر کسی تاخیر کے پورا کرنے کی مانگ کی۔اس دوران خطاب کرنے والوں میں رتنا دیوی، وجے کماری، مہہ جبین ، سمن سوری، آشاکماری، راجندرکمار، للیتا دیوی، راج کماری، شمیم اختر، امینہ بیگم ، گنگادیوی ، ارشادبیگم ، انورادھا،وندنا، دھلی دیوی، مونیکادیوی، پنکی بٹ، ومی ،جولی،ناہیدہ اختر،یاسمین اخترودیگران شامل ہیں۔اس دوران مقررین نے بتایاکہ دھرنا 5جنوری تک جاری رہے گا۔