آنجہانی واجپائی!

 وزیراعظم نریندر مودی ۱۴؍اگست کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی عیادت کے لئے ہسپتال گئے تھے۔ انہوں نے شاید حالات کی نزاکت کا اندازہ کر لیا تھا، اسی لئے یومِ آزادی کی تقریر میں اٹل جی کا نام لیا اور اُنہیں یاد بھی کیا‘ حالانکہ گزشتہ ۴؍برسوں کے اپنے لال قلعے والے خطاب میں اٹل جی کا کبھی بھی نام نہیں لیاتھا،یاد کرنا تو دور کی بات ہے۔۱۴؍اگست ہی سے بی جے پی کے تھنک ٹینک اس کام پر لگ گئے کہ اٹل جی کی موت کا فائدہ کیسے اٹھایا جائے اور انہوں نے اس کی بلیو پرنٹ بھی تیار کر لی۔بغوردیکھا جائے توسابق وزیراعظم کی موت سے سب سے زیادہ نقصان مودی کو ہوا،وہ اس لئے کہ اٹل جی بھی این ڈی اے (بھاجپا)کے پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے اپنی ۵؍سالہ میعاد پوری کی تھی اور ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ کسی غیر کانگریسی حکومت نے اپنی میعاد مکمل کی ہو۔اگرچہ اس سے قبل اٹل جی کی حکوت ۲؍ بار گر چکی تھی یا گرائی جا چکی تھی لیکن ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۴ء تک اٹل جی نے بحسن وخوبی حکومت چلائی ، ماسوائے ایک کلنک کے جب۲۰۰۲ء کے گجرات مسلم کش فسادات ہوئے۔اٹل جی نے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ گجرات مودی کوبظاہر متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ راج دھرم نبھائیں‘‘۔اُس بیچ ایک فیک نیوز بہت چلی کہ’’واجپئی چاہتے تھے کہ مودی کی حکومت برخواست کر دی جائے لیکن  اڈوانی بیچ میں آگئے اور اپنی شدت پسند انہ شبیہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مودی حکومت کو بچا لیا‘‘۔ یہ الگ بات ہے کہ واجپئی نے خود اس کی تردید کی تھی کہ وہ ایسا کچھ نہیں چاہتے تھے۔اس سے قطع نظر کہ اس نیوز میں کتنی سچائی تھی ، لیکن فرض کریں اگر مودی حکومت اُس وقت برخواست کر دی جاتی تو ملکی اقتدار کے سنگھاسن پر وہ آج براجمان ہوتے نہ خود اڈوانی جی اس دور سے گزرتے جو سنہ ۱۴ء سے ان کا مقدر بناہوا ہے۔ ۲۰۰۴ء سے ۲۰۱۴ء تک مرکز میں کانگریس کی حکومت رہی لیکن اس نے بھی گجرات فسادات کے ملوثین کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرانے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی وگرنہ کانگریس کو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ گجرات کے تعلق سے کانگریس کی گو مگو کی پالیسی نے پارٹی کو کہیں کا نہ چھوڑا اور اس کی یہی کمزوری اسے آئندہ بھی نقصان پہنچائے گی ۔ کانگریس کو یہ بات اب اچھی طرح جان لینی چاہئے کہ اسے ایک چہرہ اپنانا ہوگا اور اسی میں اس کی بھلائی ہے۔
اٹل جی کی موت سے مودی جی کا نقصان یہ ہوا کہ میڈیا میںسابق وزیر اعظم کا موازنہ ’’پردھان سیوک ‘‘ سے کیا گیاتواس میں ہر لحاظ سے مودی جی اپنے پیشرو اٹل جی کے بالکل اُلٹ نظر آئے۔چونکہ بی جے پی سے ابھی تک صرف ۲؍ ہی وزرائے اعظم ہوئے ہیں، اس لئے موازنہ بہت سخت ثابت ہوا۔اٹل جی کا شمار ایک دھواں دھارمقرر کی حیثیت سے تو ہوتاہی ہے،ساتھ ہی وہ ایک دم دار دانشور اور تعلیم یافتہ شاعر بھی مانے جاتے تھے۔ انہیںسیاست کا ری کا کچھ ایسا ملکہ حاصل تھا کہ اپنی پارٹی کے علاوہ دوسری پارٹیاں بھی ان کی عزت کرتی تھیں۔وہ ایک منجھے ہوئے پارلیمنٹرین تھے۔آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے ان کے بارے میں پیشگی کہا تھا کہ ایک نہ ایک دن یہ جوان ملک کے وزیر اعظم ضروربنے گا۔اگرچہ عمر کا ایک خاصا حصہ اُنہوں نے حزب اختلاف کے لیڈر کی حیثیت ہی سے گزاراتھا لیکن ان کی مخالفت میں بھی شائستگی تھی اور وہ کبھی بھی عزت و احترام اور سلیقہ مندی کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ان کے مخالفین بھی ان کی محبتوںاور حُسن ِکلام کے قائل تھے۔اپنی اچھی باتوں اور موزون جملوں سے وہ مد مقابل کا دل بھی جیت لیتے تھے۔ کشمیر میںبھی بعض لوگ انہیںاتنی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے کہ کہا جاتا تھا اگر اٹل جی سرینگر سے الیکشن لڑتے تو جیت جاتے۔کشمیریوں کو اُن سے ایک آس بھی بندھی تھی کہ اٹل جی کشمیر کا کوئی نہ کوئی مثبت حل نکال لیں گے۔آگرہ میں پرویز مشرف کے ساتھ جن معاہدوں پر دستخط ہونے والے تھے ،اُن سے کشمیری بڑے ہی پُر امید تھے اور عین ممکن تھا کہ ہند و پاک کے درمیان اٹل جی دائمی کشیدگی کا خاتمہ کر نے میں کامیاب بھی رہتے لیکن حالات کی اُلٹی گردش میں جو ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔اس تعلق سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اٹل جی کی اصل چاہت کا کوئی پاس نہیں رکھا گیا۔ قابل غور امر یہ بھی ہے کہ بی جے پی کی طرف سے اٹل جی کی شبیہ کچھ ایسی بنا کر پیش کی جاتی رہی تھی کہ لگتا تھاکہ انہیںمسلمانوں سے کوئی ذاتی پرخاش نہ تھی اور یہ کہ وہ مسلمانوں کو زندگی کے دھارے سے کنارے نہیں لگانا چاہتے تھے۔یہی سبب ہے کہ سادہ لوح مسلمانوں کا ایک طبقہ انہیں پسند بھی کرتا تھا،جس کا ثبوت لکھنؤ میں انہیں ملنے والے ووٹوں کی شرح سے ملاتھا ،اس میں اسی قبیل کے مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ شامل تھا۔نریندر مودی کے لئے ظاہر کیا، باطن کیا؟میڈیا یہی باتیں سامنے رکھ رہاہے اور ٹی وی پر پرانے کلپس بھی دکھا رہا ہے۔ایک خاص بات یہ کہ اٹل جی نے کبھی کانگریس مکت بھارت کی بات نہیں کی یا کسی اور پارٹی کے تعلق سے ایسی گفتنی نہیں کی ۔  
 بالیقین اٹل جی نے ہی بی جے پی کی بنیاد ڈالی۔اس پارٹی کے بنیاد گزاروں میں اڈوانی کے علاوہ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی اورجسونت سنگھ جیسے لیڈر پیش پیش تھے۔بی جے پی کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تواٹل اور اڈوانی نے اپنی پارٹی کو لوک سبھا کی ۲؍سیٹوں سے ۲؍سو نشستوں تک پہنچا یااور سنگھ پریوار کے نیتاؤں کو اقتدار کا مزہ چکھایا۔پارٹی کو فرش سے عرش تک پہنچانے میںرام مندر اور رتھ یاترا کے حوالے سے اڈوانی کارول نمایاں رہا ہے لیکن آج کی تاریخ میں اڈوانی جی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے،اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب اُن کی اپنی کارستانیوں کا خمیازہ ہے۔بابری مسجد کے ٹوٹے پھوٹے درودیواراور اُن ہزاروںمسلمانوں کی سردآہیں ، چیخ وپکار اور جن کی جانیں مسلم کش فسادات کی بھینٹ چڑھا ئی گئیں، یہ سب مل کراُن کے خوابوں کی تعبیر میں حائل رہیں گی۔ا ڈوانی کی پہلی خواہش تھی کہ وہ وزیر اعظم بنیں،نہیں بن سکے،دوسری خواب تھا صدرِمملکت ہند بننا مگر یہ خواب بھی حالات کی دُھول میں دُھندلا گیا۔
اٹل جی سے مودی کے موازنے سے ہوئے نقصان کی تلافی کے لئے جو بلیو پرنٹ بھاجپا کی مرکزی قیادت نے بنایا ،اُس کی رُو سے اٹل جی کی استھیوںکو ملک کی تمام ندیوں میں بہایا جائے ۔اس کے لئے انہوں نے ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا اور اسٹیج پر اُس استھی (جو ۲۰-۲۵؍لوٹوں میں رکھی گئی تھی) کی پوجا کی گئی ،اس میں مودی اور شاہ آگے آگے تھے اور ہر ریاست سے چنیدہ اورخاص خاص لوگوں کو اسٹیج پر بلایا گیا اور انہیں ایک ایک استھی سونپی گئی تاکہ وہ اپنے اپنے صوبوں کی ندیوں میں اسے بہا سکیں۔یہ سب سیکولر ہندوستان میں ہو رہا ہے جہاں آئین کی رو سے حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوتالیکن ساری تقریبات خواہ وہ خوشی کے ہوں یا غم کے،سب ایک خاص مذہبی طریقے سے ہی ہوتی ر ہیں۔ تقریباً ۲۰؍صوبوں میں تو بی جے پی ہی کی حکومت ہے یا اس کے اتحادیوں کی،ان استھیوں کیلئے وہاں سرکاری سہولیات بھی مہیا ہوں گی اور جہاں حکومت نہیں ہے وہاں پر بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانے کا یہ ایک اچھا بہانہ ہے۔اس طرح کسی کی موت کو بھی کیسے ایونٹ(تقریب) میں بدل دیا جاتا ہے ،یہ کوئی مودی اور امت شاہ سے سیکھے۔یہی سبب ہے کہ آنجہانی اٹل جی کی بھتیجی کرونا شکلا نے سامنے آکر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ درج کی کہ ان دونوں کو اٹل جی سے کوئی محبت نہیں ہے بلکہ یہ ووٹ کی خاطر یہ سب ڈرامہ کر رہے ہیں۔جیتے جی اٹل جی کو تو پوچھنے کی بات دور رہی ،انہوں نے نام تک لینا گوارا نہیں کیا۔اس کے علاوہ موصوفہ نے یہ بھی پوچھا کیا یہ لوگ اٹل جی کے مرنے کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ مریں تو یہ اپنے منصوبے سامنے لائیں؟کیا ان کے جیتے جی ان کے نام پر جو کچھ بھی یہ کرنا چاہتے ہیں ، کیا کر نہیں سکتے تھے؟کرونا جی نے ایک اچھی بات یہ بھی کہی کہ ان کی یاد میں ۵؍میل پیدل چلنے سے زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ ان کے اصولوں پر ۲؍قدم چلیں۔اسی چوٹ سے بی جے پی کی نیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ووٹ کی خاطر یہ کس حد تک جاسکتی ہے کیونکہ یہ کرسی کے پجاری ہیں۔اٹل جی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کسی نے بی جے پی کے تعلق سے کیا خوب لکھا کہ’’کنول چلا گیا ،اب کیچڑ ہی کیچڑ ہے‘‘۔
 نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو، نئی ممبئی کے مدیر ہیں  
رابطہ9833999883