آنجہانی جگن ناتھ آزادؔ

پروفیسر جگن ناتھ آزادؔکے ساتھ میرا ذہنی تعارف دیوبند میں اپنی زمانۂ طالب کے دوران ہوا۔ جونہی اُس مردم خیز سر زمین پر میرے مطالعے کی میز پر اُن کی کتابیں سج گئیں ، اُن کی علمی وادبی شخصیت کا احترام دل میں رچ بس گیا۔ یہ سللہ ۱۹۷۰ ء کے عشرہ میں اردو ماہنامہ’’آجکل‘‘نئی دہلی کے حوالے سے شروع ہوا، پھر آہستہ آہستہ آزادؔ کی شاعری اور اقبالیات کے ساتھ اُن کی والہانہ وابستگی سے میں  گویاان کا عاشق ہوگیا۔البتہ بالمشافہ ملاقاتوں ،راہ ورسم اور تبادلۂ خیال کا سلسلہ ۱۹۷۸ ء سے ہوا ۔یہ وہ زمانہ تھا جب آزاد صاحب سرینگر سے ڈائرکٹرپبلک ریلشنز گورنمنٹ آف انڈیا ریٹائر ہوکر جموں یونیورسٹی سے تاحیات منسلک ہوئے تھے ، پھر ان کے ساتھ قلبی ہم آہنگی کا  یہ اٹوٹ رشتہ موصوف کی وفات تک جاری رہا،ا گرچہ ملاقاتوں کا شرف وقفے وقفے سے ہی حاصل ہوتا رہا۔آزادؔ صاحب کے ساتھ میری ملاقاتوںاور یادوں کی ایک لمبی اور دلچسپ کہانی ہے ۔اُن کی زندگی میں ان کی شخصیت و شاعری اور ادبی و علمی کام پر بر صغیر میں جتنا کچھ لکھا گیا ہے اور دنیا بھر میں انہیں جو عزت و شہرت ملی، ان کے ہمعصروں میں کسی ایک کو بھی یہ مقام نہیں ملا۔اس کی وجہ اُن کا خاندانی وعلمی پس منظر،تعصب و تنگ نظری سے پاک ذہن اورایسی کثیر الجہت شخصیت تھی جو سب کے لئے قابل ِقبول ، متاثر کن اور قابل صد احترام رہی ۔وہ بر صغیر کی روایتی تہذیب اور بلند وبالا اقدار کے مخلص ترجمان تھے ۔
آزاد ؔ صاحب پر میرا کچھ لکھنا ان پر لکھے گئے علمی اثاثے میں کسی اضافے کا باعث نہ ہوگا لیکن  ان سے جڑیںکچھ خوب صورت اور دلچسپ یادیں ایسی ہیں جنہیں میں امانت سمجھ کر صفحۂ قرطاس کے سپرد کرنا ناگزیر سمجھتا ہوں ۔ان کی پیدائش ۵؍دسمبر ۹۱۸اء کو پنجاب کے آخری کونے دریائے سندھ کے کنارے ایک انتہائی بے آب و گیاہ سر زمین عیسیٰ خیل کے متوسط گھرانے میں ہوئی ۔ان کی جائے پیدائش سے آگے فرنٹیر کا علاقہ شروع ہوتا ہے ۔ان کی مادری زبان سرائیکی تھی ۔ اردو شعر و ادب کا اس وقت اس علاقے میں دور دور تک کوئی چلن نہ تھا ، جب کہ پشتو زبان کے مشہور شاعر خوشحال خان کھٹکؔ کی شخصیت اور شاعری اس خطہ کے لوگوں میں اس وقت زبان زد خاص و عام تھی ۔ اردو زبان میں اس خطہ کے اولین شاعر ، نثر نگار اور ماہر لسانیات آپ کے والد منشی تلوک چند محرومؔ(بعد میں پروفیسر)تھے ‘جو اردو ادب کی تاریخ میں ممتاز مقام رکھتے ہیں ۔واضح ہوا کہ اردو زبان اور شاعری کے علاوہ مشرقی تہذیب اور اقدار آپ کو ورثہ میں ملی تھیں ۔اسی ہمہ آفتاب گھریلو ماحول کا اثرآزادؔ کی شخصیت پر مترت  ہوا تھا ۔ ایک دفعہ آزاد ؔصاحب اپنے والد تلوک چند محروم ؔکے ہمراہ پہاڑی علاقے میں سفر کر رہے تھے کہ ان کے والد نے پہاڑوں کی چوٹیوں پر بنے خوبصورت مکانوں کو دیکھ کر اپنے ہونہار بیٹے کو یہ مصرعہ دیا   ع
   پہاڑوں کے اوپر نبے ہیں مکان
 بیٹے نے بر جستہ دوسرا مصرعہ جوڑکر شعرمکمل کردیا   ع
عجب ان کی صورت عجب ان کی شان
 باپ نے اصلاح کرتے ہوئے بتایاصورت نہیں شوکت کہو   ع 
عجب ان کی شوکت عجب اُن کی شان 
جگن ناتھ آزاد ؔنے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی۔ اُن کے والد خود اپنے علاقے کے مشہور اُستاد اور صدر مدرس تھے۔بعد ازاں یہ خاندان راولپنڈی منتقل ہو گیا اور بی اے گارڈن کالج راولپنڈی سے اور ایم اے ۱۹۴۴ ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فارسی زبان میں کی ۔آزادؔ کے اساتذہ میں ان کے والد تلوک چند محرومؔعلامہ تاجور نجیب آبادی،ڈاکٹر شیخ محمد اقبال پرنسپل اورینٹل کالج لاہور،ڈاکٹر سید محمد عبد اللہ،پروفیسر علم الدین سالک ؔ،صوفی غلام مصطفیٰ تبسم ؔاور سید عابد علی وغیرہ شامل تھے ۔یہ سب اس وقت بر صغیر کی علمی و ادبی دنیا کے قافلۂ سالار تھے ۔جگن ناتھ آزادؔ تقسیم ِ ہندکے بعد ہندوستان میں رہے اور ہندوستانی شہری رکھتے تھے لیکن پاکستان کو بھی وہ اپنا وطن سمجھتے رہے ۔ اس مملکت کے ساتھ انہیں بے پناہ لگاؤاور فطری و جذباتی محبت تھی ۔وہ پاکستان سے ہمیشہ دل و جان سے محبت کرتے تھے۔’’وطن میں اجنبی‘‘ان کاوہ مجموعۂ کلام ہے جس کا القاء پاکستان کے مختلف اسفار کے دوران اُن کے قلب پر ہوا تھا ۔ بر صغیر کی تقسیم کے وقت جگن ناتھ آزادؔ لاہور میں مقیم تھے ۔انہوں نے پاکستان میں رہنے کا ارادہ کر لیا تھا اور۱۴؍۱۵؍اگست ۱۹۴۷ کی درمیانی شب ریڈیو پاکستان لاہور سے جو جو پاکستان کاقومی ترانہ نشر ہو    ؎
اے سر زمین ِپاک
ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندیٔ حاسداںپہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا جو مدتوں سے چاک
اے سر زمین پاک
اس ترانے کے خالق جگن ناتھ آزادؔ تھے ۔جسے پاکستان کے اربابِ اختیار نے اُن سے لکھوایا تھا ۔اس سے بڑا اعزازایک مسلم مملکت کے لئے کسی غیر مسلم شاعر کے لئے اور کیا ہو سکتا ؟ بہر حال تقسیم کے بعدجگن ناتھ آزاد ؔ نے پاکستان میں رہنے کا من بنا لیا تھا مگر مشرقی پنجاب میں منصوبہ بند طریقہ پر فرقہ پرستوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا جوقتل عام ہوا، اس سے مغربی پنجاب کی فضا بھی کافی متاثر ہوگئی ۔اس وجہ سے وہاں کسی ہندو کا رہنا کافی دشوار ہو گیا تھا ۔ اسی ہیجانی فضا میں بہ امر مجبوری آزادؔ صاحب بھارت آنے پر مجبور ہو گئے۔آزاد کی شاعری میں جو درد و سوز اور کسک ہے، وہ تقسیم ہند کی دین ہے ۔یہ چیز ان کے تخلیقی و ادبی ذوق اور احساسات و جذبات کا جزو لاینفک بن گئی۔وطن سے جلاوطن ہونے کے باوجود ان کے دل و دماغ اور لب و لہجہ میں ذرا بھی تلخی پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اپنے وطن اور اہل وطن کی جدائی اور اس کا درد و کرب ان کی ادبی زندگی و شاعری کا استعارہ بن گیا ۔اُن کی ساری شاعری اپنے وطن اور دوستوں کے فراق اور مرثیہ سے عبارت ہے ۔آزادؔ صاحب اردو دنیا کے منجھے ہوئے شاعر،نثر نویس اور ماہرِ اقبالیات تھے ۔ان کی شاعری زندگی کی سر گرمیاں اور جستجو بر صغیر کی مخصوص مشرقی تہذیب و ثقافت اور اخلاقی اقدار کی آئینہ دار اور منفرد فکر کی غماز ہے، بلکہ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ان کی ہجریہ و فراقیہ شاعری نے اردو ادب میں ایک نیا مدرسۂ ادب کو وجود بخشا اور بقول حفیظ میرٹھی     ؎
ہے جدا سب سے فن کار کا دل اے حفیظؔ 
چوٹ کھائے تو نغمہ سرائی کرے 
آزاد ؔ صاحب بہت خوش اخلاق و ملنسار اور علمی و ادبی کاموں کی سرپرستی و حوصلہ افزائی کرنے والے تھے۔ انہی وجوہ سے میری ان کے ساتھ گہری قربت اور وابستگی رہی ۔ مجھے فخر ہے کہ اردو کے اس عظیم شاعر و دانش ور کو قریب سے دیکھنے ،سمجھنے اور کچھ ان سے سیکھنے کا زیں موقع ملا ۔ میں ملاقات کے لئے جب بھی ان سے فون پر وقت طلب کرتا تو وہ کہتے،بیس منٹ کے لئے آجائیں، میں جاتا تو وہ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے ۔چائے سے تواضع کرتے اور مختلف علمی و ادبی موضوعات بالخصوص اقبالیات ،بر صغیر کی علمی و ادبی تاریخ ،اس کے مدوجزر ،بر صغیر کی علمی و ادبی شخصیات اور ان کی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا تو پھر اس گفتگو میں وقت کی کوئی قید نہ رہتی اور بسا اوقات چار پانچ گھنٹے بیت جاتے اور پتہ بھی نہیں چلتا ۔ان بے تکلف اور یادگار نجی مجلسوں میں آزادؔصاحب کے وطن عیسیٰ خیل اور میاں والی کے بے آب و گیاہ میدانوں ،دریائے سندھ کی موجوں ،بنو،کوہاٹ کے پہاڑوں،راولپنڈی کی بہاروں،مار گلہ پہاڑی کی رعنائیوں ،شہر لاہور کی علمی و ادبی اور تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوںا ورمجلس آرائیوں پر طویل طویل گفتگو ئیںہوتیں ۔اس میں بڑھاپے اور جسمانی کمزوری کے باوجود وہ کبھی اکتاہٹ محسوس نہ کرتے، بلکہ خوب مزے لے لے کر بے تکلفانہ انداز میں میاں والی و راولپنڈی اور لاہور کے بیتے دنوں کی یادیںدہراتے تھے۔رخصت ہوتے وقت جب میںزیادہ وقت لینے کی معذرت کرتا تو وہ کہتے شمسی صاحب! جموںکی اس سرزمین پر میں کبھی کبھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہوں ۔آپ آتے ہیں تومجھے بڑی خوشی ہوتی ہے ۔
علم و ادب و شعر و شخصیات پر جگن ناتھ آزاد سے علمی گفتگو ہوتی تو روح کو فکری ا و ر روحانی  غذا ملتی ہے۔ایک دفعہ ایسی ہی سنجیدہ گفتگو کے دوران انہو ں نے کہا لوگ میرے پاس آتے ہیں اور پوچھتے ہیں آپ نے جموں کو کیسا پایا ۔ جموں کیسا لگتا ہے ؟شمسی صاحب میں انہیں کیا بتاؤں کہ مجھے جموں کیسا لگا ؟جس شخص نے لاہور کی انار کلی ، اردو بازار اور مال روڈ کی علمی و ادبی بہاریں دیکھیں ہوں ،وہ جموں کے بارے میں کیا رائے قائم کر سکتا ہے ؟ہم ادبی لوگ ہیں اور ہر شہر کو ادبی نقطہء نظر سے دیکھتے و ناپتے تولتے ہیں ،ہم جب عیسیٰ خیل یامیاںوالی میں تھے تو ہمارے والد بزگوار ہماری اردو زبان کی نوک پلک اس طرح سنوارتے درست کرتے تھے جیسے لوہار اوزار بنا کر لوہے کی سل پر ریتی سے رگڑرگڑ کر اُسے سنوارتا ہے ۔جب ہم میاں والی سے راولپنڈی آئے تو راولپنڈی کا ادبی معیارمیاں والی سے بلند پایا اور پھر جب ہم لاہور آئے تو لاہور کو دونوں شہروں سے بہت مختلف پایا ۔ان دنوں علم و ادب اور صحافت کے میدان میں پورے برصغیر میں اُس وقت لاہور کا مقام بہت بلند تھا ،لاہور میں ہمیں جن شخصیات کے سامنے زانوئے تلمذ کا شرف حاصل ہوا اُن میں علامہ تاجور نجیب آبادی ،مولانا ظفر علی خان ،ڈاکٹر شیخ محمد اقبال پرنسپل اورینٹل کالج لاہور ، ڈاکٹر سید محمد عبداللہ ،پروفیسر علم الدین سالک اؔور مولانا عبد المجید سالکؔ وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔تقسیم کے بعدجب ہم لاہور سے دہلی آئے تو دہلی کا ادبی معیار اس وقت لاہور سے بہت پست پایا، چونکہ اردو بولنے اور لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان جا چکی تھی اور دہلی میں پنجابیوں ،بہاریوں اور بنگالیوں کی آمد کی وجہ سے اردو زبان و ادب کا معیار لاہور کے مقابلے میں کافی گر چکا تھا ۔کچھ عرصہ بعد ملازمت کے سلسلے میں ہم دہلی سے سرینگر آگئے تو سرینگر کا معاملہ بالکل ہی مختلف تھا، تاہم پھر بھی ریڈیو کشمیر ،کلچرل اکیڈیمی اوردیگر ادبی تنظیموں اور دوستوں کی موجودگی میں کچھ عرصہ بعد ہم نے ایک ادبی ماحول بنا لیا تھا مگر جموں کا مسئلہ تو کچھ اور ہی ہے، اس لئے میں جموں کے لوگوں کو کیا بتاؤں کہ میں نے جموں کو کیسا پایا؟جموں شہر کی کشادہ سڑکوں ،پارکوں ،بلڈنگوںاور کار و باری گہما گہمی سے ہمارا کیا لینا دینا ؟
ایک دفعہ انہوں نے اپنی تمام تصانیف مجھے ہدیہ کرنے کے لئے نکال کر میز پر رکھیں تو میں نے کہا مصنف کو اپنی تمام تصانیف بہت عزیز ہوتی ہیں لیکن پھر بھی کچھ ترجیحات بھی ہوتی ہیں، آپ بتائیں اپنی ان تمام کتابوں میں سب سے پسندیدہ کتاب کون سی کتاب ہے؟جواب ملا:’’بوئے رمیدہ‘‘۔میں نے ’’بوئے رمیدہ ‘‘نامی مجموعۂ کلام اٹھایا اور درخواست کی کہ اس کتاب پر اپنی ہاتھ سے میرا نام لکھ دیں ۔انہوں نے میری فرمائش پوری کرتے ہوئے اس کتاب پر لکھا:’’محب گرامی قدر جناب امیر محمد شمسی کے لئے ان لمحوں کی یاد میں جو ان کے ساتھ بسر ہوئے۔‘‘جگن ناتھ آزادؔجموں۔۲۵؍فروری ۲۰۰۰ ء۔اس کے بعد میں نے پھر سوال کیا کہ اس کتاب کی سب سے اہم غزل آپ کون سی سمجھتے ہیں ؟انہوں نے کہا وہ غزل جو میرے وطن عیسیٰ خیل کے تخیل پر مشتمل ہے ۔انہوں نے ورق گردانی کرتے ہوئے وہ غزل شوق اور جذبے سے پڑھنی شروع کر دی وہ جب اس غزل کے آخری دو شعر پڑھ رہے تھے تو اُن کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اورر ایک اضطرابی کیفیت ان پر طاری ہوگئی ، وہ دو اشعار یہ تھے    ؎
محفل والو تم سے اس قرب کی شدت کون کہے 
جب کیفیت سوزِ دروں کی لفظ و بیاں میں ڈھلتی ہے
جب اس دیس کی یاد آتی ہے جس میں لڑکپن بیت گیا
جیسے اے آزادؔاحساس پہ اک چھری سی  چلتی  ہے
پھر انہوں نے کتابیں پیک کرنے کے لئے اِدھر اُدھر کوئی لفافہ تلاش کرنا شروع کیا مگر جب کوئی چیز نہ ملی تو وہ دوسرے کمرے میں چلے گئے اور ایک لفافہ لئے واپس آئے ۔ چہرے پر ایک عجب مسکراہٹ تھی اور لفافے پر لکھا تھا The British Library۔آزادؔ صاحب نے اس لفافے کے بارے میں بتایا کہ ایک دفعہ میں لندن میں برٹش لائبریری دیکھنے گیا تو گیٹ پر مامور ملازمین نے بتایا کہ برٹش لائبریری میں صرف اس آدمی کو داخلہ مل سکتا ہے جس کی کم از کم چار کتابیں اور اس کے کام پر پی ایچ ڈی کے کم از کم دو مقالے لائبریری میں موجود ہوں ۔میں نے انہیں اپنا کارڈ دے کر اندر بھیجا اور کہا کہ میں ہندوستان کا ایک رائٹر ہوں، اپنے ذمہ داروں کو بتا دو وہ دیکھ لیں ۔ہو سکتا ہے میری کوئی کتاب اس لائبریری میں ہو۔ تھوڑی دیربعد برٹش لائبریری کا ڈائریکٹر اپنے عملہ سمیت میرا استقبال کرنے گیٹ پر آیا اور بتایا کہ آپ کی بیس کتابیں اور آپ کی شخصیت پر لکھے گئے پی ایچ ڈی کے پانچ مقالے ہماری لائبریری میں موجود ہیں ۔بعد ازاں انہوں نے برٹش لائبریری کی مطبوعات اس لفافے میں ڈال کر مجھے ہدیہ کیں اور کہاآج میں اپنی مطبوعات بھی اسی لفافے میں ڈال کر آپ کو ہدیہ کر رہا ہوں۔میں نے اس لفافے میں آزاد صاحب سے کتابیں وصول کیںاور ابھی تک اس لفافے کو میں نے اپنی کتابوں کی لائبریری میں عقیدت کے طور پر سنبھال کے رکھا ہے ۔
رابطہ :مضمون نگار :چیئرمین الہدیٰ ٹرسٹ راجوری ہیں
رابطہ نمبر:7006364495
(بقیہ سوموار کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)