آنجہانی جگن ناتھ آزادؔ

جگن  ناتھ آزاد نے اپنی آواز میں مجھے اپنے منتخب کردہ اشعار سنائے ، آپ بھی ملاحطہ فرمائیں   ؎
 محفل والو تم سے اس قرب کی  شدت  کون  کہے 
 جب کیفیت سوزِ دروں کی لفظ و بیاں میں ڈھلتی ہے
 جب اس دیس کی یاد آتی ہے جس میں لڑکپن بیت گیا
 جیسے اے آزادؔاحساس پہ اک چھری سی  چلتی  ہے
 شعر گوئی  کے بعدانہوں نے کتابیں پیک کرنے کے لئے اِدھر اُدھر کوئی لفافہ تلاش کرنا شروع کیا مگر جب کوئی چیز نہ ملی تو وہ دوسرے کمرے میں چلے گئے اور ایک لفافہ لئے واپس آئے ۔ چہرے پر ایک عجب مسکراہٹ تھی اور لفافے پر لکھا تھا The British Library۔آزادؔ صاحب نے اس لفافے کے بارے میں بتایا کہ ایک دفعہ میں لندن میں برٹش لائبریری دیکھنے گیا تو گیٹ پر مامور ملازمین نے بتایا کہ برٹش لائبریری میں صرف اس آدمی کو داخلہ مل سکتا ہے جس کی کم از کم چار کتابیں اور اس کے کام پر پی ایچ ڈی کے کم از کم دو مقالے لائبریری میں موجود ہوں ۔میں نے انہیں اپنا کارڈ دے کر اندر بھیجا اور کہا کہ میں ہندوستان کا ایک رائٹر ہوں، اپنے ذمہ داروں کو بتا دو وہ دیکھ لیں ۔ہو سکتا ہے میری کوئی کتاب اس لائبریری میں ہو۔ تھوڑی دیربعد برٹش لائبریری کا ڈائریکٹر اپنے عملہ سمیت میرا استقبال کرنے گیٹ پر آیا اور بتایا کہ آپ کی بیس کتابیں اور آپ کی شخصیت پر لکھے گئے پی ایچ ڈی کے پانچ مقالے ہماری لائبریری میں موجود ہیں ۔بعد ازاں انہوں نے برٹش لائبریری کی مطبوعات اس لفافے میں ڈال کر مجھے ہدیہ کیں اور کہاآج میں اپنی مطبوعات بھی اسی لفافے میں ڈال کر آپ کو ہدیہ کر رہا ہوں۔میں نے اس لفافے میں آزاد صاحب سے کتابیں وصول کیںاور ابھی تک اس لفافے کو میں نے اپنی کتابوں کی لائبریری میں عقیدت کے طور پر سنبھال کے رکھا ہے ۔
مئی ۱۹۹۰ ء میں حق خود ارادیت کا ہم نوا ہونے کی پاداش حکومت نے مجھے بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت پس ِدیوارِ زنداں کردیا اور میری زندگی کے کوئی دس سال نذرِ زنداں ہوگئے۔اس عرصہ میں دوران ِمطالعہ اگر کوئی اچھا شعر نظروں سے گزرتا تو میں اسے ایک کاپی پر نوٹ کرتا رہا جس کی وجہ سے اردو کے مختلف شعرائے کرام کے مثبت اور تعمیری اشعار کا ایک اچھا خاصہ ذخیرہ جمع ہو گیا اور پھر میں نے زنداں میں مختلف دوستوں کے مشورے پر کوئی چھیالیس عنوانات کے تحت اسے ترتیب دے دیا ۔ زنداں سے رہائی کے بعد ایک دفعہ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ کسی سنجیدہ موضوع پر جب کچھ اشعار کی ضرورت پڑتی ہے تو ڈھیر ساری کتب کی ورق گردانی کرنی پڑ جاتی ہے ۔اس لئے کیوں نہ کسی اہل علم اور با ذوق شخصیت سے مشورہ کر کے اس مجموعہ کو کتابی صورت میں شائع کردیا جائے۔نظر انتخاب آزاد ؔصاحب پر پڑی تو ایک دن اَحقر ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، معمول کی گفتگو کے دوران راقم نے کہا کہ عشقیہ اور بازاری شاعری پر مارکیٹ میں مختلف شعراء کے منتخب متعددمجموعہ ہائے کلام تو موجود ہیں لیکن اردو کے اچھے شعراء کے سنجیدہ اور روز مرہ پیش آنے والے حالات و واقعات سے متعلق بھی کوئی مجموعہ انتخاب مارکیٹ میں دستیاب ہے ؟انہوں نے کہا جی ہاں! اس طرح کے دو مجموعے ایک زمانے میں میری نظروں سے گزرے تھے ،ایک کا نام غالباً’’بہارِ سخن ‘‘تھا ،دوسرے کا یاد نہیں رہا ۔یہ قدرے پرانی روایت ہے کہ ایک عنوان کے تحت متعدد اشعار جمع کرنا آج بھی رائج ہے ۔ یہ روایت پاکستان کے اکثر جرائد میں اب بھی جاری ہے ۔آزادؔ صاحب نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی کتابوں کی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے ۔اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بات چیت کرتے وقت کوئی حسب ِحال شعر یاد آجائے تو بات چیت کی دل کشی اور اہمیت بڑھ جا تی ہے ۔ویسے بھی اچھے شعر کا ذوق ایک نعمت ہے جو دینے والے کی طرف سے کسی کسی کو ہی ملتا ہے ۔
آزاد صاحب نے جوشؔ ملیح آبادی کے حوالے سے بتایا کہ مہاراجہ ہری کشن پرشادؔ کے دربار میں سنسکرت کا ایک شاعر تھا، اس نے جوشؔ صاحب سے کہا تھا کہ جوش ؔ صاحب ہم اس شخص کو انسان ہی نہیں سمجھتے جو ذوقِ سخن سے عاری ہو ۔ ہماری گفتگو آگے بڑھی تو میں نے جھجکتے ہوئے عرض کی کہ اسی طرح کا ایک مجموعہ میں نے بھی ترتیب دیا ہے، آپ اسے ملاحظہ فر مالیں ۔اگر کسی کام کا ہو تو آپ اس کا پیش لفظ لکھ دیں تو میں اسے شائع کردوں گا ۔میں نے مسودہ ان کے سامنے رکھ دیا ، انہوں نے بڑی دلچسپی سے ان اوراق کی ورق گردانی شروع کر دی۔اسی اثناء میں میں آزاد صاحب کے چہرے مہرے پر نظر جما ئے دیکھتا رہا، جب میں نے ان کے چہرے پر خوشی و مسرت کے غیر معمولی اثرات محسوس کئے تو مجھے قدرے اطمینان ہوا کہ محنت رائیگاں نہیں گئی ہے ۔ پورا مسودہ سرسری نظروں سے ملاحظہ کرنے کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے شمسی صاحب! آپ نے بڑی محنت کرکے اردو ادب کے بحرِ ذخائر سے موتی چن چن کر یہ بہت ہی سنجیدہ اور با وقار انتخاب جمع کیا ہے ۔آپ نے اس کا کیانا م رکھا ہے ؟میں نے کہا:نام بھی آپ ہی تجویز کریں اور پیش لفظ بھی لکھ دیں ۔انہوں نے ٹھہر کر کہا ’’چمن چمن کے پھول۔‘‘میں نے کہا بالکل دُرست اور شکر کہ وہ ا س کا پیش لفظ لکھنے پر بھی تیار ہو گئے ۔کچھ دن بعد پیش لفظ لکھ دیا۔البتہ اس مجموعے کا پہلا عنوان تھا ’’جادہ ومنزل‘‘جس کا پہلا شعر اقبال کے حوالے سے یہ لکھا تھا    ؎
 میں کہاں رُکتا ہوں عرش و فرش کی آواز سے
 مجھ کو جانا ہے  بہت  اونچا  حد ِپرواز سے
 آزادؔ صاحب نے کہا یہ شعر آپ نے اقبال کی کس کتاب سے نقل کیا ہے ؟میں پریشان ہو گیا، چونکہ اس شعر کا شجرۂ نسب تو صحیح طور پر مجھے بھی یاد نہیں تھا ،اس لئے ذرا توقف کے بعد میں نے کہا کہ کتاب تو مجھے بھی یاد نہیں اور نہ اقبال کی کسی کتاب میں یہ شعر پڑھا ہے، البتہ ایک عرصہ سے اقبال سے منسوب یہ شعر سنتا اور پڑھتا رہا ہوں، ممکن ہے یہ شعر ’’بال جبریل‘‘ میں ہو۔ چونکہ اس قسم کا شعری تخیل ’’بال جبریل ‘‘میں ملتا ہے ۔آزادؔ صاحب اُٹھے اور الماری سے ’’بال جبریل ‘‘کا وہ نسخہ نکال کر میرے سامنے رکھ دیا جو علامہ کی نگرانی میں سب سے پہلے لاہور سے شائع ہوا اور اشاعت کے بعد اس کی اغلاط کی تصحیح علامہ اقبال نے اپنے ہاتھوں کی تھی ۔جو کتاب کے حاشیہ پر نظر آرہی تھی۔میں نے ساری کتاب کو اُلٹ پلٹ کر دیکھا مگر یہ شعر کہیں نہ ملا ۔ اس پرمیں نے سنی سنائی غلطی کا اعتراف کر لیا تو اس وقت آزادؔ صاحب نے کہا یہ شعر اقبال کا نہیں۔البتہ کسی اورنے اقبال کے تخیل اور زمین میں طبع آزمائی کی ہے جس کی وجہ سے اقبال کے نام سے مشہور ہوگیا ۔
 آزادؔ صاحب کی ذاتی لائبریری میں کوئی تین ہزار قیمتی کتابوں کا ذخیرہ تھا جو انہوں نے بہت ہی خو صورت ترتیب کے ساتھ الماریوں میں سجا رکھا تھا۔ان کا گھر عام اصطلاح میں رہائشی گھر نہیں بلکہ علم و ادب کا گہوارہ اور دانش گاہ تھا ۔صرف ایک بیڈ روم اور کچن تھا باقی تمام کمروں میں دیواریں نکلوا کر ایک کشادہ لائبریری موجود تھی ۔ اس میں بعض بہت ہی نادر و نایاب کتب اور بر صغیر کے علمی و ادبی جرائد کے خصوصی نمبر بشمول طفیل مرحوم کا’’ نقوش کے سیرت نمبر ‘‘ وغیرہ موجود تھے ۔میں جو کوئی کتاب ان سے مطالعے کے لئے طلب کرتا وہ بخوشی مجھے ہمیشہ کے لئے ہدیہ کر دیتے تھے ۔یہ اُن کی زندگی کے آخری ماہ و سال تھے ، شاید چاہتے تھے کہ کوئی ان کتابوں سے استفادہ کرے۔ میری ذاتی لائبریری میں آزادؔ صاحب کی ہدیہ کردہ کتابوں کا ایک اچھا خاصہ ذخیرہ جمع ہوا ۔یہ غالباً۲۰۰۳ ء کی بات ہے کہ میںحسب معمول ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، مکان میں عجیب قسم کی اَتھل پتھل اور اکھاڑ پچھاڑ چل رہی تھی ۔تمام الماریاں اور ریک خالی  پڑے تھے ،کتابوں کے بڑے بڑے بنڈل باندھ دئے گئے تھے ۔ پانچ چھ بنڈل الگ سے ان کی میز کے پاس پڑے تھے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا :حضرت یہ کیا ماجرا ہے؟آزادؔ صاحب نے اطمینان سے بتایا شمسی صاحب! والد صاحب کی شعر و ادب کی امانت اور علمی ورثے کو ہم نے سنبھالاتھا مگر افسوس کہ میری نسل میں سے اس ورثے کو اب سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے ۔میرے دو لڑکے اور دو لڑکیا ں ہیں، ایک لڑکی لندن میں ایسی جگہ رہتی ہے جہاں دوردور تک اردو لکھنے پڑھنے اور بولنے والا کوئی نہیں، اس لئے وہ اردو تہذیب سے دور ہو چکی ہے۔دوسری بیٹی کی شادی جموں میں ہوئی ہے ،وہ ڈوگرہ کلچر کی نذر ہو چکی ہے، اور دو بیٹے دہلی میں ملازمت وغیرہ کرتے ہیں مگر اردو کے ساتھ ان کا تعلق صرف اخبار وغیرہ پڑھنے تک محدود ہے ۔میں چراغِ آخر شب ہوں ،اس لئے میں نے اپنی ساری لائبریری کشمیر یونیورسٹی کی اقبال چیئر کو وقف کر دی ہے ۔یہ بنڈل انہوں نے باندھ کر رکھے ہیں، البتہ جب جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے ایک روز مجھے طلب کرکے شکوہ کیا کہ آپ جموں یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ ہیں اور اپنی لائبریری کشمیر یونیورسٹی کو کیوں دی ہے؟میں نے انہیں بتایا کہ کشمیر کے لوگ علم اورکتابوں کے قدر دان ہیں، انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا تو میں نے کتابیں انہیں دے دیں ۔آپ لوگوں نے کبھی اس حوالے سے رابطہ نہیں کیا تو میرا کیا قصور ہے ؟وائس چانسلر صاحب نے تقاضا کیا کہ کچھ کتب آپ جموں یونیورسٹی کو بھی دے دیں۔ میں نے کہا اگر آپ تقاضا کرتے ہیں تو میں پانچ ہزار کتب جموں یونیورسٹی کو دے دوں گا ۔شمسی صاحب کتابوں کے یہ چھ بنڈل میں نے جموں یونیورسٹی کے لئے بند ھوا کر رکھے تھے لیکن ایک دن جموں یونیورسٹی کا ایک ایسا اردو پروفیسر یہ کتابیں چیک کرنے آیا جس سے ایک دلچسپ واقعہ جڑا ہے ۔میں جب جموں یونیورسٹی میں آیا تو وائس چانسلر صاحب سے کہا کہ آپ مجھے ایک ایسا آدمی فراہم کردیں جو اچھی اردو جانتا ہو، جو میرے کام میں معاونت کر سکے مگر شرط یہ ہے کہ میں اُسے ٹیسٹ لے کر رکھوں گا ۔وائس چانسلر صاحب نے یونیورسٹی میںکام کرنے والے ایک کلرک کو بھیج دیا، جو آج یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر ہیں ۔میں نے جب ان کا ٹیسٹ لینے کے لئے کہا کہ لکھو’’ ارمغانِ حجاز‘‘اُسے ارمغان حجاز لکھنا نہیں آیا ، میں نے اسے واپس کردیا۔ بعد میں جموں یونیورسٹی میں اردو کے ایک اسٹنٹ پروفیسر کی کوئی آسامی نکلی تو اُن صاحب نے بھی امیدوار کے طور پر درخواست دے ڈالی۔میں نے ایک دن اُن سے پوچھاآپ کو تو ’’ارمغان حجاز‘‘ لکھنا نہیں آیا تو آپ کیسے اردو کے اسٹنٹ پروفیسر بنیں گے ؟اس نے کہا میں نے سلیکشن ٹیم کو ایک مخصوص رقم دی ہے اور پستول بھی دکھا دیا کہ مجھے سلیکٹ نہ کیا گیا تو اس سے گولی مار دوں گا، اس لئے میں سلیکٹ ہو جاؤں گا آپ فکر نہ کریں ۔پھر یہ صاحب اردو کے اسٹنٹ پروفیسر بن گئے ، کل یہی صاحب میری کتابیں چیک کرنے آئے تو انہوں نے ان کتابوں میں سے بہت ساری کتابیں ریجکٹ کر دیں ۔یہ دیکھو پاکستانی بچوں کا ادبی ڈائجسٹ’’نو نہال‘‘کی دس کاپیاں ’’ادیب نمبر ‘‘ ہے جو پاکستان کے ادباء و شعراء کے بچوں پر خصوصی نمبر ہے کہ پاکستان کے ادباء و شعراء کے گھروں میں ان کے بچے کیسا ادب تخلیق کر رہے ہیں ۔ان صاحب نے ان خصوصی نمبر کی دس کاپیوں کو بھی مسترد کردیا کہ یہ بچوں کا رسالہ ہے ،یونیورسٹی میں اس کا کیا کام ؟ میں نے ان صاحب کو چائے پلا کر واپس کردیا کہ جگن ناتھ آزادؔکتابیں سلیکٹ کرے اور آپ کون ہوتے ہیں انہیں ریجکٹ کرنے والے ؟ اس لئے اب میں یہ ساری کتب کشمیر یونیورسٹی کو دے رہا ہوں ۔‘‘
 ایک دن جموں کے شعراء پر گفتگو ہورہی تھی تو آزادؔ صاحب کہنے لگے:ادبی مجالس میں شمولیت ایک شاعرو ادیب کی مجبوری سمجھیں یا کمزوری مگر آج کے جموں کی زمین اردو شعر و ادب کے لئے کوئی زیادہ زرخیز نہیں۔یہاں دانش کدہ میں مشاعرے ہوتے ہیں ،تمام جہلاء کو اکٹھا کرکے جگن ناتھ آزادؔ کی صدارت رکھی جاتی ہے ،نہ کسی کو قافیہ ردیف کا پتہ ، نہ وزن معلوم ،پھر بھی چاہتے ہیں کہ آخر میں جگن ناتھ آزادؔاس پر مہر تصدق ثبت کرے ۔
 آزادؔ صاحب اپنی عملی زندگی میں بے کلمہ مسلمان دکھائی دیتے تھے ۔میں نے ان کے گھر کے سارے کمروں اور ان کے بیڈ روم وکچن تک کو دیکھا ہے ،ان کے گھر میں جگہ جگہ آیات قرآنی کی مختلف نادر نمونے مثلاً آیت کریمہ ،سورۂ اخلاص،آیت الکرسی وغیرہ نہایت شکستہ خطاطی میں آویزاں تھیں ۔ یہ ان کے پاکستانی دوستوں نے ہدیہ کئے تھے۔وہ جب اسلام اوراسلامی تاریخ اور سیرتِ نبویؐ پر گفتگو کرتے تو مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میں کسی بڑے عالم دین اور اسلامی دانش ور کے سامنے بیٹھا ہوں ۔انہوں نے اپنے والد کی سوانح عمری’’حیاتِ محرومؔ‘‘ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ میرے والد مرحوم کا جب دہلی میں انتقال ہوا تو ہندو رسم و ریت کے مطابق انہیں نہلا دھلا کر ایک پھٹے پر سفید چادر ڈال کر رکھا تو ہمارا خاندانی پنڈت آیا جس نے مجھے دھوتی بندھوا کر اگربتیاں جلا کر پکڑوائیں اور مخصوص انداز میں مجھے ان کے ارد گرد چکر کاٹنے کی ہدایت کی ۔اپنے آبائی رسم و رواج اور خاندانی ریت کے مطابق میں نے وہ سب کچھ کیا جس پر زندگی بھر میرا کبھی یقین نہیں رہا ۔ایک دفعہ میں نے ان سے کہا: پروفیسر صاحب! آپ اسلام اور مسلمانوں کے کلچر و مذہب کو ہم خاندانی مسلمانوں سے زیادہ جانتے اور سمجھتے ہیں اور اسلام کی حقانیت کا بھی آپ کو یقین ہے اور رسول کریم ﷺ کی شان میں آپ نے جوضخیم نعتیہ کلام’’ نسیم حجاز‘‘کے نام سے لکھا ہے، وہ بہت قابل قدر ہے ۔
رابطہ :مضمون نگار :چیئرمین الہدیٰ ٹرسٹ راجوری ہیں۔
 فون نمبر:7006364495
(بقیہ منگل کے شارے میں ملاحظہ فرمائیں)