آفات سماوی سے متعلق قبل از وقت وارننگ سسٹم کی تنصیب ہنوز خواب | ڈوپلر راڈر نصب کرنے کا منصوبہ 2015سے اب تک تشنہ تکمیل، اہم معاملہ نظر انداز کرنیکا سہوہر ایک انتظامیہ نے انجام دیا

 سرینگر //بادل پھٹنے کے واقعات کا قبل از وقت پتہ لگانے کیلئے جموں وکشمیر میں جدید راڈر سسٹم ابھی تک نصب نہیں کیا گیا ہے جبکہ اترا کھنڈ اور ہماچل پردیش میں رواں سال جنوری میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس سسٹم نصب کئے گئے ہیں ۔ مرکزی وزارت ارتھ سائنس کے میٹرولوجیکل ڈیپاٹمنٹ نے 2019میں اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ امر ناتھ یاترا کے سلسلے میں موسمی وارننگ سسٹم کیلئے گمری زوجیلا اور اوڑی میں 2 موبائل ڈوپلر راڈر سسٹم نصب کئے جائیں گے اور یاترا کے اختتام پر گمری میں نصب موباہل ڈوپلر راڈر کو بانہال میں نصب کیا جائیگا تاکہ قومی شاہراہ، جنوبی کشمیر اور چناب ویلی کے بارے میں قبل از وقت موسمی وارننگ جاری کی جاسکی۔مرکزی وزارت کا کہنا تھا کہ جموں اور لیہہ میں بھی موبائل ڈوپلر راڈر سسٹم کی تنصیب کی جائیگی۔لیکن اس منصوبے کو کبھی بھی عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔حکومتی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب نہ کرنے کے نتیجے میں ہی2014کے تباہ کن سیلاب کے بارے میں قبل از وقت کوئی پیش گوئی نہیں کی گئی تھی کیونکہ ایسا کوئی نظام ہی نہیں ہے جس سے قبل از وقت لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے حالانکہ  6سال قبل آئے تباہ کن سیلاب کی بنیادی وجہ متواتر طور پر پیر پنچال پہاڑی سلسلے میں بادل پھٹنے کے واقعات تھے، جس سے بڑے پیمانے پر پانی کے ریلے نیچے آگئے اور پوری وادی میں تباہی مچ گئی۔2015میں مرکزی حکومت نے اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ جموں کشمیر میں ڈوپلر راڈر سسٹم کو بہر صورت نصب کیا جائیگا تاکہ برفانی طوفانوں، شدید برفباری، بادل پھٹنے، شدید بارشیں ہونے اورسیلاب آنے کے بارے میں قبل از وقت جانکاری حاصل کی جاسکے۔ لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں کی جاسکی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ محکمہ ماحولیات، جنگلات اور ارضیات کشمیر نے چند سال قبل ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ گوبل وارمنگ کے نتیجے میں 2030تک جموں کشمیر کے موسمی حالات میں 50فیصد تبدیلی آسکتی ہے کیونکہ ہمالیہ میں گلئشیر پگل رہے ہیں اور جموں کشمیر پر اسکے براہ راست اثرات مرتب ہونگے۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہمالیائی خطے میں بارشوں کی مدت بڑھ جائے گی، جو اوسطاً تین دن سے بڑھ کر 5دن اور پانچ دن سے بڑھ کر 10دن تک بڑھ سکتی ہیں۔اس وقت جموں وکشمیر میں صرف کشمیرخطہ کے رام باغ علاقے میں ایک راڈر نصب ہے جس کے ذریعہ موسم کے حوالے سے لوگوں کو جانکاری ملتی ہے لیکن جموں وکشمیر میں کوئی بھی ایسا سسٹم نصب نہیں جس کے تحت بادل پھٹنے کے واقعات سے قبل اس کا پتہ لگایا جا سکے ۔ محکمہ موسمیات کے عہدیداران کا کہنا ہے جموں میں جدید ٹیکنالوسے لیس ایک راڈر کی تنصیب کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جس کو اگلے ماہ تک چالو کیا جائیگا۔ محکمہ کا منصوبہ ہے کہ ایک سسٹم بانہال کی پہاڑیوں پر نصب کیا جائے گا تاکہ موسم کے بارے میں لوگوں کو مکمل جانکاری مل سکے ۔معلوم رہے کہ جموں وکشمیر میں اب سیلابوں کا آنا اور بادل پھٹنا کوئی نئی بات نہیں ہے جموں وکشمیر میںقدرتی آفات کی ایک لمبی تاریخ ہے لیکن تاریخ سے ابھی تک جموں وکشمیر حکام نے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے ۔آفات سماوی سے نپٹنے کیلئے یہاں کوئی منصوبہ ہی نہیں ہے اور نہ جدید ٹیکنالوجی سے کوئی فائدہ لیا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈوپلر راڈر ایک ایسا راڈر ہے جس سے نہ صرف بارشوں کی پیشگوئی کی جا سکتی ہے بلکہ بادل پھٹنے کے واقعات کا بھی  قبل از وقت پتہ لگایا جا سکتا ہے ۔یہ ریڈار ہوا کی طاقت کی پیمائش کرسکتا ہے۔ راڈ ریڈیو لہروں کو خارج کرتا ہے اور بارشوں اور بادلوں کی شدت کی جانچ کرتا ہے اور اس کی مقدار کا معائنہ بھی کرتا ہے۔ ڈوپلر راڈر کا استعمال کر کے ہوا کی سمت کا بھی تعین کیا جا سکتا ہے۔ ایسا راڈر سسٹم نہ ہی جموں خطہ میں اور نہ ہی کشمیر میں نصب کیا گیا ہے ۔ وادی کی اگر بات کریں تو یہاں پر اکثر وبیشتر آفات سماوی کی وجہ سے نقصان ہوتے رہتے ہیں یہاں سردیاں ہوں یا گرمیاں،  برف باری سے تباہی مچ جاتی ہے اور گرمیوں میں اکثر بادل پھٹنے کے سبب  املاک کو نقصان پہنچتا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اترا کھنڈاور ہماچل میں تین تین رڈار نصب کرنے کا منصوبہ ہے اور وہاں حکام نے ایک ایک ڈوپلر راڈر سسٹم نصب کر دئے ہیں ۔ ایسے ہی سسٹم کو جموں وکشمیر میں بھی نصب کرنے کی ضرورت ہے ،کیونکہ یہاں پر اکثر وبیشتر بارشوں اور بادل پھٹنے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوتا ہے ۔
 
 
 

بادل پھٹنے کے واقعات 

نیوز ڈیسک
 فروری 2005 میں جنوبی کشمیر کے والٹینگو ناڑ میں برفانی طوفان کی وجہ سے 175 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ 6 اگست 2010 کی درمیانی شب لیہہ ضلع میں بادل بھٹ گئے جس کے سبب مٹی کے تودے اور پتھر گر آئے اور اس دوران 255افراد ہلاک ہو گئے اور لاکھوں روپے کی مالیت کا نقصان پہنچا ۔ سال 2014 میں وادی میں تباہ کن سیلاب آیا جس کے نتیجے میں لگ بھگ 300 افراد ہلاک اور 250000 مکانات کو مکمل یا شدید نقصان پہنچا اور اس سیلاب نے کشمیر کے ہر ایک ضلع کو متاثر کیا اور 550000 سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ۔ محکمہ افات سماوی کا کہنا ہے کہ سال 2014میں آنا والا سیلاب 1841 اور 1893 میںآنے والے سیلاب سے کافی تباہ کن تھا ۔سال2018میں کرناہ کے شمس بری پہاڑی پر یکے بعد دیگر بادل پھٹ گئے جس کے نتیجے میں 2افراد کی موت ہوئی بلکہ 100دکانیں اور مکانات کو نقصان پہنچا ۔گذشتہ روز کشتواڑ میں اس سے ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔
 
 
 
 

آج سے موسم بدلے گا 

موسلا دھار بارشیں نہیں ہونگی

اشفاق سعید 
 سرینگر //موسلا دھار بارشوں کے بعد جمعرات کو مطلع ابرالود رہا۔ اس بیچ محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران تیز بارشیں ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے ،البتہ کچھ ایک علاقوں میں ہلکی بوندا باندی ہوسکتی ہے ۔ جموں و کشمیر میں اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کہیں کہیں بارش ہوسکتی ہے تاہم موسلا دھار بارشیں ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔محکمہ کے ترجمان کے مطابق سرینگر ضلع میںگزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 4.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ سیاحتی مقام گلمرگ2.0 ملی میٹر، پہلگام میں 22.8 ملی میٹر ،کپوارہ میں 19.6 ملی میٹراور قاضی گنڈ میں 8.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے ۔