آغا حشر کاشمیری

ڈرامہ  نگاری کے میدان میں ایک سے ایک بڑھ کر اشخاص نے اپنے ہنرنام پیدا کیے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی ڈرامہ نگاری امزور کے تقاضے کے تحت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کا رشتہ اس سے ٹوٹتا گیا،جس سے ان کے نام اور ڈرامے کتابوں کے اوراق میں اپنی قدیم خصوصیت کے ساتھ ضم ہوکر رہ گئے۔ ڈرامہ انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان اس وقت بھی ڈرامے سے وقت گزاری کرتا تھا؛جب وہ تہذیب وتمدن سے عاری تھا۔ جنگلوں میں آگ جلاکر طرح طرح سے ناٹک اور کرشمے دکھاتا۔ اور یہ ان کے لیے وقت گزار نے کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈرامہ کی ابتدا’یونان‘ سے ہوا، مگر ڈرامے کو پیشہ وارانہ روپ اور فن کی حیثیت سے استعمال پہلے یورپ نے کیا۔ یونان کیوں کہ دیوی دیوتائوں کے پہلے پرستار تھے اور وہ ان ڈراموں کے ذریعے اپنی دیوی دیوتائوں کے قصے کو محفل میں لوگوں کوجمع کرکے پلے کرکے دکھاتے اور سناتے۔ اس سے ان کا مذہبی کام ہوتا تھا۔ جب مغربی ممالک نے ڈرامے کی طرف قدم بڑھایا تو اب ڈرامہ مذہبی محدود دائرے سے نکل کر فن کی حیثیت اختیار کرنے لگا۔ یہاں یہ بات ضرور ہے کہ مغربی ممالک نے ایک حدتک یونانیوں کی تقلید کی۔ رہا ہندوستان تو ڈرامے کے نمونے مہابھارت میں ملتے ہیں۔ پھر یہ کہ جدید تحقیق سے یہ بات بھی اجاگر ہوئی ہے کہ سنسکرت میں سب سے پہلے بھاش نے چوتھی،پانچویں قبل مسیح ڈرامہ نگاری کا آغاز کیا تھا۔ یہاں یہ بات بھی واضح کردوں کہ ہندوستان میں ڈرامے کے معاملے میں وہ تقلید نہیں کی گئی جو یورپ نے یونان کاکیا۔ 
یہاں ڈرامے کے آغاز وارتقا کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرنے کی گنجائش نہیں۔ کیوں کہ موضوع’’انڈین شیکسپیئراورڈرامہ نگاری‘‘ ہے تو ظاہر ہے کہ ہم یہاں زیادہ سے زیادہ موضوع گفتگو کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے، مگر بہتر اور مناسب ہے کہ اس سے پہلے اردو ڈرامے کا آغاز کے حوالے سے کچھ اجمالی طورپر نظر ڈالتے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ آغا حشر سے پہلے اردو ڈرامہ نگاری کی کیا صورت تھی۔ اس ضمن میں یہ بات بھی خلاصہ ہوجائے گا کہ آغا حشر کے اردو ڈرامے کی دنیا میں آمد سے کیا گل بوٹے لگے، کس نہج پر ترقی کے مدار ج طے ہوے اوراس نے قدو منزلت میں کیا مقام حاصل کیا۔ اس حوالے سے کہ اردو ڈرامے کا یا یوں کہیں کہ ہندوستان میں اردو ڈرامے کا آغاز کہاں سے اور کس طرح ہوا،تو امتیاز علی تاج رقم طراز ہیں :
’’موجودہ دور میں اردو ڈرامے نے ہندوستان کے نواب واجد علی شاہ کے قصر باغ کی چار دیواری میں جنم لیا۔ اس زمانے میں اتفاق سے ایک فرانسیسی کو دربار اودھ میں بار یابی حاصل ہوگئی۔ رنگیلے پیا کے لیے انوکھی تفریح بہم پہنچانا درباریوں کے لیے ایک مستقل مسئلہ بنارہتا تھا۔ فرانسیسی کو اس کا علم ہوا تو اس نے یورپ کے تفریحی ڈرامے کا ذکر کیا- چناں چہ پہلے پہل اردومیں جو ناٹک کھیلاگیاوہ خالص اوپیرا تھا۔ اس کانام اندرسبھا تھا اور اسے سید آغا امانت لکھنوی نے لکھا تھا‘‘۔
یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوکہ اردو ڈرامے کی ابتدائی نشوونما کا تعلق’’رادھا کنہیا‘‘ سے ہے جو ہندوستان کا پہلا ڈرامہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ جس کو واجد علی شاہ نے ترتیب دیا تھا، لیکن ایک ڈرامے میں جو بات ہونی چاہیے؛ اس میں نہیں تھی،جو سید آغاامانت لکھنوی کے ڈرامے میں آئی۔ اس لیے اردو میں باضابطہ ڈرامے کا آغاز آغا امانت لکھنوی سے ماناجاتاہے۔ اس کے بعد کئی شخصیات نے اس روایت کو آگے بڑھایا۔ امانت کے ڈرامے کا وہ جادو چلا کہ اس دور میں نہ جانے کتنے اندرسبھا کے نام سے ڈرامے وجود میں آگئے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ہے، بلکہ اس زمانے میں ہر ڈرامے کو اندرسبھا سے ہی پکارنے لگے۔ جہاں کہیں ڈرامہ پلے ہوتا تو لوگوں میں شور ہوتا کہ ’’چلو اندر سبھا دیکھنے‘‘یہ اندرسبھا کی مقبولیت کا عالم تھا، مگر جب بات آتی ہے انڈین شیکسپیئرآغاحشر کاشمیری کی تو اردو ڈرامے کو جو انھوں نے وقار ومقام بخشا، ساتھ ہی حشر کو جو عزت اور شہرت ملی وہ اور کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ حشر کے معاصرین میں کچھ مشہور و معروف ڈارمہ نگار کے نام یہ ہیں:
طالب بنارسی،احسن لکھنوی، بیتاب بنارسی،عباس، عبدالطیف اور شاد وغیرہ ۔ 
ایک وقت تک حشر اپنے معاصرین کے صف میںساتھ کھڑے رہے مگر وہ دور بھی آیا کہ وہ سب کوپیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئے۔ اس ترقی نے انھیں اردو ڈارمے کے جہان میں لافانی بنادیا۔
آغا حشر نے تقریباً ۳۳؍سال تک ڈرامے لکھے۔ ابتدائی ڈراموں کا رخ اور انداز پیش کش وہی ہے جو معاصرین یا یوں کہیں کہ جو ہمارے یہاں روایتی انداز کے ڈراموں کا تھا۔ ان ڈارموں کا اصل مقصد عام طور سے پیشہ اور تفریح فراہم کرنا رہتا تھا۔
آغا حشر نے اپنے نوک قلم سے سب سے پہلے جس ڈرامے کو جامہ پہنایا اس کا نام’’آفتاب محبت‘‘ہے۔جس کو انھوں نے1897ئمیں تحریر کیا۔ اس کے متعلق عشرت رحمانی اپنی کتاب’’اردوڈرامے کی تاریخ اور تنقید‘‘میں تحریر کرتے ہیں:
’’احسن صاحب کو ’’چندراولی‘‘ پر بڑا ناز تھا۔ کسی صحبت میں حشر کے منھ سے نکل گیا کہ اس سے اچھا ڈرامہ میں لکھ سکتا ہوں، جو احسن صاحب کو ناگوار ہوا۔ غرضیکہ حشر نے ’’چندراولی‘‘ کے جواب میں اپنا پہلاڈرامہ ’’آفتاب محبت‘‘ 1897ء میں لکھا اور بنارس کے ایک کتب خانے میں فروخت کردیا۔ ڈرامہ چھپا مگر کہیں اسٹیج نہ ہوا۔ منشی احسن نے اس ڈرامے کو دیکھ کر آغا صاحب پر ’بچپن کا کھیل‘کی طنز کی‘‘۔
اس طرح حشر اپنی ڈرامہ نگاری کے مشن کو شروع کرتے ہیں۔ آغا حشر (پیدائش1879) کے اباواجدادکشمیری تھے۔کشمیر میں حالات کے ناسازگارہونے کی وجہ سے والد محترم بنارس آکر بس گئے۔ آغا کا گھریلونظام مذہبی تھا۔شاید اس لیے وہ اپنی فن کاری کی مکمل صلاحیت کو پیش کرنے میں خود کو Comfortableمحسوس نہیں کررہے تھے۔ کہیں نہ کہیں گھریلونظام انھیں کھل کر میدان میں آنے میں آڑ بن رہا تھا۔اور پھر ممبئی میں ڈرامہ پلے کی دھوم نے انھیں گھر چھوڑ نے پر مجبور کیا۔ تذکرہ نویسوں نے ان کے گھر سے بھاگنے کا ایک واقعہ یہ بیان کیا ہے کہ میونسپلٹی میں ملازمت کے لیے ان کے والد نے آغا حشر کے لیے بات کی جس میں کچھ رقم جمع کرنی تھی۔ حشر کے والد ان کو رقم دی مگر کسی وجہ سے وہ اس دن وہ جمع نہ ہوسکی ۔ لوٹتے وقت انھوں نے دوستوں کی خاطر تواضع میں خاصی رقم خرچ کردیا۔ اب ڈر سے گھر کی جانب راہ نہ لے کروہ اسٹیشن کا رخ کیا اور ممبئی پہنچ گئے۔ مگر کسے معلوم تھا کہ آج کا بھگوڑا کل ڈرامہ نگاری کا مجدد اعظم بن جائے گا۔ وہ ممبئی پہنچ کر ’’کاوش جی‘‘کی کمپنی میں ڈرامہ نویسی کی خدمات انجام دینے لگے۔ آغا کی آمد نے کمپنیوں کے تجارتی میدان میں وہ بہار لائی کہ ہر کمپنی اس امید پر رہتی اور خواہش ظاہر کرتی کہ آغا ہماری کمپنی کے لیے ڈرامہ لکھ دیں۔ اگر ہم یہ کہیں کہ آغا حشر ڈرامے کے میدان میں اپنی انفرادیت اور صلاحیت کی وجہ سے اگلوں اور پچھلوں کے امام ہیں تو کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہوگا۔ قارئین آنے والی عبارت سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ آغا حشر کا ڈرامہ کس قدرپُر کشش تھا اس میں جادوگیری کا کیاعالم تھا:
 ’’میڈن تھیڑ کمپنی کے ایک مشہور ایکٹر محمد طفیل صاحب کے چچا نے آغا صاحب کی مقبولیت کا حال بیان کرتے ہوئے ایک واقع کا ذکر کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جس کمپنی میں کام کرتا تھا اس کی مالی حالت کئی مہینے سے بہت خراب تھی۔ آغا صاحب کمپنی میں آئے تو سب سے پہلے ڈراما’’سلورکنگ‘‘ اسٹیج پر پیش ہوا۔ اس کھیل کو اتنا پسند کیا گیا کہ وہ لگاتار ساتھ مہینے تک چلتا رہا۔ اور کمپنی کو اتنی آمدنی ہوئی کہ ملازموں کی تنخواہ ہوں کے علاوہ الائونس بھی ملنے لگے۔ ایک شو کی آمدنی ملازمین میں تقسیم ہوئی۔ اس کھیل سے کمپنی کی شہرت بہت پھیل گئی‘‘۔
آغا حشر کاشمیری نے اپنے فنی کمال سے ایک تاریخ رقم کی۔ اس تاریخ نے جہاں ڈرامے کو بیش قیمت خزانہ عطا کیا وہیں ان ڈراموں نے آغا کو بھی لوگوں میں مقبول عام کردیا اور ساتھ ہی حشر کی خوبی سے آگاہی بھی۔
مزید حشر کے ڈرامے کے حوالے سے گفتگو کرنے سے پہلے مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کی ڈرامہ نگاری دور کا جائزہ لیں تاکہ مزید معلومات اور بات کی سمت بہتر ثابت ہو۔ یہاں پروفیسر وقار عظیم صاحب کی کتاب’’اردو ڈرامہ فن اور منزلیں‘‘ جس میں وہ بحوالہ مضمون’’آغاحشر کا فنی ارتقا‘‘ عشرت رحمانی کے حوالے سے بات کرتے ہیں،پیش ہے:
’’پہلا دور 1901ءسے 1905ء تک، اس دور میں مرید شک،مارآستیں، میٹھی چھڑی اور اسیرحرص لکھے گئے۔ 
دوسرا دور 1906ئسے 1909ء تک، اس دور میں شہید ناز ،خوبصورت بلا ،سفید خون اور صید ہوس لکھے گئے۔ 
تیسرا دور1910ء سے1916ء تک، سلورکنگ، خواب ہستی،یہودی کی لڑکی،سورداس ،بن دیوی اور پہلا پیار اس دور کے مشہور ڈرامے ہیں۔
چوتھا دور 1917ءسے 1924ء تک، یہ کلکتہ کے قیام کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں آغا صاحب نے زیادہ تر ہندی کے ڈرامے لکھے۔ مدھرمرلی،بھاگیرتھ گنگا،بھار رمنی(قیدم بن دیوی ہندوستان جس کے تین حصے ہیں: شرون کمار،اکبر اورآنچ) آنکھ کا نشہ، پہلا پیار اور بھیشم اس دور کی یادگار ہیں‘‘-مزید سیر کی گرج،ترکی حور وغیرہ بھی اس دور کے ہیں۔ 
آحشر جہاں اپنے ڈراموں سے عوام کی تشنگی بجھانے کا کام کررہے تھے وہیںانھوں نے اصلاح معاشرہ میں بھی اہم کار ہائے نمایا ںانجام دیے۔ ماقبل میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ آغا حشر کے شروع کے ڈراموں کا حال وہی تھا جو اس دور کے ڈراموں کا تھامگر آغا کے یہاں تبدیلی روز بروز ترقی کے ساتھ ہوتی رہی۔ اس لیے بعد کے ڈرامے بدلتے انداز اور انفرادیت میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ آغا حشر ڈرامے کو صرف تفریحی فن تصور نہیں کرتے بلکہ وہ اس کے ذریعے سماج کو بیدار رکھنا اور اس میں تبدیلی کے خواہاں تھے۔ اس لیے بعد کے ڈراموں میں اصلاحی جذبہ زیادہ حاوی ہے۔ اس دور میں سیتا بن باس(1928ء)رستم و سہراب(1929ء)مزید اس کے بعد دھرمی بالک،بھارتی بالک،دل کی پیاس، فرض عالم، ٹاکیز میں شریں فرہاد، عورت کا پیار،چندن داس بھیشم کوحشر مکمل نہ کرسکے-ان کے ڈراموں میں کشمش کا عالم چھیارہتا ہے۔ 
(بقیہ بدھ کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)