آصفہ

۔ 8سالہ معصومہ جو جنسی تشدد کا شکار ہوکر قتل ہوئی

کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی
کتنی ظالم یہ دنیا ، اے خُدا ہو گئی
کیسے دہشت کو تونے سہا چھوٹئے
ساری دنیا ہے خنجر زدہ چھوٹئے
کتنی غمگین ساری فضاء ہوگئی
کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی
میں یہ سوچوں کہ کیسے وہ انسان تھے؟
وہ درندے تھے، وحشی تھے، حیوان تھے!
دل سے انسانیت کیوں ہوا ہوگئی
کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی
داغ غم کا دلوں سے مٹے کس طرح
ہر طرف ہے اندھیرا ہٹے کس طرح
ابو، امی کی تُو اب سزا ہوگئی
کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی
کس طرح ظالموں کو کرے گا مُعاف
ربِ انصاف کا تو یہ ہے انعطاف
کیوں کہوں رائگاں یہ دُعا ہوگئی
کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی
یا الہ اور اب کوئی آصفہ نہ ہو
یہ جو قانون ہے ایسے اندھا نہ ہوا
بات کہنی سحرؔ تھی، ادا ہوگئی
کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی
 
ثمینہ سحرؔ مرزا
بڈھون۔ راجوری