آصفہ ۔۔۔ قتلِ عمد کا شرم ناک قصہ

  ننھی منی آصفہ اب اس دنیا میں نہیں مگر اُس ننھی سی جان نے جاتے جاتے انسانیت کوخون کے آنسو رُلایا۔ شاید اس معصوم کی دلدوز ہلاکت کے ماتم میں انسان تو انسان فرشتے بھی سوگوار ہوئے ہوں گے۔ آصفہ اگر کسی تکلیف،مرض یا حادثے کے سبب موت کا پیالہ چکھ لیتی تو شاید کردہ ٔ الہیٰ سمجھ کراُسے برداشت کیا جاتا مگر وہ غیر طبعی موت مری ، المیے کی نذر ہو کر لقمہ ٔ اجل بن گئی ،درندگی کے مقتل سے گزر کر رب کریم سے جاملی اور اپنے پیچھے ہم سب کے لئے چندتلخ اور تیکھے سوالات چھوڑ گئی ۔ سچ یہ ہے کہ اخلاقیات اور حسن سلوک کسی بھی فرد کا ذاتی وصف ہے۔ انسان کا رویہ اس کے اپنے ظرف ، خاندانی اقدار اور تربیت کا آئینہ دار ہوتا ہے لیکن جب کسی معاشرے میں اخلاقی اقدار کو دفن کیا جاتا ہو تواخلاقی پستی اور عقلی زبوں حالی اس معاشرے کا مقدر بن جاتی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ریاست جموں کشمیر آج کل ایسے ہی کچھ ادوار سے گزر رہی ہے جہاںاخلاقی اقدار کا روز ایک نیا جنازہ اٹھتا ہے اورانسانیت کے چہرے پر طمانچوں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے ۔ صوبہ جموں کے ضلع کھٹوعہ میں پیش آیا ایک افسوس ناک واقعہ ہے جس نے انسانیت ، اخلاقیات، احترامِ زندگی سے جڑے تمام زریںابواب کے پرخچے اڑا دئے۔ افسوس صد افسوس! اس دلخراش واقعہ پرپولیس نے فرض ناشناس بن کر سات سالہ مقتولہ بچی کو اپنی کام چوری کا شکار بنا دیا ۔یہ ساری کہانی اس سات سالہ معصوم بچی آصفہ کے حزنیہ کردار کے گھومتی ہے جسے کوئی مجرم اغواء کر کے لیاگیا تھا ۔ اغواء شدہ آصفہ کے والدین اپنی معصوم سی بچی کی جلد از جلد بازیابی کی تگ و دو میں متعلقہ پولیس تھانہ کے باہر پولیس اہل کاروں کی منتیں کرتے رہے تاکہ پولیس جلدی سے معصوم بچی کی تلاش کیلئے کوئی نتیجہ خیز قدم اُٹھائے لیکن بے سود…!! ان کا الزام ہے کہ پولیس نے اپنے فرائض منصبی کو بالائے طاق رکھ کر دیااور غیرسنجیدگی کی ایسی مثال پیش کر دی جو عوام کی نگاہ میں محکمہ پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔پولیس کا ناقابل فہم رویہ دیکھئے کہ انہوں نے معصوم بچی کے والدین کے آنکھوںسے بہتے اشکوں کے سمندر پر بھی ترس نہ کھایا،ان کے پژمردہ چہروں سے اپنی ننھی کلی کی فکر میںمایوسی بھی وردی والوں کا دل پسیج نہ سکی۔ غرض وہ اپنی ڈیوٹی کی لاج رکھ سکے اور نہ مجبور و مظلوم والدین کے دُکھ درد پر ان کی رگ ِ حمیت پھڑکی بلکہ اُلٹاان بے چاروں پر اپنی طاقت کا رعب جمانے لگے ۔ آخر وہی ہوا جس کی فکر مظلوم والدین کو ستائے جارہی تھی، معصوم بچی کا اغواء کے بعد قتل کیا گیا …جی ہاں! اُس معصوم بچی کا قتل جس کی گمشدگی کی رپورٹ سات روز قبل اُس کے والدین نے پولیس تھانہ میں درج کرائی تھی اوربتا یا جاتاہے کہ فوری کارروائی کر نے کی بجائے متعلقہ پولیس نے انتہا درجے کی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔پولیس کی یہی غیر سنجیدگی اُس کی ناقص کار کردگی کا ثبوت پیش کرتی ہے۔
کھٹوعہ کا روح فرساواقعہ متعلقہ پولیس کی عدم کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس لئے لوگ بے وجہ متعلقہ پولیس کے خلاف احتجاج نہیں کررہے ہیں۔آپ ذرا اس پہلو پر بھی غور کیجئے کہ ایک عام فہم اور سادہ سی بات ہے کہ پولیس نے آصفہ قتل کیس کے ملزم کا جو خاکہ بنایا ،وہ کتنا غیر ذمہ دارانہ ہے۔اگر چہ یہ بات ہر باشعور اور بالغ نظر کے ذہن میں کھٹک رہی ہے لیکن عام آدمی اس لئے خاموش کہ کوئی نامی گرامی کالم نگار، کوئی اینکرپرسن ر یا کوئی تجزیہ کار ابھی تک اس موضوع پر خامہ فرسائی کر رہاہے نہ کوئی اپنی قوت گویائی صرف کر رہاہے کہ معصومہ آصفہ قتل کیس میں مجرم کا جو خاکہ پولیس کی جانب سے منظر عام پر لایا گیا ،وہ کتنا غیر حقیقت پسندانہ ہے۔اس طرزعمل کواگر اقلیتی مسلم طبقے کے تئیں لاپروائی سے تعبیر کیا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا ۔ چاپلوس میڈیا اگر ’’ بیٹی بچائو، بیٹی پڑھائو‘‘ کی قصیدہ گوئی میں اپنی ساری بکاؤ صحافت کا ہنرپیش کرتا ہے مگر آج کیوں دھرتی کی ایک بیٹی کے وحشیانہ قتل پر خاموش ہے ۔ کہاں ہے وہ ارنب گوسوامی جو خود کو ملک کا سچا اوروفادار صحافی قرار دیتا رہا ہے ؟ قابل ِ تو جہ امر یہ ہے کہ ریاست میں ایک خاتون وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے بھی معصوم بچیاں عصمت دری کی شکار ہو رہی ہیں ۔ ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا آصفہ کسی کی’’لاڈلی بیٹی ‘‘ نہیں تھی ؟ آصفہ کیس ڈیل کر نے پر مقامی پولیس کی’’ پیشہ ورانہ مہارت‘‘ پر یہ محسوس ہو تا ہے جیسے پولیس ظالم ومجرم کو بچانا چاہتی ہو۔ پولیس سربراہ ڈاکٹر وید جو ہر چھوٹی بڑی گھٹنا پراپنی زبان کا بھر پور استعمال کر تے ہیں ، اس مظلومانہ سانحہ پر خاموش رہے ۔ یہ امر ہزارہا سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ مقامی اسمبلی نمائندے چوہدری لال سنگھ کی خاموشی بھی کچھ کم اذیت ناک نہیں۔ کیا وہ خانہ بدوشوں کے ساتھ پیش آئے اس المیہ کو المیہ سمجھتے ہی نہیں ؟ یہ ساری چیزیں دیکھ کر ایسا معلوم ہو تا ہے گویا سانحہ کا انجام پانا اور پولیس کا بر محل کاروائی نہ کرنا ایک ہی سکے کے دورُخ ہوں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پولیس کی طرف سے ملزم کا بالکل ہی متضاد خاکہ پیش کرنا دیدہ و دانستہ عمل تھا تاکہ قانون کے ہاتھ اصل مجرم تک پہنچ نہ سکیں؟ مزید برآںکیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک پندرہ سالہ لڑکا ایک سات سالہ معصوم بچی کو اغواء کرتا ہے اور اسی گائوں میںسات روز تک اس معصوم لڑکی کو اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد پھر معصوم کلی کی آبروریزی کی جاتی ہے ، اُسے بجلی کے کرنٹ دئے جاتے ہیں ، اس کے بعد اس معصوم بچی کا قتل کیا جاتا ہے ۔ سات روز تک اس گائوں میں پولیس مجرم کا سراغ نہ پاکر کہیں’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ‘‘کے مصداق کوئی اور ہی رام کہانی تو نہیں؟ اس لئے آثار وقرائین سے لگتا ہے کہ یہ قتل ایک سوچی سمجھی سازش جسے طاقتورغیبی ہاتھوں سے انجام دیا گیا ۔ کوئی ذی ہوش یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہماری پولیس اتنی گئی گزری ہے کہ ایک ہی گائوں میں سات روز تک ایک پندرہ سالہ لڑکا آصفہ کو اپنی تحویل میں جبراً رکھے اور پھر ساتویں روز اس کا قتل کر دے ۔ سات روز تک پولیس اغواء کار کے پتہ ٹھکانے کا سراغ نہ پانے  کے بعد آخر قتل کے محض ایک دن بعد پولیس ملزم کو کیسے گرفتار کرلیتی ہے ؟ یہ کوئی مسالہ فلمی ایپی سوڈ ہے؟بے شک آصفہ کے وارداتِ قتل پر لوگوں کا پولیس کے خلاف غصہ ہوناایک فطری ردعمل ہے ۔ اربا ب ِاقتدارکو چاہیے کہ ا س سارے  پُر اسرار معاملے کی ہمہ پہلو چھان بین کر تے ہوئے متعلقہ پولیس عملے کے معمہ جاتی رول کی باریک بینی سے چھان پھٹک کر یں  ۔
گوکہ ماضی سے لے کر آج تک سرکار نے ایسے جگر پاش واقعات کو ہمیشہ بیان بازیوں اور لواحقین کو بطورِ ریلیف معاوضہ دینے تک محدود رکھا لیکن ایسے سارے خون آشام واقعات اور ان پر عوامی حلقوں میں پائے جانے والے شکوک وشبہات کا ازالہ کر نا ارباب اقتدار کا اولین فرض ہے ۔ عوام کا سرکار سے معقول  اور مبنی برانصاف مطالبہ ہے کہ اس بات کا خلاصہ ہونا چاہیے کہ متعلقہ پولیس نے اس معاملے کی تہ تک جانے سے لیت ولعل کیوں کیا؟ اگر اربابِ حل وعقد کاکام متا ثرین کو چکنی چپٹی زبان سے دلاسے کے الفاظ سے ٹرخانا ہے ، انصاف کے جھوٹے وعدے دینا ہے اور مالی امداد کی پیش کش کر نا ہے تو یہ حضرات سن لیں کہ آصفہ کے مظلومانہ قتل میں براہ راست اور بلواسطہ ذمہ داروں کو ننگا کر ے گا کون ؟۔ جب تک اس دل شکن سانحہ میں ملوث حقیقی قصوار کو سامنے نہ لایا جائے تب تک انصاف کی فریادیں ہوتی رہیں گی جن سے ارباب ِاقتدار کی نیندیں حرام ہوں گی۔ نیز کشمیرپولیس کے سربراہ سے یہ اُمید ہے کہ وہ آصفہ کے قتل کا معمہ حل کر کے اپنے فرائض منصبی سے انصاف کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے تاکہ ریاست کے پسماندہ طبقہ جات اور بے نوا عوام میں یہ پیغام جائے کہ محکمہ پولیس ہر غم اور مصیبت کی گھڑی میں ان کے دوش بدوش کھڑا ہے اور یہ کہ قا عدے قانون کے تحت لوگوں کے مال و جان کی حفاظت کے لئے وعدہ بند ہے۔
9797110175