آصفہ ا لمیہ ایک سال بعد

 گزشتہ  سال کی ابتدائی ما ہ میں کٹھوعہ کے رسانہ گائوں میں آٹھ سال کی معصوم کلی آصفہ کے ساتھ انسانیت کو شرمسار کردینے والا ایک ایسا درد ناک ، خوفناک ،شرمناک ،دلسوز اور انسانیت سوز ناپاک سانحہ پیش آیا جس نے انسانیت کی مٹی پلید کر کے رکھ دی یہاں تک کہ بیرون ممالک کے لوگ ہندوستان کو’’ ریپستان‘‘ کہا گیا ۔ آصفہ کے ساتھ مودی بھگتوں نے جو کچھ کیا اس نے گنگا جمنی تہذیب کے دلداہ ملک  کودنیا بھر میں داغدر کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔ ملک کی جمہوریت کے منہ پر اُس وقت کالک پوت دی گئی جب جموں میں بھاجپا کے بڑے بڑے لیڈروں، لاور وڈیروں نے اپنی انتہا پسند تنظیم’’ ہندو ایکتا منچ‘‘ کے بینر تلے ہاتھوں میں ترنگا جھنڈے لئے آصفہ قتل کیس اور عصمت دری میں ملوث گدھ نما قصورواروں کے حق میں بھر پور احتجاج کیا اور بزبان قال وحال بتایا کہ انہیں بیٹیوں کی کوئی عزت نہیں ، انسنایت سے کوئی لینا دینا نہیں ، انصاف کی کوئی چٹی نہیں ۔ ملک کے ہر ذی حس انسان کیلئے وہ مظاہرے انتہائی باعث شرمندگی تھے جب وکلاء کا ایک زعفرانی ٹولہ بھی قصور واروں کے حق میں احتجاج کرنے لگا، بجائے اس کے کہ انصاف کے محافظ بہو بیٹیوں کی رکھشا میں اِس انسانیت سوز سانحہ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہو جاتے اور کھٹوعہ کے متاثرہ بکروال کو انصاف دلاتے ،انہوں نے ظالموں اک ساتھ دے کر سیتاماں کی بجائے راؤن کی حمایت کی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آصفہ معاملہ کو فرقہ پرستوں نے جتنا دبانا چاہا ،اُتنا ہی وہ اُبھر کر سامنے آیا اور ملک کی حقیقی جمہوریت اور سیکولرزم کا پردہ فاش کیا۔ قابل ذکر ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت درندگی اور حیوانیت کے اس ناپاک و شرم ناک عمل کا بار بار دہرا یا جانا اقلیتی مسلم طبقہ کے لئے ایک بڑا چیلنج بن کر رہ گیا ہے۔ گو کہ آصفہ عصمت دری او رقتل کیس سے قبل وادی ٔکشمیر میں وردی پوشوں نے آسیہ اور نیلوفر جیسی کتنی ہی معصوم کلیوں کو بندوق کی نوک پر اپنی ابلیسی ہوس کا شکار بنایا کہ ان سیاہ کرتوتوں کی سینکڑو ں داستانیں انسانیت کے علاوہ ہندوستانی جمہوریت کو بھی داغ داغ کر چکی ہیں اور   ظلم و بربریت کے متاثرین سالوں سے انصاف کی منتظر ہیں لیکن انصاف کے باغی ایک کے بعد ایک ایسے دل خراش واقعات دہرائے جا رہے ہیں۔اندھے قانون کے رکھوالوں سے اہل کشمیر نے آسیہ اور نیلوفر کو عدل و انصاف دینے کی دہائیاں دی تھیں ، چیخ وپکار کی تھی مگر ہو اکچھ نہیں بلکہ ظالموں کے حوصلے ا تنے زیادہ بڑھ گئے کہ انسانی شکل میں درندہ صفت ہندوتو وادیوں نے کٹھوعہ رسانہ گائوں کے ایک مندر میں آٹھ سالہ معصومکلی کو باری باری اپنی ہوس کا شکار بنا نے کے اسے دردناک موت کی نیند سلا دیا اور پھر درندگی کی ایسی ناقابل بیان داستان رقم کر دی کہ معصوم بچی کودلی کی دامنی کی مانند انصاف ملنا ابھی تک محال و جنوں بناہوا ہے۔ بے لاگ سچ یہ ہے کہ معصوم مقتولہ کے حق میں انصاف کی مانگ لئے اگر چہ ریاست سمیت ہندوستان بھر میں بڑی بڑی ہستیاں سامنے آئیں مگر بڑے بڑے سیاسی نیتا ا س معاملے میں بھی ووٹ بنک سیاست کے چلتے کھل کر مسلم دشمنی پر اترتے رہے۔ ایسے میں اگر آئے روز معصوم بچیاں درندہ صفت انسانوں کے ہوس کی شکار بنتی پھریں تو گلہ کس سے کیجئے کیونکہ سیاسی لٹیروں کو اپنے گدی نشین نتیاؤں کی گندی سوچ اور انسان دشمن پالیسی کی آشیر باد حاصل ہے۔ 
ابھی رسانہ المیہ مجاز عدالت میںزیر سماعت ہے لیکن ذرا اُدھر بھی دیکھئے کہ گزشتہ برس ماہ جنوری میں ہمسایہ ملک پاکستان کے شہر قصور میں بھی اسی طرح کا ایک شرمناک واقعہ رونما ہوا تھاجس میں زینب نامی سات سالہ بچی عمران علی نامی درندے کے ہاتھوں اپنی آبرو اور زندگی دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ پاکستان میں اس درندگی کے خلاف او زینب کے حق میں جلسے جلوس ہوئے اور وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بہت جلد مجرم کو پکڑوایا اورچند ہی ماہ کی عدالتی کارروائی کے بعدقصور وار کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا ۔ اسے کہتے ہیںعدل وانصاف جہاں مظلوموں کی داد رسی ہو تی ہے اور ظالم اک پتہ کاٹ دیا جاتاہے اور جہاں قصورواروں کو عبرت ناک سزا اس لئے دی جاتی ہے تاکہ جرم کی حوصلہ شکنی ہو تاکہ تمام لوگ آشتی وسلامتی کے ساتھ بے فکر زندگی گزار سکیں ، لیکن افسوس صد افسوس ہمارے ملک میں انصاف کی باتیں تو بہت ہوتی ہیں لیکن انصاف دئے جانے کی ایک بھی مثال کہیں نظر نہیں آتی ۔ ہزاروں ایسے معاملات عدالتوں میں دھول چاٹ رہے ہیں جن کے متاثرین نے اب انصاف ملنے کی اُمیدیں اپنی آہوں اور اپنے آنسوؤں میں مجبوراً دفن کر دی ہیں ۔ انصاف کی نایابی اور ظلم و جبر کے بڑھتے رجحانات کی ایک مثال کٹھوعہ رسانہ کاالمیہ ہے جس کے متاثرین کو آج بھی انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا رسانہ معاملہ بھی آسیہ و نیلوفر جیسی کئی معصوم کلیوں کے ساتھ پیش آئے درندگی کے واقعات کی تحقیقاتی بھول بھلیوں میں گم ہو کر رہے گا یا ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ؟ کیا ہمارے ملک ہندوستان میں انصاف مر چکا ہے، کیا یہاں انسانیت دفن ہو چکی ہے؟ کیا انصاف سیاست دانوں کا تابع ٔفرمان ہے؟ رسانہ معاملہ کو مخصوص مذہبی اور زعفرانی سیاست کی رنگت دے کر جو ننگا ناچ کھیلا گیا اُسی کا نتیجہ ہے کہ معصوم کلیاں متواتردرندگی کا شکار ہو تی ہیں۔ ایک ایسا ہی واقعہ رام بن میں حال ہی کسی درندہ صفت کے ہاتھوں ایک اور معصوم بچی کے ساتھ پیش آیا ، بتا یا جاتا ہے کہ اس بد بخت نے اپنی ہوس کا شکار بننے سے معصوم بچی حاملہ ہو گئی ۔ یہ تازہ معاملہ انسانیت کے نام پر  ایک اوربدنماداغ ہی نہیں بلکہ مجرموں کے تئیں حکومتی اداروں کی نرم روی اک شاخسانہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ اس معصومہ کے بزرگ والدین کی بے بسی کافائدہ اُٹھاتے ہوئے قریب کے چند درندوں نے کم سن بچی کوکئی ماہ تک اپنی ہوس کاشکاربنایاجس دوران وہ حاملہ ہوگئی اورصحت بگڑنے کے بعد والدین نے جب اسپتال میں اسے بھرتی کرایاتو معلوم ہوا کہ بچہ تین ماہ سے حاملہ ہے۔یہ خبر ملتے ہی والدین پرقیامت ٹوٹ پڑی۔ کم نصیب والدین کے مطابق متاثرہ بچی نے گھر کی خواتین کو یہ دردناک قصہ سنایا …’’میں پانی کے قریب گھاس کاٹ رہی تھی تواسی دوران چندافراد زبردستی مجھے گھسیٹ کرلے گئے وہاں سے تھوڑی دور لے گئی اور میرے ساتھ زیادتی کی، درندوں نے مجھے باری باری اپنی ہوس کا شکار بنایا اور پھر یہ دھمکی دے کر چلے گئے کہ اگر تم نے ا س سارے واقعے کے بارے میں کسی کو کچھ کہا تو ہم تمہاری جان لیں گے۔
اب ایک بار پھر انسانیت کو شرمسار کر دینے والایہ جگر سوز سامنے آ کرانسانی ضمیر پر ایک زورادر ہتھوڑا ماررہاہے ۔ اس تازہ المیہ کے خلاف مختلف مقامات پراحتجاجی مظاہرے ہوئے۔حسب دستور پیشہ ور سیاست کاروں کی جانب سے اس احتجاج کے حوالے سے بیان بازیوں کا سلسلہ بھی روایتی طور چلا،بالکل اُسی طرح جیسے مکار وفریب کار سیاست دان اپنی سیاسی دوکانیں چمکانے کے لئے کسی بھی ایسے اذیت ناک معاملے پر کاغذی بیان دینے میں دیر نہیں کرتے تاکہ اپنی سیاسی بھٹی گرما سکیں۔ پولیس نے کارروائی کر کے تادم تحریرسنجیو نامی ایک ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی ہے اور دیگرملزمین کو جلدگرفتاری کرنے کی یقین دہانی کرکے مظاہرین کو تو مطمئن کیا مگر اب یہ مستقبل ہی بتائے گاکہ پولیس اور اربابِ حل وعقد کیاواقعی انسانیت کے مجرموں کو سلاخوں کے پیچھے اور عدالتی کٹہرے کے آگے کر دیتے ہیں کہ نہیں۔واضح رہے آئے روز معصوم بچیوں کا درندگی کا شکار ہونااس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ مودی حکومت کی مسلم خواتین سے ہمدردی اور بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤکے دعوؤں میں رتی بھر بھی سچائی نہیںہے۔یہ’’ سب کاساتھ سب کاوکاس‘‘ نعرے کی طرح مودی حکومت کا محض ایک پروپگنڈا ہتھکنڈاہے ۔ریاستی سطح پر مودی بھگت مسلمانوں میں خوف کا ماحول بپا کرنے کے تمام ناپاک حربے آزماتے جا رہے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ جس ملک میں معصوم بچیوں کی عصمتیں لوٹنے پر سیاست کی جارہی ہو اور قصواروں کو بچانے کی ناپاک کوششیں کی جاتی ہوں، اُس ملک میں جمہوریت ، انسانیت ، شرافت کا مستقبل تاریک ہوگا ۔ وزیر اعظم بھلے ہیں چپڑی چکنی باتیں کر نے میں کمال رکھتے ہوں لیکن ’’بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچائو،تین طلاقیں قبول نہیں‘‘ سب جھوٹ کا پلندہ ثابت ہورہا ہے ، خاص کر مسلم اوردلت اقلیت کے تئیں ان میں انتہا درجے کا نفرت بھرا ہوا ہے ۔موجودہ نامساعد حالات میں ریاستی مسلمانوں کو اپنی صفوں میںا یمان پرور اتحاد پیداکرنے کی اشد ضرورت ہے ، اگر اب بھی مسلمانان ِ ریاست متحد نہ ہو سکیں تو نہ جانے ہمارے جوانوں اور ہمارے بہو بیٹیوں کو کیا دیکھنا ہوگا۔ یہ گھڑیاں مسلمانوں کے صبر واستقامت کے لئے امتحان ہیں۔ مسلمانو! اٹھویہ وقت غفلت میں سوئے رہنے کا نہیں، یہ وقت بیدار ہونے کا سمئے ہے ، آج کی مجرمانہ غفلت یا بھول چوک کل کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے ۔ کہیں شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال ؒنے ہماری اسی حالت کی پیش بینی کر تے ہوئے یہ تو نہیں کہا تھا    ؎
تیرے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
………………………
7780918848, 9797110175