آسیہ اور ساتھیوں کی ’قید تنہائی ‘ کوچیلنج کرنے کی عرضی

نئی دہلی//دہلی ہائی کورٹ نے مرکز اور جیل حکام سے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کی اُس درخواست پر جواب طلب کیا ہے جس میں آسیہ اندرابی اوراُن کی ساتھیوں کی قیدتنہائی کو چیلنج کیا گیاہے۔آسیہ اندرابی کے علاوہ اُن کی ساتھی فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین نے بھی قیدتنہائی اور مبینہ طور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجو ع کیا ہے ۔تینوں ملزمان کواس سال کے اوائل میں گرفتار کیاگیا اور فی الوقت تہار جیل میں عدالتی حراست میں بند ہیں ۔ جسٹس نجمی وزیری نے  ایڈیشنل سالسٹر جنرل (قیدخانہ جات)کے ذریعے مرکزی وزارت داخلہ اور دہلی حکومت سے عرضی پر جواب طلب کیا ہے اور اس کی شنوائی 15 جنوری کو مقرر کی گئی ہے ۔ایڈوکیٹ دھروتامتااورشارق اقبال کے ذریعے دائر عرضی میں تینوں ملزمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنہیں جیل میں بنیادی انسانی حقوق، جس میں طبی امداد بھی شامل ہے،سے محروم رکھاجارہا ہے اورانہیں ادویات اور عینک نہیں دی جاتی ہے ۔انہوں نے فوری طور قید تنہائی سے عام سیل میں منتقل کرنے اور معقول خوراک اورطبی امداد فراہم کرنے پرزوردیا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زوردیا ہے کہ عدالت جیل حکام کو ہدایات دیںکہ انہیں بھی وہی سہولیات فراہم کی جائیں جو جیل میں دیگر قیدیوں کو دستیاب ہیں ۔اندرابی اور دیگر دو کو قومی تحقیقاتی ایجنسی نے’’ انٹر نیٹ کے ذریعے نفرت آمیزتقاریر سے مبینہ طور ملک کیخلاف جنگ چھیڑنے اورجنگجوسرگرمیوں کیلئے رقومات جمع کرنے کے الزام‘‘ میں چارج شیٹ کیا ہے ۔اپنے چارج شیٹ میں قومی تحقیقاتی ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزمان ہمسایہ ملک سے حمایت حاصل کرنے کیلئے مہم چلارہی تھیں اور ان پر الزام لگایا کہ وہ بھارت کی سالمیت اور خودمختاری کوغیرمستحکم کرنے کی سازش میں ملوث ہیں ۔تینوں خواتین کیخلاف کیس اس سال اپریل میں درج کیاگیاتھا۔اندرابی اس سے قبل سرینگر کے جیل میں قید تھیں جب جموں کشمیر ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منسوخ کی۔قومی تحقیقاتی ایجنسی نے وزارت داخلہ کی ہدایت پر اس سال اپریل میں ان کے خلاف غیرقانونی سرگرمیوں کی روکتھام سے متعلق قانون 1967کے تحت کیس درج کیا۔