آسیہ اندرابی کے گھر پر این آئی اے کا چھاپہ مذموم:صحرائی

سرینگر// تحریک حریت  چیرمین محمد اشرف صحرائی نے دختران ملّت کی محبوس سربراہ آسیہ اندرابی کے گھر واقع اقبال آباد صورہ میں  این آئی اے کی طرف سے چھاپہ ڈالنے اور گھر کی باریک بینی سے تلاشی لینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے آزادی پسند قیادت کو زیر کرنے کیلئے این آئی اے کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور استعمال کیا۔ گزشتہ ایک سال سے حریت پسند قیادت کو خوف زدہ کرنے کیلئے یہ اوچھے حربے آزمائے گئے اور حریت لیڈروں کو سرینگر سے گرفتار کرکے تہاڑ جیل سے دہلی منتقل کیا گیا اور ان پر فرضی الزامات عائد کئے گئے۔ اب دختران ملّت کی سربراہ کو بھی اس سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بناکر سرینگر سینٹرل جیل سے دہلی منتقل کیا گیا۔ آسیہ اندرابی، ناہدہ نصرین اور صوفی فہمیدہ پہلے سے سرینگر سینٹرل جیل میں بند تھیں۔ صحرائی نے کہا کہ صنفِ نازک کو بھی اب ظلم وجبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ اندرابی کا پورا گھرانہ تحریک آزادی کے دوران بہت ہی متاثر رہا۔ اُن کے شوہر ڈاکٹر محمد قاسم فکتو بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور اُن کے بچے والدین کی شفقت اور رفاقت سے اس ظلم کی وجہ سے محروم ہوگئے ہیں۔ صحرائی نے ناصر عبداللہ پٹن کو پی ایس اے کے تحت کوت بھلوال جیل منتقل کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ناصر عبداللہ گزشتہ 6برسوں سے فرضی الزامات کے تحت بند ہیں۔ اُن پر لگائے گئے الزامات کی عدالت نے ضمانتیں فراہم کی ہیں، مگر پچھلے 6برسوں سے ناصر عبداللہ کو رہا نہیں کیا گیا، بلکہ کٹھوعہ، ادھمپور، کوت بھلوال، بارہ مولہ کی جیلوں میں مختلف فرضی الزامات کے تحت اُن کو بند رکھا گیا اور اب 6سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد پھر سے اُن پر پی ایس اے لگایا گیا۔ صحرائی نے اُن پر پی ایس اے لگانے کی مذمت کرتے ہوئے اُن کی رہائی پر زور دیا۔